فلسطینیوں کی آواز دبانے کی کوشش

0

دنیا بھر میں اسرائیل مخالف لہر تیز ہوتی جا رہی ہے۔ غزہ جنگ کے حوالے سے کئی سوال ہیں۔ مثلاً : حماس کے کیے کی سزا غزہ کے عام لوگوں کو کیوں دی جا رہی ہے؟ انہیں بھوک اور پیاس سے مار ڈالنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ ان پر بم گرانے کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ غزہ جنگ کب تک جاری رہے گی؟ یہ جنگ کیا حماس کو سزا دینے کے بہانے گریٹر اسرائیل کے خواب کو پورا کرنے کے لیے لڑی جا رہی ہے؟ ان سوالوں کا معقول جواب اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے پاس نہیں ہے۔ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی ساکھ گر رہی ہے۔ اسرائیل کے اتحادی اہل غزہ کو بہلانے اور عالمی برادری میں اپنی ساکھ بچائے رکھنے کے لیے فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر قبول کرنے کی باتیں کر رہے ہیں لیکن اپنی حکومتوں کی بہلانے والی باتوں سے خود ان ممالک کے لوگ ہی بہلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ غزہ جنگ ختم ہو، فلسطینیوں کو انصاف ملے ، ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو ایک انسان کو دوسرے انسانوں کے ساتھ کرنا چاہیے۔ فلسطینیوں کی آواز دبانے کے لیے اسرائیل مسلسل کوشاں ہے۔ اس کے فوجیوں نے 25 اگست، 2025کو غزہ کے بڑے اسپتالوں میں سے ایک ، ناصر اسپتال پر حملہ کیا۔ اس حملے میں 5 صحافیوں کو مار ڈالا گیا جبکہ مجموعی طور پر 20 لوگوں کو مارے جانے کی خبر ہے۔ رائٹرز کے کیمرا مین حسام المصری، امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی اور برطانوی اخبار ’دی انڈپینڈنٹ‘ کی نامہ نگار مریم ابودقہ، امریکی ٹی وی ’این بی سی‘ کے صحافی معاذ ابوطحٰہ، ’الجریزہ‘کے فوٹو جرنلسٹ محمد سلامہ اور ’قدس نیٹ ورک‘ کے صحافی احمد ابو عزیز مارے گئے ہیں۔ خبر یہ بھی ہے کہ المواصی کیمپ میں بھی اسرائیلی فوج نے ایک صحافی شہید حسن زوہان کا قتل کیا ہے۔ وہ فلسطینی اخبار کے لیے کام کرتے تھے۔ صحافیوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر ماحول اور خراب ہوا ہے، کیونکہ صحافیوں پر حملے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔

غزہ جنگ شروع ہونے سے اب تک 246 صحافی ہلاک کیے جا چکے ہیں لیکن ’ سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق، 190 صحافی ہلاک کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 70 فیصد صحافی تو گزشتہ برس ہی ہلاک کیے گئے۔ ’کمیٹی ٹو پروٹکٹ جرنلسٹس‘ نے 1992 سے مہلوک صحافیوں کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا ہے۔ اس وقت سے آج تک سب سے زیادہ صحافی 2024 میں غزہ میں ہی ہلاک کیے گئے۔ وہ ممالک جو یوکرین جنگ میں روس کی بربیت کی باتیں کرتے ہیں، انہیں یہ بتانا چاہیے کہ کیا روس نے بھی اسی طرح صحافیوں کا قتل کیا ہے؟ یوکرینیوں کی آواز دبانے کی کوشش کی ہے؟ حالات کو دیکھتے ہوئے ہی برطانیہ کو یہ کہنا پڑا ہے کہ غزہ کے ناصر اسپتال پر اسرائیلی حملہ ’بھیانک‘ اور ’ناقابل معافی‘ ہے۔ یوروپی یونین نے بھی اسے ناقابل قبول بتایا ہے۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا کہنا ہے- انہیں اس بات پر یقین نہیں ہے کہ ناصر اسپتال پر ہوئے حملے کے پیچھے صحافیوں کو نشانہ بنانے کی منشا تھی۔

ایسی صورت میں اس سوال کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کہ بغیر کسی منشا کے ہی اسرائیلی فوجیوں نے 5 صحافیوں کا قتل کر دیا تو غزہ جنگ کے شروع ہونے سے اب تک اتنے صحافی کیوں مارے جا چکے ہیں؟ کیا ہر بار بغیر منشا کے ہی ان کا قتل ہو گیا یا وہ خود نشانہ بننے کے لیے گولیوں کے سامنے آگئے یا بمباری کی جگہ چلے گئے؟ اصل میں امریکہ اور اس کے اتحادی یوروپی ملکوں کی مجبوری یہ ہے کہ انہیں ہر حال میں اسرائیل کی حمایت کرنی ہے، اس کے ساتھ کھڑا رہنا ہے۔ ان ملکوں کو 7 اکتوبر، 2023 کے حملے انسانیت پر حملے نظر آرہے تھے اور ان کے لیڈران یکجہتی کے اظہار کے لیے اسرائیل گئے تھے مگر غزہ کے 62,744 لوگوں کے مارے جانے کے بعد بھی انہیں کہیں دم توڑتی انسانیت نظر نہیں آرہی ہے۔ اسی لیے وہ جنگ ختم کرانے کے لیے عملی اقدامات نہیں کر پا رہے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں- غزہ، ایران نہیں ہے۔

جنگ جب تک جاری رہے گی، کون بڑی تعداد میں مارا جائے گا، تباہ کون ہوگا، خسارہ کسے برداشت کرنا پڑے گا لیکن عالمی برادری یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ غزہ جنگ کے حوالے سے امریکہ اور برطانیہ کا اب تک کیا موقف رہا ہے؟ یوروپی یونین کا کیا موقف رہا ہے؟ انہوں نے اسرائیل کا ساتھ دیا ہے لیکن اہل غزہ کی مدد کتنی کی ہے، یہ خود ان کے سربراہوں کو ہی دنیا کو بتا دینا چاہیے تاکہ انہیں کوئی شکایت نہ رہے، کیونکہ غزہ جنگ انسانیت کا ایشو ہے۔ اسی لیے مشرق وسطیٰ کی سڑکوں پر خاموشی ہے مگر امریکہ، یوروپ، آسٹریلیا اور دنیا کے دیگر خطوں کے لوگ بلا تفریق مذہب و ملت اہل غزہ سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے سڑکوں پر ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ غزہ کی جنگ نے انسانیت کی باتیں کرنے والے ہر ملک اور ہر عالی لیڈر کی حقیقت آشکارا کر دی ہے۔ اب ان کے منہ سے انسانیت کی باتیں ہنسی مذاق سے زیادہ کچھ نہیں لگتیں۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS