یوروپی ممالک میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے: ایم اے کنولؔ جعفری

0

ایم اے کنولؔ جعفری

7اکتوبر، 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملہ کرنے کے بعد سے اسرائیل کا غزہ پرمسلسل قہر جاری ہے۔ ایک برس 10 مہینے اور 22 روز کے جبر و تشدد، فضائی اور زمینی حملوں میںنہ صرف غزہ کی رہائشی عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہیں بلکہ اسکول، مدارس، اسپتال اور عبادت گاہیں بھی تباہ و برباد ہو چکی ہیں۔ اسرائیلی حملوںمیں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 62,744 سے زیادہ ہے جبکہ 156,573 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ شہدا اور زخمیوں میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔ مئی کے آخر میں امریکی اور اسرائیلی حمایت یافتہ جی ایچ ایف کے قیام سے اب تک اسرائیلی فائرنگ میں شہید ہونے والے امداد و خوراک کے متلاشی لوگوں کی تعداد 2095 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 15 ہزار 431 سے تجاوز کر چکی ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اس دوران 300 افراد بھوک سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں 117 بچے ہیں۔ روم میں قائم بھوک اور قحط کو مانیٹر کرنے والے بین الاقوامی ادارے انٹیگریٹیڈفوڈسیکورٹی فیز کلاسی فکیشن اینی شی ایٹو (آئی پی سی)کے مطابق، غزہ میں قحط اور بھوک سے 5,00,000 فلسطینی متاثر ہوئے ہیں۔ حالانکہ اس طویل اور یکطرفہ جنگ میں اسرائیل اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ وہ ابھی بھی یرغمالیوں کی رہائی اور متوفیوں کے مردہ اجسام حاصل کرنا چاہتا ہے۔ حماس کے حملے کو آڑ بناکر وہ غزہ کی رہائش گاہوں پر حملے کرکے نسل کشی میں لگا ہے۔ بے قصور اور بے یار و مددگار بھوکے پیاسے لوگوں کی ہلاکتوں سے انسانیت دم توڑ رہی ہے، اسرائیلی درندگی کی پوری دنیا میں مذمت کی جا رہی ہے۔ یوروپی ممالک میں اسرائیل مخالف لہر چل رہی ہے اور جگہ جگہ احتجاج و مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

حال ہی میں غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف آسٹریلیا بھر میں احتجاج کیا گیا۔ لاکھوں افراد نے فلسطینیوں کی حمایت میں سڑکوں پر اترکر غزہ میں نسل کشی روکنے اور جبری قحط ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ سڈنی، ملبورن، ایڈیلیڈ، پرتھ، کینبرا،ہوبارٹ اور برسبین سمیت دیگر 40 شہروں میں 3,50,000 سے زیادہ لوگوں نے مظاہروں میں حصہ لیتے ہوئے ’فلسطین کو آزاد کرو‘ اور ’بچوں کا قتل عام بند کرو‘جیسے نعرے لگائے۔اکیلے برسبین میں 50,000 افراد مظاہرے میں شامل ہوئے۔ مظاہرین نے حکومت آسڑیلیا سے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے، تعلقات منقطع کرنے اور ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا۔ بلجیم کے دارالخلافہ برسلز میں بھی احتجاج کیاگیا۔ مظاہرین نے غزہ میں جبری قحط اور فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرنے کا مطالبہ کیا اور نعرے لگائے۔ فن لینڈ کے دارالحکومت ہلسنکی میں مظاہرین نے انسانی زنجیر بناکر فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ جنوبی کوریا میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں مظاہرین نے ’فلسطین آزاد کرو‘ کے نعرے بلند کیے۔ خود اسرائیل میں بھی نیتن یاہو حکومت کے خلاف احتجاج کیے جا رہے ہیں۔ دارالحکومت تل ابیب میں فوجی ہیڈکوارٹرس کے باہر ہزاروں افراد جمع ہوئے اور غزہ میں فوری جنگ ختم کرنے اور یرغمالیوں کو واپس لانے کا مطالبہ کیا۔ یوروپی تحقیقی ادارے یوگوف کی تازہ ترین رائے شماری کے مطابق، اسرائیل کی عوامی حمایت غزہ میں جرائم کی بنا پر کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ سروے میں جرمنی، فرانس، اٹلی، اسپین، ڈنمارک اور برطانیہ میں اسرائیلی حکومت کے خلاف شدید عوامی ناراضگی کا انکشاف کیاگیا۔

غزہ میں نسل کشی نے اسرائیل کی عوامی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔رپورٹ کے مطابق، 13 سے 21 فیصد لوگوں نے اسرائیل کے حق میں اپنی رائے دی جبکہ 63 سے 70 فیصد افراد نے اسرائیل کے خلاف رائے دہی کا اظہار کیا۔ یہ اعدادوشمار اسرائیل کے خلاف روزبروز بڑھتی عوامی ناراضگی کا ثبوت ہیں۔ غزہ میں جاری نسل کشی نے یوروپی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یوروپی شہریوں میں اٹلی کے صرف6 فیصد، برطانیہ کے 12 فیصد اورفرانس کے 16 فیصد لوگوں نے اسرائیل کی تائید کی۔ اسرائیل کی غزہ میں غیر ضروری حد تک خونریزی کے سوال پر اٹلی کے29 فیصد، برطانیہ کے 38 فیصد اور جرمنی کے 40 فیصد افراد نے اتفاق کیا۔ عبرانی زبان کے خبررساں ادارے واللہ نیوز کا کہنا ہے کہ عالمی صہیونی تنظیم کے سربراہ جیکب ہیگل اور بین الاقوامی یہودی ایجنسی کے سربراہ جنرل احترام ڈورن الموگ کی طرف سے صدر یتزاک ہرزوگ کو پیش کی گئی رپورٹ میں 2024 کو اسرائیل مخالف واقعات کا سال بتایا گیا۔ اس سال غزہ جنگ کی وجہ سے 2022 کے مقابلے اسرائیل مخالف کارروائیوں میں 340 فیصد اضافہ ہوا۔ کنیڈا میں یہ تناسب 562 فیصد، فرانس میں 350 فیصداور چلی میں 325 فیصدپایاگیا۔ سب سے زیادہ 15 لاکھ یہودی والے امریکی شہر نیویارک میں 2024 میںاسرائیل مخالف 344 واقعات سامنے آئے جو 2023 میں 325 اور2022 میں264سے زیادہ تھے۔ فرانس میں 2024 میںاسرائیل مخالف 1570 واقعات ہوئے۔ جھڑپیں 106 ہوئیں جبکہ 2023 میں ان کی تعداد85 اور 2022 میں 43 تھی۔

فلسطین کے بدترین حالات کی وجہ سے ہر انصاف پسند اور زندہ ضمیر رکھنے والا شخص رنجیدہ ہے۔ بلا شبہ پیرس، نیویارک، بارسلونا، تیونس اور مانچسٹر سمیت دنیا بھر کے مختلف شہروں میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور اہل غزہ کی حمایت میں مظاہرے، احتجاج، ریلیاں اور گرفتاریاں ہوئی ہیں اور انسان دوست لوگوں نے اس اہم ترین ایشو کو زندہ رکھا ہے۔ امریکہ کی کولمبیا اور نیویارک سمیت دیگر یونیورسٹیوں میں طلبا کا احتجاج جاری ہے۔ وہ غزہ میں مستقل جنگ بندی، اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کے خاتمے اور اسلحہ فراہم نہ کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نئے ردعمل اور رجحان کے تحت نوجوان بلاتفریق مذہب اور رنگ و نسل اسرائیلی مظالم کے خلاف عالمی دارالحکومتوں میں سراپا احتجاج ہیں۔ نہ صرف یوروپ بلکہ دنیا بھر میں اسرائیل مخالف رویوں کے باوجود اسرائیل نے غزہ پرمکمل قبضہ کرنے کے اعلان کے بعداس حکمت عملی کو آخری شکل دے دی ہے۔ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زمیر نے وزراعظم بنیامن نیتن یاہو کو براہ راست پیغام بھیج کر غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لیے موجودہ دستیاب موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ پر مکمل قبضے کی جانب کوئی بھی قدم یرغمالیوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ حماس کی قید میں ابھی بھی 50 اسرائیلی یرغمالی ہیں۔ ان میں 20 کے زندہ ہونے کا امکان ہے۔

فوج گزشتہ مہینوںمیں زمینی اور سیکورٹی کے ایسے سازگار حالات پیداکرنے میں کامیاب ہو چکی ہے جو ایک ڈیل کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ سیاسی قیادت کو اس موقع کا خاطرخواہ فائدہ اٹھانا چاہیے لیکن نیتن یاہو سیاسی بقا کے لیے اس تجویز کو قبول کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ اس وقت غزہ کی پٹی میں کوئی علاقہ محفوظ نہیں ہے۔ اسرائیلی ٹینکوں کو صابرہ کے پڑوس میں گھومتے ہوئے دیکھا گیاہے۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے لیے مزید تباہی متوقع ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہوداولمرٹ نے کہا ہے کہ ’غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے،وہ جنگی جرم ہے۔۔۔۔ مارچ 2025 کے جنگ بندی معاہدے کے بعد غزہ کی یہ جنگ غیرقانونی ہے۔۔۔۔اس جنگ کوقریب70 فیصد اسرائیلیوں کی حمایت حاصل نہیںہے۔۔۔۔نیتن یاہو کو یرغمالیوں،ان کے خاندانوں،قومی سلامتی اور اسرائیلی معاشرے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ وہ صرف اور صرف اپنے مفاد اور سیاسی فائدے کی سوچ رہے ہیں۔‘ 10 لاکھ کی بڑی آبادی والے غزہ میں حماس کے ساتھ جنگ کرنا نہ صرف اسرائیل کے لیے موت کا پھندا ہے بلکہ اس سے کسی قومی خدمت کا امکان بھی نہیں ہے۔

(مضمون نگار سینئر صحافی اور ادیب ہیں)
jafrikanwal785@gmail.com

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS