ماحولیاتی آلودگی: سائنس دانوں کی بعض فاش غلطیوں کا شاخسانہ

0

عبدالسلام عاصم

فطری وسائل کے بہتر اور مثبت استعمال کا دائرہ وسیع کرنے کیلئے انسانی وسائل کو بروئے کار لانے کے رخ پر ذہنی مشق کا سلسلہ ابتدائے آفرینش سے جاری ہے۔ علم نے اسی سفر کو ارتقاء کا سفر قرار دیا جس سے اتفاق کرنے والوں نے اس کارواں کو فی زمانہ نئی منزلوں سے ہم کنار کیا۔ دوسری طرف اختلاف کرنے والے جامد ذہنوں کا سفر آج بھی معکوس رخ پر جاری ہے اور دنیا کے بیشتر تصادمات کا تعلق اسی اتفاق و اختلاف سے ہے۔
تصادموں کے ایک محاذ پر جہاں تہذیبیں متصادم ہیں وہیں دوسرے محاذ پر فطری وسائل کے استعمال کے امکانی ڈگر پر بھی اب سب خیریت نہیں۔ اندیشوں کی پروا کیے بغیرسر پٹ دوڑنے والے سائنس دانوں سے بھی وہی غلطی ہوئی ہے جو اول الذکر محاذ پر عقائد کو رفتارِ زمانہ سے ہم آہنگ نہ کرنے والوں سے ہوتی آئی ہے۔ عصری دنیا کو ایک طرف جہاں غیر انسانی نظریاتی سوچ نے تشدد کی آگ میں جھونک رکھا ہے، وہیں علم اور جستجو کی راہ پر کامیابیوں کے نشے میں چلتے چلتے ایکدم سے دوڑنا شروع کردینے والوں کی وجہ سے آج پوری دنیا کو تباہ کن گلوبل وارمنگ کا سامنا ہے۔
بشمول یوروپ دنیا کے جن خطوں میں بسنے والے اب تک کبھی خوشگوار اور کبھی شدید سردی اور برفباری کا کم اور زیادہ تجربہ کرتے آئے تھے، وہاں اب درجہ حرارت چالیس ڈگری سے زیادہ ہو جانے سے لوگ چھت والے پنکھے، کولر اور اے سی درآمد کرنے لگے ہیں۔ یہ چیزیں وہاں عام طور پر دستیاب نہیں۔کل تک وہاں فریزرکا جو استعمال تھا اُس میں بھی درجہ حرارت اندازے سے بہت زیادہ ہوجانے سے خلل پڑا ہے۔ متعلقہ اشیا فروشوں کے یہاں سبزیاں اور مچھلی/گوشت وغیرہ کو محفوظ اور قابلِ استعمال رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔متعلقہ دکانوں اور اشیاجاتی اسٹور میں چیزیں خراب ہونے لگی ہیں۔آب و ہوا کے بدلے ہوئے ماحول میں جتنی شدید فریزنگ کی ضرورت پڑنے لگی ہے، وہاں اس کا نہ کبھی تصور کیا گیا تھا نہ انتظام۔
ہر چند کہ عالمی درجہ حرارت میںاِس اضافے سے نمٹنے کے رُخ پر ترقی یافتہ ملکوں کے ذمہ داران اور سائنس دانوں نے اپنی بھر پور توانائی جھونک دی ہے لیکن قدرتی وسائل کے بے ہنگم استعمال کے منفی نتائج اور اُن پر قابو پانے کے مثبت اقدامات کے درمیان فاصلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ دہائیوں کی غلطیاں برسوں میں سدھارنے کی کوشش بہت زیادہ نتیجہ خیز نہیں ہو پارہی ہے۔بہ الفاظِ دیگر پریشانی اگر تیزی سے بڑھ نہیں رہی ہے تو اطمینان بخش طور پر کم بھی نہیں ہو پا رہی ہے۔البتہ بہتری کی امید اس لحاظ سے یقین میں بدل رہی ہے کہ سائنس داں اب یہ ماننے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ درجہ حرارت کے رخ پر منفی تبدیلیاں ان کی ہی بعض فاش غلطیوں کا شاخسانہ ہیں۔ تہذیبی تصادم کے دوسرے محاذ پر بین فرقہ منافرت کے ذمہ داران کو فطرت نے ابھی شاید اس اعتراف کی توفیق نہیں بخشی ہے۔
گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کی کوششوں کو شامل نصاب کرنے والوں اور زیر تعلیم طالب علموں کا اس محاذ پر جو ربط نظر آ رہا ہے، اُس سے اِس یقین کو تقویت ملتی ہے کہ اس کادائرہ وسیع ہونے سے نہ صرف سائنسی اور تکنیکی دنیا کی سوچ میں اعتدال پیدا ہوگا بلکہ دوسرے شعبوں اور حلقوں پر بھی اس کا کم سے کم اتنا اثر ضرور پڑے گا کہ غول کے غول لوگ انسانی وسائل کا محدود مفادات کیلئے استعمال کرنے والوں کے ہتّھے نہیں چڑھ پائیں گے۔ گزشتہ اتوار کو اسی علمی جستجو کا سفر طے کرنے والی ایک طالبہ سے بات چیت کے دوران مجھے یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ کوئلہ، ڈیزل، پٹرول وغیرہ سے پیدا ہونے والی آلودگی اورنقل و حمل کی سرگرمیوں کے مُضر اخراج پر قابو پانے سے کامل نجات حاصل کرنے تک کی کوششوں میں مصروف سائنس دانوں نے متبادل کے طور پر بجلی اور قابل تجدید توانائی کے استعمال کے ذیلی نتائج پر ابھی سے غور کرنا شروع کر دیا ہے۔برقی آلات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے دائرے کو سمیٹا تو نہیں جا سکتا لیکن اس کے پھیلاؤ کو مفید سے مفید تر بنانے کی کوششوں کو اندیشوں سے زیادہ سے زیادہ پاک رکھنے کا جتن ضرور کیا جاسکتا ہے تاکہ کوئلے، تیل اور گیس کے استعمال سے پیدا ہونے والے موجودہ بحران کا برقی محاذ پردوبارہ سامنا نہ کرنا پڑے۔
صنعتی انقلاب سے اطلاعاتی انقلاب تک کا سفر ہر چند کہ بہتر امکانات کے رُخ پر ہی شروع کیا گیا تھا لیکن فطرت کے روایتی نظم کو انقلاب آفریں کرنے میں کہیں کہیں سائنس دانوں سے لا شعور میں ایسے قدم بھی اٹھ گئے جو تبدیلی سے زیادہ خلل کا موجب بنے۔اوزون میں سوراخ کے انکشاف ، گلیشیروں پر اس کے اثرات اور دیگر کئی عوامل نے زندگی کے علمی اور شعوری سفر کو تیز کرنے کے ساتھ محتاط بنانے کی جو تحریک دی ہے، وہ کائنات کی تسخیر کے مقصد ایزدی سے اُسی وقت ہم آہنگ ہوسکتی ہے جب جوش کے ساتھ ہوش کو ہر وقت شامل حال رکھا جائے۔الحمد للہ نئی نسل کو اس بات کا ادراک ہوگیا ہے کہ ہر سفر خاص طور پر ارتقا کے سفر میں نقشِ قدم ہی سب کچھ نہیں۔ یعنی کسی بھی راستے پر لکیر کا فقیر بن کر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔غیر آشنا راہوں پرمسائل کا سامنا کرنے کی اہلیت اُس وقت ازکار رفتہ نظر آنے لگتی ہے جب نت نئے مسائل اپنی نوعیت کے اعتبار سے بھی چونکانے لگتے ہیں۔
پچھلے دنوں یوروپی ممالک میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافے پر جہاں ایک طرف بیزاری کے اظہار نے سوشل میڈیا میں بڑا حلقہ گھیر رکھا تھا، وہیں کچھ لوگوں نے حکومتوں، سائنس اور ارضیاتی علوم پر دسترس رکھنے والوں کے علاوہ کسی بھی پریشانی سے تجارتی استفادہ کرنے والوں کو ایک ساتھ متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔اس بیدار حلقے نے ذمہ داران کو بے تکلفی لیکن مہذب انداز کے ساتھ یہ بتا یا کہ جب صنعتیں بدستور بڑے پیمانے پر آلودگی کو روکنے میں ناکام ہیںتو پیپر اسٹرا استعمال کرنے کی تلقین اور اس تلقین کا کاروبار کرکے ایک اتنے بڑے معاملے سے نمٹنے کی ذمہ داری عام لوگوں پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ کاغذ کے اسٹرا سے اُس وقت تک کچھ نہیں ہوگا جب تک تیل اور گیس کی صنعتیں زندہ ہیں۔
مغربی ذرائع کے مطابق یوروپ کے کئی ممالک میں درجہ حرارت جہاں چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھنے لگا ہے، وہیں اسپین کے بعض علاقوں میں پچھلے ہفتے درجہ حرارت 45 ڈگری سے بھی تجاوز کر گیا تھا۔ نتیجے میں آتش زدگی کے کئی واقعات پیش آئے۔مغربی یوروپی ممالک کے لیے بظاہر یہ ایک نادر اتفاق ہے لیکن بباطن یہ فطرت کے تقاضوں پر اپنی ترجیحات کو مقدم رکھنے کی سزا ہے۔ اخبارات کے مطابق اب تک سب سے زیادہ جانی نقصان اسپین میں ہوا ہے جہاںکوئی پانچ سو انسانی جانوں کا زیاں ہوچکا ہے۔ یوروپ میںشدید گرمی کی وجہ سے گھروں کی چھتیں، سڑکیںاور ٹرین کی پٹریاں تک پگھلنے لگی ہیں۔ برطانیہ میں لوٹن ایئر پورٹ کے رن وے کا ایک حصہ شدید طور سے متاثر ہوا۔ رن وے پگھل جانے سے طیاروں کی آمد و رفت میں بھی خلل پڑا۔ شدید گرمی سے بعض پلوں کو نقصان پہنچنے کے اندیشے کے پیش نظر لندن میں 134 سالہ قدیم ہیمرسمتھ پل کو پگھلنے سے بچانے کے لیے اُس پر ایک حفاظتی خول چڑھا دیا گیا اورریل کی پٹریوں پر سفید رنگ کر دیا گیا تاکہ وہ راست طور پر گرمی سے متاثر نہ ہوں۔
اِن حالات میںآب و ہوا میں تبدیلی سے جانی اور مالی نقصانات کے دائرے کو مزید بڑھنے سے بچانے کیلئے ہر سطح پر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ عام آدمی جہاں حد درجہ احتیاط سے کام لے، وہیں سائنسداں حالات پر قابو پانے کے اپنے نئے تجربات کے قدم انتہائی پیش بندیوں کے ساتھ اٹھائیں تاکہ ذیلی نتائج جو ناگزیر ہوتے ہیں اُن پر لگاتار قابو پایا جاتا رہے۔یہ بحران سیاسی حکمرانوں کیلئے محدود قومی اور علاقائی مفادات سے زیادہ توجہ طلب ہونا چاہیے کیونکہ صحت کی عالمی تنظیم ڈبلیو ایچ او نے گرمی کی جاری لہر سے انسانی جانوں کے زیاں کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ یہ ایک بڑا بحران ہے جس کی وجہ سے انفرادی صحت اور انسانی وجود دونوں خطرے میں ہیں۔
(مضمون نگار یو این آئی اردو کے سابق ادارتی سربراہ ہیں)
[email protected]m

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS