آئینی سانحہ، جمہوری زخم

0

وقف ترمیمی بل کے خلاف آج جمعہ کے روز ملک کے مختلف شہروں میں برپا ہونے والے احتجاج نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ جب کسی قوم کے مذہبی، ثقافتی اور آئینی حقوق پر شب خون مارا جائے تو وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے صدائے احتجاج بلند کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ کولکاتا،چنئی اور احمد آباد کی گلیوں میں رواں عوامی سیلاب،قومی پرچموں اور ’’وقف بل کو مسترد کرو‘‘ جیسے نعروں کی گونج،صرف ایک قانونی ترمیم کے خلاف غصے کا اظہار نہ تھا،بلکہ یہ ایک قوم کی اجتماعی بے بسی،کرب اور جمہوریت کے تماشے میں تماشائی بننے سے انکار کا بیانیہ تھا۔آئینی اقدار کے دعویداروں نے رات کی تاریکی میں بل منظور کرکے یہ ثابت کر دیا کہ انہیں نہ عوام کی رائے کا احترام ہے اور نہ ہی آئین کی روح کی کوئی پروا۔ ایوان بالا ہو یا ایوان زیریں،جس قانون کا تعلق براہ راست ایک مذہبی اقلیت کی زمین، جائیداد اور وقفی حقوق سے ہے،اسے آدھی رات کی تاریکی میں،گواہوں کے ہجوم کے بغیر، بحث کی روشنی سے دور، عجلت اور بے دردی کے ساتھ پاس کیا گیا۔ دعویٰ جمہوریت کا اورفیصلے شب خون کے انداز میںکئے گئے۔

راجیہ سبھا میں آٹھ گھنٹوں کی بحث کے بعد جب اپوزیشن نے وقت کی توسیع کی مزاحمت کی تو اسے کسی رسمی عمل کی طرح نظرانداز کیا گیا۔ایوان زیریں اورا یوان بالا دونوں کو ایوان مکر میں بدل دیا گیااوراچانک وقت بڑھا کر رات کی خامشی میں ووٹنگ کرائی گئی۔لوک سبھا میں 288 ووٹوں کی اکثریت ہو یا راجیہ سبھا میں 128 ووٹوں کا زور،یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ جمہوریت پر شب خون ہے۔ ایوان میں چیخ چیخ کر بولنے والے ارکان کی آوازیں اس امر کی غمازی کرتی رہیں کہ فیصلے پہلے ہو چکے ہیں،بحث صرف ایک رسمی خانہ پری ہے۔

گویا قانون سازی کا عمل ایک سیاسی طاقت کی نمائش بن چکا ہے،جس میں آئین،اقلیتوں کے تحفظ اور اجتماعی دانش کی کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔یہ بھی کم افسوسناک نہیں کہ وقف جیسے حساس اور مذہبی معاملے پر قانون سازی میں ان سیاسی جماعتوں نے بھی بی جے پی کا ساتھ دیا جنہیں برسوں تک اقلیتوں کا ہمدرد سمجھا جاتا رہا۔ تیلگو دیشم پارٹی،جنتا دل یونائیٹڈ،راشٹریہ لوک دل اور دیگر چند جماعتوں کی اس بل کی تائید نے وہ نقاب نوچ پھینکی ہے جو انہوں نے دہائیوں سے اقلیتوں کی ہمدردی کے نام پر اوڑھ رکھی تھی۔یہ اس نظام کی بدنصیبی ہے کہ جہاں اقلیتوں کے حقوق،ان کے دینی و سماجی تشخص اور ان کے اداروں پر شب خون مارنے کو ’تاریخی اصلاح‘ کا نام دے کر تالیاں بھی بجائی جارہی ہیں۔بی جے پی حکومت نے جس ڈھٹائی سے اس قانون کو منظور کیا‘وہ محض وقف ایکٹ کی تضحیک نہیں‘بلکہ ہندوستان کے آئین‘اس کے سیکولر ڈھانچے اور اقلیتوں کے آئینی حقوق کا سرعام تمسخر ہے۔

اگرچہ وزیر اقلیتی امور نے بارہا یقین دہانی کروائی کہ ترمیمات کا مقصد اصلاحات ہیں،لیکن ان کی زبان سے نکلے الفاظ اور حکومت کے اقدامات میں واضح تضاد نظر آیا۔ غیر مسلم ممبران کی وقف بورڈ میں شمولیت کی لازمی شرط ہو یا زمین دینے والوں کیلئے ’’عملی مسلمان‘‘ ہونے کی پانچ سالہ تصدیق‘یہ سب کچھ اس سازش کی نشانیاں ہیں جو مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری میں تبدیل کرنے کی طرف قدم بہ قدم بڑھ رہی ہے۔

حکومت نے اس بل کے ذریعے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف اقلیتوں کے مذہبی اداروں کو کنٹرول میں لینے کا ارادہ رکھتی ہے بلکہ وہ اس عمل کو آئندہ مزید اقلیت دشمن قوانین کی بنیاد بنانا چاہتی ہے۔ آج وقف نشانے پر ہے،کل شاید گرجا گھروں اور گرودواروں کی باری ہو۔بی جے پی کو یہ گمان ہے کہ اسے عوام کی تائید حاصل ہے،مگر وہ یہ بھول جاتی ہے کہ عوام فقط ووٹ نہیں ہوتے،وہ جذبات،تاریخ،ثقافت اور شناخت کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ جب یہ شناخت چھینی جاتی ہے،جب یہ جذبات مجروح کئے جاتے ہیں،تو تحریکیں جنم لیتی ہیں۔ آج اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوان بی جے پی کی مرضی سے قانون سازی میں مصروف ہیں تو کل عوام اپنی مرضی سے اقتدار کے ایوانوں کا نقشہ بدلنے کا ہنر بھی رکھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ بل ایک آئینی سانحہ ہے،ایک جمہوری زخم ہے اور ایک مذہبی جارحیت ہے۔

مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو زخم صبر سے سہے جاتے ہیں،وہ وقت کے ساتھ چراغ مزاحمت بن جاتے ہیں۔بی جے پی شاید یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ تین طلاق کے بعد وقف پر وار بھی کامیاب ہوگااور آگے یکساں سول کوڈ کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ظلم،چاہے قانونی جامے میں لپٹا ہو،دیرپا نہیں ہوتا۔ یہ قانون اس ملک کے آئین پر ایک سیاہ دھبہ ہے،ایک ایسا بدنما داغ جو برسوں تک سیاسی بصیرت، عوامی شعور اور اقلیتی حقوق کی پامالی کا حوالہ رہے گا۔ کل جب تاریخ لکھی جائے گی، تو یہ ذکر ضرور ہوگا کہ ایک شب،جب سارا ملک سو رہا تھا، تو ’’جمہوریت‘‘ نے اپنے ہی شہریوں کے حقوق کی قبر پر ہاتھ سے مہر لگا دی تھی۔اب سوال صرف وقف کی جائیدادوں کا نہیں رہا،بلکہ یہ مسلمانوں کی زمین،ان کی شناخت،ان کے آئینی وقاراور ان کے وجود پر براہ راست حملہ ہے اور جب حملہ اس درجہ گہرا ہو،تو پھر مزاحمت بھی اسی شدت سے ابھرتی ہے۔ یہی مزاحمت کولکاتا کی سڑکوں پر دیکھی گئی، یہی جذبہ چنئی کے احتجاج میں بھی گونجااور یہی آہنگ احمد آباد کے نعرہ زن مظاہرین میں سنائی دیا۔

[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS