سڑک حادثات پر کنٹرول ضروری

0
Madhya Pradesh, Mar 19 People at the spot where two people died in a road accident after lorry collided, in Dhar on Friday.

پروفیسرعتیق احمدفاروقی
ویسے تو سڑک حادثات پور ی دنیا کا ایک مسئلہ ہے لیکن ہمارے ملک میں اس نے بہت خوفناک شکل اختیار کر لی ہے۔ ملک میں سڑک سلامتی کو لے کر بحث تیز ہوچکی ہے۔ دراصل اس کی وجہ وہ اعداد وشمار ہیں جس میں بتایاگیاتھا کہ 2021میں سڑک حادثات میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ ایک اندازہ کے مطابق ہندوستان میں دنیا کی محض ایک فیصد گاڑیاں ہی ہیں لیکن ساری دنیا کے سڑک حادثات میں جان گنوانے والے لوگوں میں گیارہ فیصد لوگ ہندوستانی ہوتے ہیں۔ آئے دن ملک کے کسی نہ کسی کونے میں خوفناک سڑک حادثات ہوتے رہتے ہیں جن میں تمام لوگ قبل ازوقت یا کچی عمرمیں ہی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔ تمام لوگ زخمی ہوجاتے ہیں اوران میں سے متعدد زندہ ہوتے ہوئے بھی معذور ہوجاتے ہیں۔ کئی سڑک حادثات میں پورا کا پورا خاندان ہی اجڑ جا تا ہے۔
زیادہ ترسڑک حادثات لاپروائی کے سبب ہوتے ہیں۔ یہ لاپروائی حادثہ کی شکار گاڑیوں کے ڈرائیور یا آس پاس سے گزررہی گاڑیوں کے ڈرائیوروں میں سے کسی کی بھی ہوسکتی ہے۔ حادثے سڑک کی خراب ڈیزائن اورنقل وحمل قوانین کی اندیکھی کی وجہ سے بھی ہوتے ہیں۔ یہ بھی کسی سے چھپا نہیں ہے کہ کئی محکموں میں ہمہ آہنگی کی کمی سے حادثات کے بعد ضروری راحت اورعلاج میں تاخیر ہوتی ہے۔ اس معاملے میں گزشتہ 28جولائی کو بارہ بنکی میں ہوئے ایک دردناک حادثہ کا ذکر مفید ہوگا۔اس میں 18لوگوں کی موت ہوگئی تھی اور23افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ سبھی ایک بس میں ہریانہ اورپنجاب سے بہار جارہے تھے ۔
متعلقہ بس مالک کی ایک دیگر بس کے خراب ہوجانے کے سبب اس کی سواریاں بھی اس میں بھردی گئیں۔ اس طرح 75کی گنجائش والی بس میں 135مسافر بھردئے گئے۔ آگرہ میں بس کا ٹائر پھٹ گیا ۔ غنیمت رہی کہ بس نہیں پلٹی ۔ پھر بارہ بنکی میں ایک ندی کے پل پر اس کا ایکسل ٹوٹ گیا ۔ گرمی کے سبب مسافر بس کے باہر آگئے اوررات میں ہی سڑک کے کنارے آرام کرنے لگے۔ بس اسٹاف ایکسل درست کرنے کی کوشش میں لگ گیالیکن کوئی ایسی نشاندہی کرنے والی چیز نہیں لگائی تاکہ دوسری گاڑیوں کے ڈرائیور آگاہ ہوسکتے۔ اسی وقت پیچھے سے آرہے ٹرک نے وہاں قہر برپاکردیا۔ یہاں شاہ راہ اتھارٹی کی بھی ذمہ داری تھی کہ ایکسل بنوانے میں مدد فراہم کرائی جاتی یا پھر جب تک بس وہاں کھڑی تھی تب تک گزرتی گاڑیوںکی رفتار کنڑول کی جاتی۔ یہ تبھی ممکن تھا جب ہائی وے پیٹرولنگ چوکناہوتی۔
گنجائش سے کہیں زیادہ بھری بس قریب دس پندرہ ٹول پلازہ سے گزری۔ کسی نے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی۔ پتہ چلا کہ بس کا 32بار چالان ہوچکاتھا، پھر اُس کا پرمٹ کیوں نہیں منسوخ کیاگیا؟ڈرائیور پہلے بھی کئی بار غلطیاں کرچکاتھا، اُس کے باوجود مالک اُس سے گاڑی چلوارہاتھا۔آخر نقل وحمل محکمہ کا عملہ کیاکررہاتھا؟
پولیس تو صرف نقل وحمل کو بنارکاوٹ چلانے کا ہی کام کرتی ہے اوروہ بھی اس کی ترجیحات میں نہیں شامل تھا لیکن نقل وحمل محکمہ کی تویہی خاص ذمہ داری ہے ۔پورا عملہ اورمالی وسائل ہیں لیکن کوئی جوابدہی نہیں ہے ۔ضابطہ کے تحت ٹول پلازہ کی دونوںجانب چالیس کلو میٹرتک شاہ راہ اتھارٹی کو ایمبولینس ، پیٹرول اورکرین وغیرہ کا انتظام کرناچاہیے تھا۔ مبینہ حادثہ میں بچاؤ مہم بھی چار گھنٹے بعد شروع ہوئی۔ کہنے کو تو نقل وحمل محکمہ نے انٹرسپٹرگاڑیاں لگارکھی ہیںجس کا خاص کام ہی گاڑیوںکی رفتار کنٹرول کرناہے۔ اسے سب سے پہلے جائے واردات پر پہنچناچاہیے تھا۔
بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ سڑک حادثات پر کنٹرول نقل وحمل محکمہ کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ محکمہ خاص طور پر لائسنس،پرمٹ اورٹیکس وصولی کے مقصد سے بنایاگیاہے۔ سڑک حادثات پر کنٹرول بچاؤ مہم اورپیٹرولنگ اس کے فرائض میں نہیں شامل ہیں۔ ایسے حالات میں بہترہوگاکہ پولیس محکمہ میں ہی ایک الگ شاخ بنائی جائے اوراُسے ضروری وسائل فراہم کئے جائیں۔ہر ایک صوبہ میں نقل وحمل اور سڑک سلامتی کے ڈائریکٹر جنرل کی پوسٹ وضع کی جائے اورٹریفک پولیس کی تعداد میں اضافہ کیاجائے ۔ شاہ راہ پر ٹریفک پولیس چوکیاں اورتھانے بھی قائم کرنے ہوںگے۔ مجوزہ نظام میں پولیس کی سڑک پیٹرولنگ اورکارروائی کا اثر بالکل مختلف ہوگا۔ وہیں پولیس ہائی وے پر ہوئے حادثات کا تجزیہ ، جرائم پر کنٹرول اورغلط چل رہی گاڑیوں کا چالان کرے گی۔ ہرطرح کی اسمگلنگ وغیرہ کی روک تھام کیلئے وہ ذمہ دار ہوگی ۔مافیا ہویاکان مافیا ساری ڈھلائی ملی بھگت سے رات کو ہی ہوتی ہے۔ کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ اسے روک لے۔ یہ کام محض وردی دھاری پولیس والا ہی کرسکتاہے۔
سڑک حادثات سے ہونے والے مالی اورجانی نقصان کے علاوہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی مالی امداد جیسے کئی پہلوؤں کا کوئی اقتصادی تجزیہ نہیں ہوتا۔ سڑک حادثات میں عموماً خاندان کے فعال ممبر کی ہی ایک بیک موت ہوجاتی ہے جو عموماً خاندان کا کماؤ فرد ہوتاہے۔ اس سے اس کے خاندان کی معیشت برباد ہوجاتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس کا اثر جی ڈی پی پر بھی پڑتاہے۔ قریب تین دہائیوں قبل اندازہ لگایاگیاتھا کہ سڑک حادثات سے ملک کو سالانہ تقریباً 35ہزار کروڑ روپئے کا خسارہ ہوتا ہے۔ آج یہ خسارہ دوتین گنازیادہ ہوگیاہوگا۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS