پنکج چترویدی: پرالی جلانے میں کسان کی مجبوری کا حل تلاش کریں

0
Amritsar: A farmer burns paddy stubble at a farm on the outskirts of Amritsar, Thursday, Nov 11, 2021. The pollution and haze around the adjoining states of Punjab and Haryana, especially New Delhi has been linked with stubble burning and is said to be a contributing factor for increasing air pollution. (PTI Photo)(PTI11_11_2021_000154A)

پنکج چترویدی

گزشتہ سال کئی کروڑ کے اشتہارات چلائے گئے جس میں کسی ایسے گھول کا ذکر تھا، جس کے ڈالتے ہی پرالی غائب ہوجاتی ہے اور اسے جلانا نہیں پڑتا لیکن جیسے ہی موسم کا مزاج سرد ہوا جب دہلی-این سی آر کے پچاس ہزار مربع کلومیٹر علاقہ کو اسموگ نے ڈھک لیا تھا۔ اس بار بھی اشون کا مہینہ گزرتے ہی کارتک کا مہینہ لگا کہ ہریانہ- پنجاب سے پرالی جلانے کی خبریں آنے لگیں۔ حالاں کہ اس بار ہریانہ، پنجاب اور اترپردیش، ہر حکومت اعداد و شمار میں یہ دکھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ گزشتہ سال کی بہ نسبت اس بار پرالی کم جلی لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس بار دہلی نومبر کے پہلے ہفتہ میں ہی گریپ4کی گرپ میں تھی۔ اس بار ایک تو موسم کی بے قاعدگی اور اوپر سے گزشتہ الیکشن میں پرالی جلانے والے کسانوں کے خلاف فوجداری مقدمات کو واپس لینا ایک سیاسی وعدہ بن جانا۔ جب ریواڑی ضلع کے دھاروہیڈا سے غازی آباد کے مراد نگر تک کا ہوا کے معیار کا انڈیکس450سے زیادہ تھا تو معاملہ سپریم کورٹ میں گیا اور پھر سارا الزام پرالی پر عائد کردیا گیا۔ تاہم اس بار عدالت نے اس بات سے اختلاف کیا تھا کہ کروڑوں لوگوں کی سانس گھوٹنے والی آلودگی کی وجہ محض پرالی جلانا ہے۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2018سے 2020-21کے دوران پنجاب، ہریانہ، اترپردیش اور دہلی کو پرالی کے مسئلہ سے نمٹنے کے لیے کل 1726.67کروڑ روپے جاری کیے تھے، جس کا سب سے زیادہ حصہ پنجاب کو 793.18کروڑ دیا گیا۔ المیہ ہے کہ اسی ریاست میں 2021 میں پرالی جلانے کے71,304واقعات ریکارڈ کیے گئے، حالانکہ یہ گزشتہ سال کے مقابلے کم تھے لیکن ہوا کو زہریلا بنانے کے لیے کافی تھے۔ واضح رہے کہ پنجاب میں 2020 کے دوران پرالی جلانے کے76590واقعات سامنے آئے، جب کہ گزشتہ سال2019میں ایسے52991واقعات ہوئے تھے۔ ہریانہ کے اعداد و شمار بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ معاشی امداد، کیمیائی محلول، مشینوں کے ذریعہ پرالی کو ٹھکانے لگانے جیسے تجربات جتنے سادہ اور دلکش لگ رہے ہیں، کسانوں کووہ اپنی طرف متوجہ نہیں کررہے یا ان کے لیے فائدہ مند نہیںہیں۔
اس بار تو بارش کے دو طویل دور-ستمبر کے آخر اور اکتوبر میں آئے اور اس سے پنجاب اور ہریانہ کے کچھ حصوں میں دھان کی کٹائی میں ایک سے دو ہفتے کی تاخیر ہوئی ہے، یہ اشارہ ہے کہ اگلی فصل کے لیے اپنے کھیت کو تیار کرنے کے لیے کسان وقت کے برعکس تیزی سے بھاگ رہے ہیں، وہ مشین سے باقیات کو ٹھکانے لگانے کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ باقیات کو آگ لگانے کو ہی سب سے آسان طریقہ سمجھ رہے ہیں۔ کنسورٹیم فار ریسرچ آن ایگرو ایکوسسٹم مانیٹرنگ اینڈ ماڈلنگ فرام اسپیس کے اعداد و شمار کے مطابق باقیات کو جلانے کے 9 واقعات 8اکتوبر کو ،تین9 اکتوبر کواور10اکتوبر کو چار واقعات پیش آئے۔ پنجاب اور ہریانہ میں بادل چھٹنے کی وجہ سے11اکتوبر کو کھیت میں آگ لگنے کی تعداد بڑھ کر 45اور12اکتوبر کو104ہوگئی۔ پرالی جلانے کی خبریں اترپردیش سے بھی آنے لگی ہیں۔
کسانوں کا موقف ہے کہ پرالی کو مشین کے ذریعہ تلف کرنے پر فی ایکڑ کم از کم پانچ ہزار روپے کا خرچ آتا ہے۔ پھر اگلی فصل کے لیے اتنا وقت نہیں ہوتا کہ گیلی پرالی کو کھیت میں پڑے رہنے دیں۔ خیال رہے کہ ہریانہ-پنجاب میں قانون ہے کہ دھان کی بوائی10جون سے پہلے نہیں کی جاسکتی ہے۔ اس کے پیچھے تصور ہے کہ زمینی پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے مانسون شروع ہونے سے پہلے دھان کی بوائی نہ کی جائے کیونکہ دھان کی بوائی کے لیے کھیت میں پانی بھرنا ہوتا ہے۔ چونکہ اس کی تیاری میں 140دن لگتے ہیں، پھر اسے کاٹنے کے بعد گیہوں کی فصل لگانے کے لیے کسانوں کے پاس اتنا وقت ہوتا ہی نہیں ہے کہ وہ فصل کے باقیات کا نمٹارہ حکومت کے قانون کے مطابق کرے۔ جب تک ہریانہ-پنجاب میں دھان کی فصل کا رقبہ کم نہیں ہوتا، یا پھر کھیتوں میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ٹینک نہیں بنائے جاتے اور اس پانی سے دھان کی بوائی 15مئی سے کرنے کی اجازت نہیں ملتی، پرالی کے بحران سے نجات نہیں ملے گی۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی، اتکل یونیورسٹی، نیشنل ایٹموسفیئر ریسرچ لیب اور سفر کے سائنسدانوں کے ایک مشترکہ گروپ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اگر خریف کی بوائی ایک ماہ پہلے کرلی جائے تو دارالحکومت کو پرالی کے دھویں سے بچایا جاسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر ایک ماہ قبل کسان پرالی جلاتے بھی ہیں تو ہوائیں تیز چلنے کے سبب ہوا میں گھٹن کے حالات نہیں ہوتے اور ہوا کی رفتار میں یہ دھواں بہہ جاتا ہے۔ اگر پرالی کا جلنا اکتوبر-نومبر کے بجائے ستمبر میں ہو تو اسموگ ہی نہیں ہو گا۔
کسانوں کا ایک بڑا طبقہ پرالی کو تلف کرنے کی مشینوں پر حکومت کی سبسڈی اسکیم کو دھوکہ مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرالی کو تباہ کرنے کی مشین بازار میں 75ہزار سے ایک لاکھ میں دستیاب ہے، اگر حکومت سے سبسڈی لو تو وہ مشین ڈیڑھ سے 2لاکھ کی ملتی ہے۔ ظاہر ہے کہ سبسڈی ان کے لیے بے معنی ہے۔ اس کے بعد بھی مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہی ہے۔ پنجاب اور ہریانہ دونوں ہی حکومتوں نے گزشتہ کچھ برسوں میں پرالی کو جلانے سے روکنے کے لیے سی ایچ سی یعنی کسٹم ہائیرنگ سینٹر بھی کھولے ہیں۔ آسان زبان میں سی ایچ سی مشین بینک ہے، جو کسانوں کو مناسب داموں پر مشینیں کرائے پر دیتی ہیں۔
کسان یہاں سے مشین اس لیے نہیں لیتے کیوں کہ ان کا خرچ ان مشینوں کو کرائے پر لینے سے فی ایکڑ 5,800سے 6,000روپے تک بڑھ جاتا ہے۔ جب حکومت پرالی جلانے پر 2500روپے کا جرمانہ لگاتی ہے تو پھر کسان 6000روپے کیوں خرچ کریں گے؟ یہی نہیں ان مشینوں کو چلانے کے لیے کم سے کم 70-75 ہارس پاور کے ٹریکٹر کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی قیمت تقریباً 10لاکھ روپے ہے، اس پر بھی ڈیژل کا خرچ الگ سے کرنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسانوں کو پرالی جلاکر جرمانہ دینا زیادہ سستا اور آسان لگتا ہے۔ وہیں کچھ کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے گزشتہ سال پرالی نہ جلانے پر معاوضہ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ہم اب تک پیسوں کا انتظار کررہے ہیں۔
بدقسمتی ہے کہ پرالی جلانا روکنے کے لیے ابھی تک جو بھی منصوبے بنائے گئے، وہ مشینی تو ہیں، لیکن انسانی نہیں، کاغذوں- اشتہارات میں تو پرکشش ہیں لیکن کھیت میں عملی نہیں۔ ضرورت ہے کہ مائیکرو لیبل پر کسانوں کے ساتھ مل کر ان کے عملی مسائل کو سمجھتے ہوئے ان کے حل کے لیے مقامی طریقے تلاش کیے جائیں، جس میں دس دن کم وقت میں تیار ہونے والی دھان کی مختلف اقسام کی حوصلہ افزائی کی جائے،دھان کے رقبہ کو کم کرنا، صرف ڈارک زون سے باہر کے علاقوں میں دھان کی بوائی کی اجازت دینا وغیرہ شامل ہیں۔ مشینیں کبھی بھی ماحولیات کا متبادل نہیں ہوتیں، اس کے لیے خود کو کنٹرول کرنا ہی واحد حل ہوتا ہے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS