دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے

0
A Muslim man waves an Indian flag during a march to celebrate India’s Independence Day in Ahmedabad, India, August 15, 2016. REUTERS/Amit Dave - S1AETVOHNCAA

شاہد زبیری
آر ایس ایس کے تربیت یافتہ اس کے سینئر لیڈر ،بی جے پی کے سابق قومی جنرل سیکریٹری اور کشمیر کے پارٹی امور کے سابق ذمّہ داراور لائق فائق شخصیت رام مادھو کا ایک بیان جو گزشتہ دنوںانہوںنے انڈونیشیا کے بالی شہر میں G-20کی عالمی سطح کی مذہبی کانفرنس کی اختتامی تقریب میں دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنا ئے جا نے کا الزام غلط ہے ، یہ کہ ہندوستان تمام مذاہب کا گھر ہے جہاں ایک سو اسّی ملین مسلمان بستے ہیںجو سب سے زیادہ مسلم آبادی والا دوسرا یا تیسرا ملک ہے یہ کہ یہاں مسلمان صدر نائب صدر اور چیف جسٹس جیسے باقار عہدوں پر فائز رہے ہیں جس کااقلیتوں کے حوالہ سے ہم دوسرے ممالک میں مشاہدہ نہیں کرتے ۔اس بیان میں رام مادھو نے یہ بھی پیش گوئی کی ہے کہ 2050تک ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی کا حامل ملک ہو گا ۔ان کا یہ بیان ان دنوںنیوز پورٹل مسلم میرر (Muslim mirror) کے حوالہ سے سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے ۔
رام مادھو کا یہ بیان کچھ حقائق کا اظہار اور کچھ حقائق کی نفی کرتا ہے ۔ ہم تاریخ میں جھانکے بغیر اور اسکی تفصیل میں جائے بغیر یہ اعتراف کرتے ہیں ہے کہ ملک کی آزادی اور مذہب کے نام پر ملک کی تقسیم کے انسانیت سوز سانحہ کے بعد بھی ملک میں صدر ،نائب صدر اور چیف جسٹس جیسے ذی وقار عہدوں پر مسلم اقلیت کی شخصیات فائز کی جاتی رہی ہیں محترم حامد انصاری نائب صدر کی حیثیت سے آخری شخصیت تھے ۔ ایسے باوقار مناصب میں قومی ا لیکشن کمیشن کے چیر مین اور ملک کی اہم خفیہ ایجنسی انٹیلی جینس بیورو (IB) کے چیف جیسے اہم عہدہ کا بھی اضافہ کرلیں۔قومی الیکشن کمیشن کے منصب پر ایس وائی قریشی اور آئی بی کے چیف کے اہم عہدہ پر آصف ابراہیم جیسی شخصیات فائز رہی ہیں یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہو سکا کہ جدید ہندوستان کے معماروں نے ملک کو پاکستان کی طرح مذہبی اسٹیٹ کے بجا ئے ایک جمہوری اور سیکولر اسٹیٹ کے سانچہ میں ڈھالا ملک کو ایک جمہوری اور سیکولر آئین دیا ۔ہر چند کے صدر ،نائب صدر ،چیف جسٹس اور قومی الیکشن کمیشن کے چیر مین اور آئی بی چیف کا تعلق مسلم اقلیت سے رہا ہے لیکن کیا سچ نہیں کہ آزادی کے فوری بعد سے پا کستان کے قیام کے ناکردہ گناہ کی پاداش میں مسلم کش فسادات کی مار ، ،دہشت گردی کے الزامات میں زنداں کی کوٹھریوں میں بوڑھی ہوتی جوانیاں ،دینی مدارس پر حکو متوں کا شکنجہ اور دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور نرسری بتا کر مدارس پر بلڈوزروں کا استعمال ،اخلاق ،تبریز، جنید اور پہلو خان جیسے مظلوموں کی دلدوز سچی کہا نیاں،ذکیہ جعفری اور بلقیس کی دل دہلا دینے والی داستانیں،دھرم سنسد میں مسلمانوں کے قتل عام کے شرمناک بیانا ت، مساجد کو مندر بنائے جانیکی مہم ، تعلیمی اداروں میںلڑ کیوں کو بے حجاب کرنے کی کوششیں۔ کیا یہ سب ظلم و ستم کے دائرہ یا زمرہ میں نہیں آتے۔ یہ تو وہ حقائق ہیں جو منظرِ عام پر آچکے ہیں آخر اس کیلئے کون ذمّہ دار ہے ۔ابھی یو پی کے کھتولی ضلع کے بی جے پی کے دوسری مرتبہ ممبر اسمبلی بننے والے وکرم سینی کو سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایم پی اور ایم ایل اے کورٹ نے نفرت انگیز بیانات کے جرم میں دو سال کی سزا سنائی ہے جس کے سبب ان کی اسمبلی کی رکنیت ختم ہوگئی ہے ۔5نومبر کے ایک ہندی روزنامہ کے مطابق بی جے پی ممبر اسمبلی وکرم سینی نے مظفر نگر کے 2013کے فسادات کے موقع پر کوال گا ئوں کا پردھان ہوتے ہوئے جونفرت انگیز بیان دیا تھا اس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان ہندئووں کا ہے ،کچھ نالائق نیتائوں نے داڑھی والوں کو یہاں روک لیا تھا، جواہر لعل نہرو تو عیاش تھا ،انگریزوں کے چکر میں جس نے دیش کا بٹوارا کرا دیا تھا ،جو گائے کو ماتا نہیں مانتے ان کے ہاتھ پائوں توڑ دیں گے ۔ ان نفرت انگیز بیانات کو انتہا پسند ،جارح اور سخت گیر عناصر اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے کا کامیاب حربہ سمجھتے ہیں اور اس نسخہ کو استعمال کر کے مرکز میں وزیر اور ریاستوں میں وزیرِ اعلیٰ، نائب وزیرِ اعلیٰ اور وزیرداخلہ کی کرسی تک پہنچ گئے ہیں مرکز میں وزیر انوراگ ،آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہیمنت بسواسرما،یو پی کے نائب وزیرِ اعلیٰ برجیش پاٹھک اور مدھیہ پردیش کے وزیرِ داخلہ نروتم مشرااسکی چند مثالیں ہیںان کے نفرت انگیز اور مسلم مخالف بیانات ریکارڈ پر ہیں جن کو یہاں دہرا نے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح کے الزامات تو یو پی کے وزیرِ اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی پر بھی لگتے رہے ہیں ۔80-20کا سیاسی فارمولہ ان سے ہی منسوب کیا جا تا ہے ۔
یہ اور ایسی کتنی مثالیں دی جا ئیں، نفرت انگیز واقعات اور دلخراش باتیں گنوائی جا ئیںجو اس جنت نشاں ملک ہندوستان کے وقار اور اس کی جمہوری اور سیکو لر شبہ کو عالمی سطح پر مجروح کررہی کر رہیں اور ہماری رسوائی کا باعث بن رہی ہیں،انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل کی 2022کی حالیہ رپورٹ ہو ،یا پینل آف انڈیپینڈنٹ انٹر نیشنل ایکسپرٹ کی 2022کی رپورٹ ،ٹائم میگزین کی رپورٹ 2021اور این ڈی ٹی وی ریسرچ کی رپورٹ 2018 ۔یہ سب رپورٹیں بلا شبہ ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں پر ہو نے والے ظلم و ستم کے شواہد پیش کر نے کا دعویٰ کر تی ہیں۔ گا ہے بگا ہے ان رپورٹوں کو بطور ثبوت بھی ملک اور بیرون ملک پیش کیا جا تا رہا ہے جس سے ہندوستان اور ہندوستانی قوم دنیا بھر میں بدنام ہورہی ہے ۔اگرسنگھ کے سینئر لیڈر اور بی جے پی کے قو می جنرل سیکریٹری رام مادھو ان رپورٹوں کوجھٹلاسکیں ،ان کے جھوٹ کو بے نقاب کرسکیں تو یہ ہندوستان پر ایک عظیم احسان ہو گا اور دنیا کی نظروں میں جس خفت کا سامنا ہمیں کر نا پڑ رہا ہے اور جو شرمندگی اٹھا نی پڑرہی ہے اس سے بھی چھٹکارا مل سکے گا ۔یہ دیش بھگتی کا بھی تقاضہ ہے کہ مذہبی اقلیتوں پر ظلم وستم کے حوالہ سے جو پرو پیگنڈہ ملک اور بیرونِ ملک عالمی سطح ہماری بدنامی کا باعث بن رہا ہے اس کی حقیقت دنیا کے سامنے آئے ۔کیا یہ کام رام مادھو جی یا سنگھ پریوار اور بی جے پی کر پائیں گے یہاں تو حال یہ ہے کہ بی جے پی نعرہ تو کانگریس مکت بھارت کا دے رہی ہے بھارت کانگریس مکت ہوگا کہ نہیں لیکن بی جے پی نے بھارت کی سنسد کو مسلم مکت کر دیا ہے۔ اور ملکی سیاست میں 80-20کا کھیل ،کھیل رہی ہے اور وہ یہ بھول گئی ہے کہ یہ کھیل زیادہ دن تک چلنے والا نہیں اس لئے کہ نفرت کسی بھی سطح پر ہو ،نفرت نہ اس ملک کے خمیر میں شامل ہے نہ مٹّی میں ۔ ہمیں خدا کی ذات پر یقین ہے کہ نفرت ،عداوت اور فرقہ واریت کی جو گرم ہوائیں ملک میںچل رہی ہیں وہ بادِ محبت میں ضرور بدلیں گی اورپریم کی شبنم ہمیں ٹھنڈک کا احساس کرائے گی۔ بقول علّامہ اقبالؒ
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS