مسلمانوں کا تخلیقی ایکٹوزم کہاں گیا؟

0
A Muslim man waves an Indian flag during a march to celebrate India’s Independence Day in Ahmedabad, India, August 15, 2016. REUTERS/Amit Dave - S1AETVOHNCAA

عمیر انس

ایک جمہوری ملک کے شہری ہونے کے ناطے ہندوستانی مسلمانوں کا حق ہے، ذمہ داری بھی اور ضرورت بھی کہ وہ اپنے بارے میں، اپنے مسائل اور اپنی فکر اور سوچ کے بارے میں پورے ملک اور دنیا کو بہتر سے بہتر طریقے سے باخبر رکھیں اور ان کی رائے کو اپنے حق میں بنائیں۔کسی زمانہ میں مسلمان اس ملک میں شعر و شاعری اور ادب کے ذریعے اس ملک کی عوامی رائے پر مثبت اثر رکھتے تھے۔ لیکن گزشتہ پچاس سالوں میں مسلمانوں کا ادب، فلم، ڈرامہ، ناول اور پورے سمعی بصری ذرائع میں ان کا اثر محدود ہوتا چلا گیا ہے۔ گزشتہ پچاس سالوں میں تخلیقی میدان میں ملکی اور بین الاقوامی سطح کے ایوارڈ اور انعامات حاصل کرنے والے مسلمان شہریوں کی تعداد بڑی مشکل سے دو چار فیصد سے زیادہ نہیں ہوئی ہے۔کیا مسلمانوں میں ذریعہ تخلیقی اظہار خیال کے مواقع استعمال کرنے کا رجحان کم ہو رہا ہے یا ان کے پاس مواقع اور پلیٹ فارمس کم ہیں یا ان کے درمیان تخلیقی صلاحیتیں ہی غائب ہورہی ہیں؟ مثال کے طور پر مسلمان تخلیق نگار یہ شکایت کرنے میں بجا تھے کہ ملک کے ٹی وی چینلز ان کے پروگراموں کو خریدنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، لیکن جب سے ایمیزن پرائم، نیٹ فلکس اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز مقبول ہوئے ہیں، سارے مین اسٹریم تخلیق نگار بھی اُدھر کا رخ کر رہے ہیں لیکن نیٹ فلیکس جیسے پاپولر پلیٹ فارمس سے اگر کوئی غائب ہے تو وہ مسلمان تخلیق نگار ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں نے ساری تخلیق ڈاکٹر ذاکر نائک، ڈاکٹر اسرار اور جناب جاوید غامدی صاحبان کے مذاکرے سننے کو سمجھ لیا ہے۔یہ کیوں ضروری ہے کہ ہم صرف مذہبی موضوعات پر ہی اپنے آپ کو ظاہر کریں جبکہ سبھی انسانی موضوعات پر اظہار خیال کرنا ان کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنا کسی غیر مسلم کی۔مدارس اسلامیہ نے تو خیر قسم کھا رکھی ہے کہ وہ دنیا کہ ہر نئی ایجاد اور تخلیق کو پچاس پچیس سال تاخیر سے استعمال کرنا شروع کریں گے، آخر کیا وجہ ہے کہ مدارس اسلامیہ آج تک سوشل میڈیا کے استعمال میں سب سے پسماندہ ہیں، ان کے یوٹیوب چینلز کی حالت دیکھیں کتنی بدحال ہے، حالانکہ سوشل میڈیا مدارس اسلامیہ کے لیے ایک انقلابی موقع سے کم نہیں ہے، معمولی ٹریننگ کے ذریعہ بہت بڑی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، کیا وجہ ہے کہ مدارس کے طلبا بھی شعر و شاعری کا عمدہ ذوق رکھنے کے باوجود عوامی سطح پر اپنی شاعرانہ صلاحیت سے ملکی سطح پر اثر انداز ہونے میں پیچھے رہ جاتے ہیں، اسلامی مجلّوں، رسالوں اور مدارس کی ثقافتی سرگرمیوں میں تخلیقی وسائل کے استعمال کی تربیت اور ان کے بہتر استعمال کی رہنمائی کا فقدان ایک حقیقت ہے، دو سال پہلے دہلی کے جسٹ میڈیا گروپ نے ایک بڑا شاندار سوشل میڈیا ٹریننگ کا پروگرام کیا تھا۔جس میں نوجوانوں کو سوشل میڈیا استعمال کی ٹریننگ دی گئی تھی، اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے زیادہ تر وہ تھے جوباقاعدہ میڈیا کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے تھے لیکن آج وہ اپنے اپنے سوشل میڈیا میں پہلے سے زیادہ بہتر اور موثر طریقے سے اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔ اس طرح کے پروگرام سبھی مدارس میں ہونے چاہیے تھے۔ہر مدرسے کا اپنا چینل ہوتا اور سوشل میڈیا پر اچھا اثر ہوتا۔
مسلمان تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال میں کیوں پیچھے رہ گئے ہیں، اس کی ایک وجہ شاید ہماری ملت کا تخلیقی صلاحیتوں کے سلسلے میں منفی رجحان ہے۔ ہمارے مزاج میں تخلیقی صلاحیت مشاعروں اور افسانوں پر تمام ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دینی جماعت نے 2013میں سوشل میڈیا پر ایک ورکشاپ منظم کی تھی ، میں جس میں بھی بن بلائے پہنچ گیا تھا۔میں عرب بہاریہ میں سوشل میڈیا کے استعمال پر دو تحقیقی مقالے شائع کر چکا تھا۔مجھے لگا شاید ان باتوں کو ان کی مجلس میں بتاؤں گا تو انہیں بھی فائدہ ہوگا۔ لیکن جیسے ہی عرب بہاریہ میں سوشل میڈیا کے کامیاب استعمال پر ایک دو منٹ کی گفتگو کی، ان کے ایک انجینئر سکریٹری نے مجھے گفتگو سے روک دیا۔کہنے لگے ان باتوں کی انہیں ضرورت نہیں ہے۔ان کی بات صحیح تھی کہ ان کے پاس آئی ٹی پروفیشنل کی ایک بڑی فوج ہے لیکن میں نے عرض کیا کہ سوشل میڈیا میں تکنیک کے علاوہ افکار اور خیالات کی پیشکش بھی بہت اہم ہے۔ اس تجربے نے بتایا کہ مسلمانوں کے بڑے حلقوں میں سوشل میڈیا کا مطلب صرف کمپیوٹر سائنس کی مہارت ہے۔ سوشل سائنس اور سماجی مسائل کی فہم پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ہندوستان کے سوشل میڈیا کے سبھی پلیٹ فارمس کے 100 سب سے مقبول لوگوں میں مسلمان ناموں کی لسٹ آپ ابھی گوگل سے تلاش کرکے دیکھ لیں۔جو ہیں وہ صرف اور صرف اپنے حلقوں اور مریدوں کے درمیان مقبول ہیں۔ایسے مسلمان جو غیر مسلم سوشل میڈیا میں بھی خوب خوب مقبول ہوں، بہت ہی کم ہوں گے۔یہ بات مسلمانوں کے لیے فائدے مند نہیں ہے۔ آپ اس ملک کے سوشل میڈیا پر اسی طرح سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتے جیسے آپ اپنے محلوں میں رہتے ہیں۔سوشل میڈیا صرف سیاسی، سماجی مستقبل نہیں بلکہ تجارتی اور معاشی ترقی کے لیے بیحد اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ایک بار میں نے ندوۃ العلماء کے احباب میں مہم چلائی کہ مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی تحریک پیام انسانیت کی اہم تقاریر کے اجزا سوشل میڈیا پر خوبصورتی سے ہندی اور دیگر زبانوں میں پیش کیے جائیں۔لیکن وہ بھی تقریباً ناکام کوشش رہی۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہندوستانی سوشل میڈیا میں مسلمانوں کی نمائندگی میں کمی کے ذمہ دار وہ خود اور ان کے ادارے ہیں اور اس کو درست کرنے کی ذمہ داری بھی ان کی ہے اور اس کا آسان طریقہ بس یہ ہے کہ سبھی حلقے اپنے اپنے درمیان سوشل میڈیا کے موثر استعمال کی ٹریننگ دیں اور اچھی اسکرپٹ سے لے کر بہتر گرافک ڈیزائن، ویڈیو سمیت سبھی طریقوں سے سوشل میڈیا میں حصہ لیں۔
جب شاہین باغ تحریک چلی تھی توکتنے نوجوان اپنی شاعری، ترانوں، وال پینٹنگ، طنز و مزاح وغیرہ سے بہت مشہور بھی ہوئے تھے اور اپنی بات کو مؤثر طریقے سے پہنچانے میں کامیاب ہوئے تھے، مسلمانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار ناولوں، کہانیوں، دیگر نان فکشن کتابوں کے ذریعے بھی ہوتا رہا ہے لیکن ہندوستانی مسلمان ان سبھی تخلیقی ذرائع کے استعمال میں غیر مسلم شہریوں کے تناسب میں کافی پیچھے ہیں، یقینا اس میں تعلیم کی کمی کا بھی اثر ہے لیکن زیادہ اہم بات ہمارے درمیان تخلیقی طریقوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی نہیں کرنے کا ماحول ہے۔ ایک مسلمان شہری اپنے ماحول کا جن جذبات اور احساسات سے مشاہدہ کرتا ہے، وہ اس ملک اور اس کے شہریوں کے لیے تجربہ کرنا بے انتہا ضروری ہے، مسلمانوں کے خلاف جس قسم کا خطرناک نفرت کا ماحول فروغ دیا جاچکا ہے اور یہ نفرت جس طرح سے گہری ہورہی ہے، اس کو محض ایکٹوسٹ نقطہ نظر سے، محض سیاسی نقطہ نظر سے یا محض قانونی نقطہ نظر سے درست نہیں کیا جا سکتا۔آپ سارے مقدمے بھی جیت لیں اور فرقہ پرست جماعتیں انتخابات بھی ہار جائیں لیکن اس کے باوجود ملک کے شہریوں کے مسلمانوں کے تئیں احساسات اور جذبات کو نارمل بنانے کے لیے ایک طویل وقت اور ہمہ جہت کاوش درکار ہے۔اسی لیے یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ جس طرح سے مسلمانوں کی معاشی بہتری کے لیے زیادہ سے زیادہ ڈاکٹر، انجینئر، پروفیشنل تیار کرنا ضروری ہے اور جس کی طرف مسلمان تنظیمیں پہلے سے زیادہ متوجہ ہو گئی ہیں، اسی طرح سے مسلمانوں کے سلسلے میں پھیلی ہوئی نفرت اور کراہیت کا علاج سوفٹ پاور یا جذبات کو درست کرنے والے تخلیقی اظہار سے ممکن ہے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS