نہ جانے کب واپس آئیں گے ہمارے لاپتہ فوجی!

0
Army personnel cordon off near encounter site in Dobhi Mohalla at Kakapora, in Pulwama on Friday. Three militants involved in the attack on a BJP leader’s house in Nowgam area.

پنکج چترویدی

حال ہی میں سپریم کورٹ نے حکومت ہند کو حکم دیا ہے کہ اپریل 1997 میں کچھ کی خلیج سے لاپتہ کیپٹن سنجیت بھٹاچارجی کی83سالہ والدہ کو حکومت ہند ہر تین ماہ میں یہ مطلع کرے کہ 25برس سے پاکستان کی جیل میں بند ان کے بیٹے کو لانے کے لیے کیا کوششیں کی گئیں۔ حالاں کہ پاکستان اس بات سے انکار کرتا ہے کہ سنجیت ان کی قید میں ہیں، لیکن کئی ثبوت ملے ہیں کہ گورکھا رائفل کے جانباز کیپٹن کوٹ لکھپت جیل، لاہور میں ہیں۔ اسی سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ حکومت ہند نے حکومت پاکستان کو اپنے 83لاپتہ قیدیوں کی تلاش کا نوٹ دیا ہے، جن میں 1965 اور 1971کی جنگوں میں پاکستانی فوج کے ذریعہ پکڑے گئے جانباز ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ ہندوستان کی حکومتیں اس سمت میں کچھ نہیں کر رہی ہیں، کئی بار وفود سرحد پار گئے، جیلوں کو دکھایا گیا، لیکن یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں محض رسمی ہوتی ہیں۔ اس سے قبل یکم ستمبر 2015 کو سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس آر ایس لودھا نے بھی ان فوجیوں کے معاملہ کو عالمی عدالت میں لے جانے کی ہدایات دی تھیں لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا۔
تقریباً ہر سال پارلیمنٹ میں وزیرخارجہ بیان بھی دیتے ہیں کہ پاکستانی جیلوں میں آج بھی54جنگی قیدی فوجی ہیں، لیکن کبھی لوک سبھا میں تجویز یا قرارداد منظور نہیں ہوئی کہ ہمارے جانبازوں کی بحفاظت واپسی کے لیے حکومت کچھ کرے گی۔ ملک کی نئی نسل کو تو شاید یہ بھی یاد نہیں ہوگا کہ1971کی پاکستان کی جنگ میں ملک کی تاریخ اور دنیا کا جغرافیہ بدلنے والے کئی ’رن بانکورے‘ ابھی بھی پاکستان کی جیلوں میں جہنمی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان جوانوں کے اہل خانہ اپنے لوگوں کے زندہ ہونے کے ثبوت دیتے ہیں، لیکن حکومت ہند رسمی کارروائی سے زیادہ کچھ نہیں کرتی ہے۔ اس دوران ایسے فوجیوں کی زندگی پر بالی ووڈ میں کئی فلمیں بن چکی ہیں اور انہیں شائقین نے سراہا بھی۔ لیکن وہ نام ابھی بھی گمنامی کے اندھیرے میں ہیں۔
امید میں لمحہ بہ لمحہ گھل رہے ان جوانوں کے اہل خانہ اب لکھاپڑھی کرکے تھک گئے ہیں۔ دل مانتا نہیں ہے کہ ان کے اپنے ہندوستان کے دفاعی قربان گاہ پر شہید ہوگئے ہیں۔ 1971 کی جنگ کے دوران جن54فوجیوں کے پاکستانی گناہ خانوں میں ہونے کے دعوے ہمارے ہم وطن کرتے رہے ہیں، ان میں سے 40کی پختہ تفصیلات دستیاب ہیں۔ ان میں6 میجر، ایک کمانڈر،2فلائنگ آفیسر، 5کیپٹن،15فلائٹ لیفٹیننٹ،ایک سیکنڈ فلائی لیفٹیننٹ، 3اسکوارڈن لیڈر، ایک نیوی پائلٹ کمانڈر،3لانس نائک، اور 3سپاہی شامل ہیں۔
ایک لاپتہ فوجی میجر اشوک کمار سوری کے والد ڈاکٹر آر ایل ایس سوری کے پاس تو بہت سے ٹھوس شواہد موجود ہیں، جو ان کے بیٹے کے پاکستانی جیل میں ہونے کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سوری کو 1974اور 1975میں ان کے بیٹے کے دو خطوط موصول ہوئے، جن میں اس نے20دیگر ہندوستانی فوجی افسران کے ساتھ، پاکستان کی جیل میں ہونے کے بات لکھی تھی۔ ان خطوط کی باقاعدہ طور پر ’’ہینڈ رائٹنگ‘‘ میچ کرائی گئی اور یہ ثابت بھی ہوا کہ یہ تحریر میجر سوری کی ہی ہے۔1979میں ڈاکٹر سوری کو کسی انجان شخص نے فون کرکے بتایا کہ ان کے بیٹے کو پاکستان میں شمال مغربی سرحد صوبہ کی کسی زیر زمین جیل میں بھیج دیا گیا ہے۔ میجر سوری صرف25سال کی عمر میں ہی لاپتہ ہونے کا قصہ بن گئے۔
پاکستان کی جیل میں کئی ماہ تک رہنے کے بعد واپس آنے والے ایک ہندوستانی جاسوس موہن لال بھاسکر نے لاپتہ ونگ کمانڈر ایچ ایس گل کو ایک پاکستانی جیل میں دیکھنے کا دعویٰ کیا تھا۔لاپتہ فلائٹ لیفٹیننٹ وی وی تانبے کو پاکستانی فوج کے ذریعہ زندہ پکڑنے کی خبر، ’سنڈے پاکستان آبزرور‘ کے 5دسمبر1971کے شمارہ میں شائع ہوئی تھی۔ ویر تانبے کی شادی بیڈمنٹن کی قومی چمپئن رہیں دمینتی سے ہوئی تھی۔ شادی کے محض ڈیڑھ سال بعد ہی لڑائی چھڑ گئی تھی۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ سدھیر موہن سبروال جب جنگ کے لیے گھر سے نکلے تھے، تب صرف23سال کے تھے۔ کیپٹن رویندر کورا کو عظیم بہادری کے مظاہرہ کے لیے حکومت نے ’ویرچکر‘ سے نوازا تھا، لیکن وہ اب کس حال میں اور کہاں ہیں، اس کا جواب دینے میں حکومت ناکام رہی ہے۔
پاکستان کے مرحوم وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی دیے جانے کے حقائق پر شائع ہوئی ایک کتاب ہندوستانی جنگی ہیروز کو پاکستان کی جیل میں ہونے کا مضبوط ثبوت قرار دیا جا سکتا ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار وکٹوریہ شوفیلڈ کی کتاب ’بھٹو: ٹرائل اینڈ ایگزیکیوشن‘ کے صفحہ59پر بھٹو کو پھانسی پر لٹکانے سے قبل کوٹ لکھپت رائے جیل لاہور میں رکھے جانے کا ذکر ہے۔ کتاب میں لکھا ہے کہ بھٹو کو پاس کی بیرکوں سے دل دہلا دینے والی چیخیں سنائی دیتی تھیں۔ بھٹو کے ایک وکیل نے معلوم کیا تھا کہ وہاں 1971 کے ہندوستانی جنگی قیدی ہیں۔ جو مسلسل ہراساں ہونے کی وجہ سے ذہنی طور پر متاثر ہوگئے تھے۔
کئی بار لگتا ہے کہ ان سورماؤں کی واپسی کا معاملہ کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہا۔ یہاں معلوم ہوتا ہے کہ جنگ سے متعلق اقوام متحدہ کے مقررہ قاعدے قوانین محض کاغذی دستاویز ہیں۔ اقوام متحدہ کے ویانا معاہدہ میں واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ جنگ کے بعد،ریڈ کراس کی نگرانی میں فوری طور پر فوجیوں کو اپنے اپنے ممالک میں بھیج دیا جائے گا۔ دونوں ممالک باہمی رضامندی سے اس نگرانی کے لیے تیسرے ملک کا تقرر کرسکتے ہیں۔ اس معاہدے میں فوجی قیدیوں پر ظلم کرنے کی سخت ممانعت ہے۔ لیکن ہند پاک کے معاملہ میں یہ قاعدہ قانون کہیں دور دور تک نظر نہیں آیا۔ 1972 میں انٹرنیشنل ریڈ کراس نے ہندوستانی جنگی قیدیوں کی تین فہرستیں جاری کرنے کی بات کہی تھی لیکن صرف دو فہرستیں جاری کی گئیں۔ ایک لاپتہ فلائنگ آفیسر سدھیر تیاگی کے والد آر ایس تیاگی کا دعویٰ ہے کہ انہیں خبر ملی تھی کہ تیسری فہرست میں ان کے بیٹے کا نام تھا۔ لیکن وہ فہرست اچانک ندارد ہو گئی۔
حکومت ہند کے سینئر افسران مانتے ہیں کہ ہماری فوج کے کئی جوان پاکستانی جیلوں میں اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں جسمانی اذیتیں دی جارہی ہیں۔ کرنال کے کریم بخش اور پنجاب کے جاگیر سنگھ کا پاکستان کی جیلوں میں طویل علالت اور پاگل پن کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔1971کی جنگ میں پاکستان کی طرف سے جنگی قیدی بنائے گئے کانسٹیبل دھرم ویر 1981میں جب واپس آئے تو معلوم ہوا کہ اذیتیں دیے جانے کی وجہ سے ان کا ذہنی توازن مکمل طور پر بگڑگیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کچھ جنگی قیدی کوٹ لکھپت رائے لاہور، فیصل آباد، ملتان، میانوالی اور بہاولپور جیل میں ہیں۔
حکومت ہند نے لاپتہ فوجیوں کے اہل خانہ کو صرف یہ امید دلائی ہے کہ ان کے بیٹے اور بھائی زندہ ہیں۔ لیکن کہاں ہیں کس حال میں ہیں؟ کب اور کیسے واپس آئیں گے؟ اس کی فکر نہ تو ہمارے سیاستدانوں کو ہے اور نہ ہی اعلیٰ فوجی افسران کو۔ کاش 1971کی جنگ جیتنے کے بعد ہندوستان نے پاکستان کے 93,000 قیدیوں کو رہا کرنے سے قبل اپنے ایک ایک آدمی کو واپس لے لیا ہوتا۔ پورے پانچ سال تک وزیراعظم رہے پی وی نرسمہاراؤ بھی بھول چکے تھے کہ انہوں نے جون 90میں بطور وزیرخارجہ ایک وعدہ کیا تھا کہ حکومت اپنے بہادر فوجی افسران کو واپس لانے کے لیے کوئی بھی قیمت چکانے کے لیے تیار ہے۔ لیکن ملک کے اعلیٰ ترین عہدہ پر رہنے کے دوران اپنی کرسی بچانے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کی مصروفیت میں انہیں فوجی کنبوں کے آنسوؤں کی نمی کا احساس تک نہیں ہوا۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS