پروفیسر نیلم مہاجن سنگھ: جی-20سربراہ اجلاس اور نریندر مودی

0
Nusa Dua: U.S. President Joe Biden, right, shakes hands with India's Prime Minister Narendra Modi before the Partnership for Global Infrastructure and Investment meeting at the G20 summit, Tuesday, Nov. 15, 2022, in Nusa Dua, Bali, Indonesia.AP/PTI Photo (AP11_15_2022_000170A)

پروفیسر نیلم مہاجن سنگھ
ہندوستان نے جی-20اجلاس میں اپنے نہ مٹنے والے اثرات چھوڑے ہیں۔ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے وزیراعظم نریندر مودی کے لیے پہلے سے ہی تیاریاں کرلی تھیں۔ جی-20ملکوں کے لیڈروں دنیا کی سب سے ترقی یافتہ معیشتوں کے 17ویں چوٹی اجلاس کے لیے بالی انڈونیشیا کے مشہور سیاحتی مرکز کو منتخب کیا تھا۔ جی-20 تنظیم پوری دنیا کا کل گھریلو پیداوار(جی ڈی پی)کے 85فیصد عالمی تجارت کا 75اور پوری دنیا کی آبادی کے 66فیصد کی نمائندگی کرتی ہے جبکہ کورونا کی وبا کے بعد اور یوکرین میں روسی جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی اور غذائی بحران سے نمٹنے کی طرف دھیان مبذول کرایا گیا ہے۔ کچھ لیڈروں کی غیر موجودگی خاص طورسے روسی صدر ویلادیمیر پوتن کی کمی محسوس کی گئی۔ انہوںنے پہلے تو انڈونیشیا کے میزبان صدر جو کو وڈووڈو کی دعوت کو قبول کرلیاتھا لیکن پھر جیسا کہ یوکرین کے ساتھ جنگ چل رہی ہے اس لیے روس کی نمائندگی کرنے کے لیے اپنے وزیر خارجہ سرگوئی لاروف کو بھیج دیا۔
کیا تھا اس سربراہ کانفرنس کا ایجنڈا؟
اس جی-20کا ایک آئیڈیل سلوگن ہے۔ ایک ساتھ اپنے قدموں پر کھڑے ہو اور مضبوط ہوجائو۔ صدر جو کو وی نے سربراہ کانفرنس میں جغرافیائی کشیدگی کے باوجود کورونا وبا سے ابھرنے پر خاص طور پر توجہ مبذول کرائی۔ عالمی لیڈروں نے تین اہم ایشوز پر گفتگو کی ہے۔ غذا اور توانائی ، سیکورٹی، عالمی بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے لیے صحت مند شراکت داری اور ڈیجیٹل تبدیلیاں اہم رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے ایشوز پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی گئی تھی۔ جو کو وی اپنے مہمانوں کو خوش کرنے کے لیے ریاست تامن ہوتن رایا کے ایک گائوں کے مینگرائو میں لے گئے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے جی-20تنظیم کی صدارت کے طور پر آنے والے سال کے لیے ایجنڈا بتایا۔ جس میں گلوبل سائوتھ پر خاص طور پر توجہ مبذول کرائی جائے گی۔ جغرافیائی اور سیاسی کشیدگیوں اور غذائی اجناس اور ایندھن کی کمی کی وجہ سے سامنے آنے والی مشکلات کی طرف اس کا دھیان مبذ ول کرایاگیا۔ کیا وجہ ہے کہ جی-20کو دوسروں سے الگ سمجھا جاتا ہے۔
روس کے ذریعہ یوکرین میں جنگ شروع کرنے اور مغرب کے ذریعہ (ناٹو)روس پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد دنیا کے لیے یہ پہلا جی-20 سربراہ اجلاس تھا۔ دنیا کو واضح طور پر تقسیم کرنے والے ایشوز پر اتفاق رائے بنانے کے لیے کوششیں کی گئیں۔ ہندوستان کے لیے دنیا کی سب سے ترقی یافتہ معیشتوں کے چوٹی اجلاس کی اہمیت ہے کہ اگلے چوٹی اجلاس کی میزبانی ہندوستان کرے گا۔ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کو انڈونیشیا کے صدر جوکو ویوڈوڈو سے ذمہ داری منتقل ہونے کا چارج ملا۔ جس کے بعد ہندوستان یکم دسمبر کو اس بڑے بلاک کی صدارت اختیار کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ دوسری بار ہورہاہے کہ جب چین کے صدر شی جن پن نے کوووڈ با کے بعد سے غیر ملکی سفر کیا ہے۔ ان کو پچھلے ماہ ہی چین کی کمیونسٹ پارٹی کادوبارہ صدر چن لیا گیا ہے۔
بالی کے چوٹی اجلاس میں ارجنٹینا ، آسٹریلیا ، کناڈا، چین، یوروپی یونین، فرانس، جرمنی، اٹلی ،جاپان، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا، ترکی، برطانیہ ، امریکہ اور اسپین کے لیڈروں نے حصہ لیا۔ مدعوں ملکوں میں کمبوڈیا ،فیجی، نیندر لینڈ، روانڈا، سینگل ، سنگاپور، سورینام اور یوای ای کے لیڈر بھی شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ، آئی ایم ایف آسیان، افریقی یونین جیسی کئی بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہ 2022 کے چوٹی اجلاس میں شرکت کررہے ہیں۔
اس موقع پر انڈونیشیا کے صدر نے یوکرینی صدر کو اس اجلاس کو خطاب کرنے کے لیے بھی مدعو کیا تھا۔ جبکہ روسی صدر پوتن اور میکسیکو اور برازیل کے لیڈر اس چوٹی اجلاس میں شامل نہیں ہوئے۔ اس اجلاس میں سبھی کی نگاہیں لیڈرو ںکی آپسی ملاقات پر مرکوز رہی تھیں جس میں جو بائیڈن ، شی ملاقات دونوں ملکوں کے سربراہان کی ملاقات اس وقت ہوئی جب امریکہ ، چین کے درمیان کشیدگی نقطۂ عروج پر ہے۔ جبکہ نہ تو دہلی نہ ہی بیجنگ نے مودی ، شی کے درمیان ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ اپریل 2020میں لائن آف ایکچول(ایل اے سی) کنٹرول پر فوجی سرگرمیوں کے بعد سے دونوں لیڈروں کے درمیان کوئی بھی باقاعدہ بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ اپنے ملکوں کے سربراہوں کے طور پر پہلی بار حصہ لینے والے لیڈروں میں برطانیہ کے وزیراعظم رشی سنک ، اطالوی وزیراعظم جارجیہ میلونی ، آسٹریلیائی وزیراعظم انتھنی البنیز ، یو اے ای کے صدر محمد بن زیاد النہیان، سودی عرب کے وزیراعظم اور ولی عہد محمد بن سلمان (ایم بی ایس) شامل تھے۔ 1999میں گروپ -7جس کو پہلے گروپ-8اور اس کے علاوہ بڑے گروپ آرگنائزیشن فار آرگنائزیشن فار یوروپین اکنامک کوآپریشن (او ای ای سی)جیسے گروپ معرض وجود میں آئے اور دنیا میں تعاون اور ترقی کے امور پر اتفاق کیا گیا۔ جی-20کا تصور بھی اس مقصد کے تحت کیا گیا۔
سوویت یونین کے زمانے کے ایک اور ایک قطبی مغربی معیشتوں نے ترقی اور تعاون کے کئی اصول مرتب کیے ہیں۔ اس وقت چین ہی آگے بڑھ رہا تھا اور روس اپنے انتشار کے بعد اپنی پوزیشن بچانے کا کوشش کررہاتھا۔ پچھلی دو دہائیوں میں عالمی معیشت بالکل بدل گئی ہے اور جی-20 کو زیادہ آبادی اور وسائل نمائندگی کرنے خوش حال گروپ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ عالمی ، اقتصادی بحران اور بینکنگ نظام کے بکھرنے کے بعد عالمی معیشت کو چلانے میں یہ گروپ خاص طور پر موثر ثابت ہوا تھا۔
غور طلب ہے کہ اگلے سال جی-20کا میزبان ہندوستان برازیل کے ساتھ پہلی بار بھرتی ہوئی معیشتوں سے بنا جو عالمی اقتصادی ایجنڈا میں گلوبل سائوتھ کی طرف تبدیلی کے اشارے کررہا ہے۔ آخر کار یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس طرح کے عالمی اجلاس میں لیے گئے فیصلے عالمی معیشت کوفروغ دینے میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں اور سبھی ممالک کے لیے یہ ضروری ہوجاتاہے کہ ان کی ہاں میں ہاں ملائے۔ ویسے بھی بین الاقوامی لیڈروں کے ملنے سے مذاکرات اور مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے جی-20ملکوں کی اہمیت اور تعاون کافی اہمیت کی حامل ہے۔
(مضمو ن نگار سینئر صحافی اور سالیٹسر برائے انسانی حقوق ہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS