ڈاکٹر جاوید عالم خان
27اگست سے امریکی ٹیرف کا ہندوستان کی اشیاء کی برآمدات( Export) پر نفاذ شروع ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کی تجارت اور روزگار پر منفی اثرات مرتب ہونے والے ہیں۔اس وقت ہندوستان کی کل برآمدات میں امریکہ کا حصہ تقریباً20 فیصد ہے اور یہ ہندوستان کے جی ڈی پی کا 2 فیصد ہے۔
ٹیرف ( Tariff) ایک قسم کا ٹیکس یا محصول ہے جس کو باہر کے ملکوں سے درآمد اشیا اور خدمات پر نافذ کیا جاتا ہے اور اس ٹیکس کا بوجھ عام طور پر گھریلو صارفین پر پڑتا ہے لیکن برآمد کرنے والے ملک پر بھی ٹیرف کی شرح میں بدلاؤ کی وجہ سے بے شمار اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکی حکومت نے پہلے ہی 25 فیصد کا ٹیرف ہندوستان سے ہونے والی درآمدات پر نافذ کیا تھا مگر ہندوستان کی روس سے پٹرول کی برآمدات کی وجہ سے 25 فیصد اضافی ٹیرف کو بھی نافذ کیا گیا ہے۔ تجارت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025-26 میں امریکہ کے اس اقدام کی وجہ سے تقریباً 45 فیصد ہندوستان کی برآمدات متاثر ہوں گی۔ عالمی تھنک ٹینک جی ٹی آر آئی کا کہنا ہے کہ اب امریکہ کے ساتھ ہندوستان کی تجارت 87 بلین ڈالر سے گھٹ کر 50 بلین ڈالر ہوسکتی ہے، ٹیرف کے منفی اثرات جن اشیاء پر ہونے والے ہیں، ان میں ملبوسات، ٹیکسٹائل، جواہرات، سونا، زیورات، مشینیں، اوزار، زراعت، گوشت، بنا ہوا کھانا، اسٹیل، ایلومینیم، تانبہ، نامیاتی کیمیائی مادہ، شرمپ، دستکاری کے سامان، قالین، چمڑا، چپل، فرنیچر وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن ٹیرف کے منفی اثرات سب سے زیادہ ٹیکسٹائل، ہیرے، جواہرات کے سیکٹر میں ہونے والے ہیں جو کہ 2024-25 میں تقریباً 30 بلین ڈالر امریکہ کو برآمد کیے گئے تھے۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی ٹیرف سے جو سیکٹر زیادہ متاثر ہونے والے ہیں، اس میں زیادہ تر سامان بنانے میں مزدوروں کے ہاتھوں سے کام لیا جاتا ہے اور ٹیکنالوجی کا استعمال کم ہوتا ہے، اس لیے مستقبل میں کم ہنرمند مزدوروں کو روزگار سے نکالا جائے گا، اسی طرح سے صنعت کے علاوہ زرعی شعبے میں بھی امریکی ٹیرف کے برے اثرات مرتب ہونے والے ہیں اور اس شعبے میں بھی بے روزگاری بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ ہندوستان کی کچھ اشیاء جیسے ہیرا، شرمپ یا ٹیکسٹائل کی برآمدات کا زیادہ انحصار امریکی بازار پر تھا۔ اس وقت ہندوستان اپنے مجموعی شرمپ کی برآمدات میں 48 فیصد آمدنی امریکہ سے حاصل کرتا ہے۔ امریکہ کے اس قدم سے ملک کے بہت سے شہروں میں برآمدات کیلئے تیار کی جارہی اشیاء کی پیداوار کو روکا جارہا ہے، وہیں ہندوستان پر 50 فیصد ٹیرف نافذ ہونے کی وجہ سے دوسرے ممالک کو فائدہ ہونے کی امید ہے۔ ٹیکسٹائل کے سیکٹر میں بنگلہ دیش، ویتنام اور میکسیکو کو زیادہ فائدہ ہونے کی امید ہے، وہیں شرمپ کے معاملے میں انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ویتنام جیسے ممالک کا کاروبار امریکی بازار میں بڑھ سکتا ہے۔ ہیرے، جواہرات اور زیورات کے کاروبار کیلئے سورت، ممبئی اور جے پور کافی مشہور ہیں لیکن امریکی ٹیرف کی وجہ سے اسرائیل، بلجیم، چین اور میکسیکو کو زیادہ فائدہ ہونے کی امید ہے۔ بھدوہی، مرزا پور اور سری نگر قالین کی پیداوار کیلئے کافی مشہور ہیں اور مجموعی پیداوار کا ایک بڑا حصہ امریکہ کو برآمد کیا جاتا تھا لیکن امریکہ کے اس اقدام سے زیادہ فائدہ ترکی اور پاکستان کو ہونے والا ہے۔ زراعت، گوشت اور پروسیسڈ فوڈ جیسے بیف، باسمتی چاول، مصالحے اور چائے امریکی بازار میں زیادہ تر پاکستان، تھائی لینڈ، ویتنام، کینیا اور سری لنکا سے درآمد کیے جائیں گے، اسی طرح سے چمڑا اور چپلوں کے کاروبار کیلئے آگرہ اور کانپور کافی مشہور ہیں لیکن اب یہ اشیاء امریکہ ویتنام، انڈونیشیا اور چین سے درآمد کرے گا۔ امریکہ کے اس اقدام سے ملک کے نجی سیکٹر کی سرمایہ کاری پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے والے ہیں۔ مرکزی حکومت کے ذریعے صنعتی شعبے کو فروغ دینے کیلئے پی ایل آئی(پروڈکٹ لنک اسکیم) کو نافذ کیا جارہا تھا جس کے ذریعے حکومت پرائیویٹ سیکٹر کی صنعتوں کو مالی تعاون اور لون مہیا کرارہی تھی، امریکہ کے اس قدم سے حکومت کے ذریعے نافذ کی جارہی پی ایل آئی اسکیم کا فائدہ لینے میں پرائیویٹ سیکٹر کے سرمایہ کار اب پیچھے ہٹ جائیں گے، اس لیے کہ پی ایل آئی اسکیم کی امداد سے جو سیکٹر اپنی پیداوار کو بڑھائیں گے اس کا زیادہ تر انحصار امریکی بازار پر ہے۔ موجودہ دور میں امریکی حکومت کی طرف سے ٹیرف کی شرح میں بدلاؤ کی وجہ سے امریکی اور عالمی معیشت کے مفادات بھی متاثر ہوں گے۔ حالانکہ امریکہ کے معاشی تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ امریکی معیشت ٹیرف کے نفاذ کی شرح میں اضافہ کے باوجود بھی کافی بہتر ہے۔ اس وقت ٹیرف معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے امریکی صدر کا سب سے اہم ہتھیار ہے، اس اس کا نشانہ خاص طور سے ہندوستان اور چین ہیں۔ چین سے امریکہ کی معاشی جنگ کافی دنوں سے جاری ہے لیکن ہندوستان روس سے پٹرول کی درآمد کی وجہ سے امریکی ٹیرف کا سامنا کر رہا ہے چونکہ روس بھی امریکہ کا ایک سیاسی اور معاشی حریف ہے، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ ہندوستان روس سے پٹرول کی درآمد کو بند کر دے۔ 2022 میں جب روس اور یوکرین کی جنگ شروع ہوئی تھی تو اس وقت ہندوستان اپنی مجموعی پٹرول درآمدات میں روس کا حصہ 2 فیصد تھا جبکہ 2025 میں یہ بڑھ کر 36 فیصد ہوگیا ہے لہٰذا ہندوستان کے سامنے بھی ایک مجبوری ہے کہ وہ فی الوقت روس سے پٹرول کی درآمدات کو بند نہیں کرسکتا ہے لیکن دوسری طرف ٹیرف میں اضافے کی وجہ سے تجارت پر زبردست اثر ہونے والا ہے۔ 2024 میں امریکہ کے لیے ہندوستانی اشیاء و خدمات کی برآمدات ڈالر کی شکل میں 87.3 بلین ہے لیکن امریکہ کی طرف سے اضافی ٹیرف کی وجہ سے کم سے کم 30-35 بلین ڈالر کی اشیاء اور سامان امریکی بازار میں برآمد کرنا مشکل ہوگا۔ امریکہ کے اس اقدام سے ہندوستانی صنعت کے سیکٹر کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے، اسی لیے حالیہ دنوں میں وزیراعظم نے کہاہے کہ ہماری اقتصادی پالیسی کی بنیاد عالم گیریت نہیں بلکہ سودیسی ہونی چاہیے جہاں ہمارے بنائے ہوئے مال کی کھپت گھریلو مارکیٹ میں ہی کی جانی چاہیے کیونکہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو صنعتی سیکٹر میں بے روزگاری کا ایک بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ حکومت کے ذریعے جاری کیے گئے اعدادوشمار بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بے روزگاری اس وقت ملک کے سامنے ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ٹیرف کی شرح میں اضافہ کی وجہ سے امریکی معیشت کو بھی کئی سارے چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا جس کے اثرات امریکہ کی اسٹاک مارکیٹ، افراط زر، مونیٹری پالیسی اور امریکی ڈالر پر بھی مرتب ہوں گے۔ اضافی ٹیرف کے نفاذ کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ کی بڑی کمپنیوں کے شیئر میں گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے، اس کے علاوہ افراط زر کی شرح میں بھی 2 فیصد سے بڑھ کر 3 فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے، اس صورتحال میں امریکی مونیٹری پالیسی کے ذریعے کوشش کی جارہی ہے کہ شرح سود کو کیسے متعین کیا جائے؟ اسی طرح سے امریکی ڈالر پر بھی اضافی ٹیرف کے برے اثرات دکھائی دے رہے ہیں چونکہ ڈالر دنیا کی سب سے مضبوط کرنسی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ کا معاشی دبدبہ ہے۔ تقریباً 90 فیصد زرمبادلہ کے لین دین میں ڈالر کا استعمال کیا جاتا ہے، وہیں دنیا کی آدھی تجارت امریکی ڈالر میں کی جاتی ہے اور 60 فیصد بیرونی کرنسی مرکزی بینکوں کے ذریعے ڈالر کی شکل میں رکھی جاتی ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے تو امریکی عوام کی قوت خرید کو بھی متاثر کرے گا۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے برسراقتدار ہونے کے بعد عالمی سطح پر اقتصادی معاملات میں کافی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ عالمی معیشت پہلے سے ہی مندی یا Recession کا سامنا کر رہی تھی جس کی اہم وجوہات میں کورونا وبا کے تمام شعبوں میں برے اثرات اور روس-یوکرین جنگ کے علاوہ مغربی ایشیا میں موجودہ حالات قابل ذکر ہیں ۔
اگر اقتصادی طور پر دیکھا جائے تو تجارت (درآمدات اور برآمدات) ایک طرح سے تقابلی فائدے (Comparative Advantage) کا نام ہے اور تمام ممالک ان ہی اصولوں کے نام پر باہمی تجارت کرتے ہیں، مثال کے طورپر ہر ایک ممالک کے پاس اشیاء کی پیداوار کو لے کر خاص صلاحیت ہوتی ہے جیسے کہ امریکہ کے پاس جہاز اور دفاعی سازوسامان بنانے کی صلاحیت ہے، وہیں جاپان کے پاس کار، چین کے پاس ٹیکسٹائل اور چپلیں جبکہ ہندوستان کے پاس سافٹ ویئر بنانے کی منفرد صلاحیت ہے، ان پیداوار اور اشیاء کی برآمدات اور درآمدات کیلئے ایک برابری کی پالیسی وضع ہونی چاہیے جو تمام ممالک کیلئے مفید ثابت ہوں۔ گزشتہ40 سالوں میں اقتصادی عالمگیریت (Globalization ) کی وجہ معاشی نمو میں اضافہ ہواہے، کروڑوں لوگوں کی غربت میں کمی آئی ہے اور روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہواہے۔ اس کا فائدہ اٹھانے والوں میں انڈونیشیا، ہندوستان اور چین جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ لیکن ان ممالک کے درمیان کافی حد تک آمدنی کے میدان میں غیر برابری میں کمی آئی ہے۔ 1980 کی دہائی میں عالمی معیشت میں ہندوستان اور چین کی پوزیشن بالترتیب 50 اور 51 نمبر پر تھی لیکن ان کی موجودہ پوزیشن عالمی سطح پر 2 اور 5 نمبر پر ہے۔ ترقی پذیر ممالک کو اپنی معیشت کو بچانے کیلئے اس وقت متحد ہونا چاہیے اور اپنے مفادات کی حفاظت کیلئے عالمی تنظیم برائے تجارت کے ساتھ ایڈوکیسی بھی کرنی چاہیے تاکہ پوری دنیا میں منصفانہ طور پر تجارت کی جاسکے۔
(مضمون نگار انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اینڈ ایڈوکیسی کے ڈائریکٹر ہیں )
jawedalamk@gmail.com