’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے بغیر ہدف کی تکمیل ممکن نہیں

0

صبیح احمد

وزیراعظم نریندر مودی ہندوستان کو دنیا میں ایک بڑی اقتصادی سپرپاور کے طور پر ابھارنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ یہ ہدف اکیلے کسی خاص پارٹی یا طبقہ کے بس کی بات نہیں ہے، اس کے لیے پورے ملک اور سماج کے ہر چھوٹے بڑے طبقہ کی محنت اور تعاون کی ضرورت ہے۔ جہاں تک معاشی نمو کا سوال ہے، وزیراعظم مودی یہ بھی جانتے ہیں کہ مسلمان چھوٹے کاروبار کے ذریعہ ملک کی معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں اور یہ خواب اس کمیونٹی کو ساتھ لیے بغیر پورا نہیں ہوسکتا۔ معاشی سپرپاور بننے کے لیے پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات بھی ضروری ہیں۔ ہمسایہ ممالک پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ طویل المدتی اچھے تعلقات اسی وقت قائم ہوسکتے ہیں جب ہندوستان کے اندر مسلمانوں کی حالت بہتر ہو اور ان کا حکومت کے ساتھ بداعتمادی کا رشتہ نہ ہو۔ ہندوستان کی بین الاقوامی تجارت بھی سب سے زیادہ مسلم ممالک کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔ اس تجارت میں بھی اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے ہندوستان کو مسلمانوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔
دراصل مسلمانوں کے معاملے پر حالیہ دنوں میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ(آر ایس ایس) اور بی جے پی کے درمیان بہترین تال میل اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ دونوں تنظیموں کے قائدین مسلمانوں کو منانے اور اپنے ساتھ لانے کی مسلسل کوشش کرتے نظر آرہے ہیں۔ سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت مسلمانوں کے بغیر ہندوستان کے نامکمل ہونے کی بات کرتے ہیں، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی بی جے پی کی حیدرآباد نیشنل ایگزیکٹیو میں اعلان کرتے ہیں کہ پارٹی کا مشن مسلمانوں تک پہنچنا چاہیے۔ کشمیری لیڈر غلام علی کھٹانہ کو راجیہ سبھا میں بھیجنا بھی سنگھ پریوار کی مسلمانوں کے قریب جانے کی اسی سوچ کا ایک نمونہ ہے۔ ابھی حال ہی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے وی سی پروفیسر طارق منصور کو یوپی قانون ساز کونسل کا رکن نامزد کرنے کا فیصلہ بھی علامتی طور پر مسلمانوں کو خوش کرنے کی سمت اہم قدم ہے۔ درحقیقت بی جے پی مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کو خوش کرنے اور دانشور طبقے کے درمیان پارٹی مخالف تصور کو توڑنے کی حکمت عملی پر آگے بڑھ رہی ہے۔ اس سلسلے میں پارٹی پرانے چہروں کو چھوڑ کر مسلمانوں کی ایک نئی ٹیم تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہے، جس میں دانشور اور پسماندہ طبقے کی شخصیات کو ترجیح دی جارہی ہے۔ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں کسی بھی قیمت پر مسلم کمیونٹی کے ایک طبقہ کے ووٹ حاصل کرنے کی حکمت عملی گزشتہ سال حیدرآباد میں منعقدہ قومی ایگزیکٹیو میٹنگ میں بنائی گئی تھی۔ اس کا روڈمیپ ووٹوں کی پروا کیے بغیر مسلمانوں بالخصوص پسماندہ مسلمانوں تک پہنچنے کی وزیراعظم کی کال کے بعد تیار کیا گیا تھا۔
مسلمانوں کی نئی ٹیم بنانے کے اشارے گزشتہ سال کئی مواقع پر ملے۔ اترپردیش میں محسن رضا کی جگہ دانش انصاری کو وزیر بنایا گیا۔ راجیہ سبھا میں مختار عباس نقوی اور ظفر اسلام کی میعاد میں توسیع نہیں کی گئی۔ مودی حکومت نے غلام علی کھٹانہ جو کہ گجر مسلم کمیونٹی کے رکن ہیں، کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا۔ شہزاد پونا والا کی شکل میں ایک تیز طرار نوجوان کو پارٹی کا ترجمان بنایا گیا۔ اب پروفیسر منصور کو قانون ساز کونسل میں نامزد کیا گیا ہے۔ بی جے پی کے حکمت عملی سازوں کا خیال ہے کہ مسلمانوں کے درمیان پارٹی کے اثر انداز نہ ہونے کی بنیادی وجہ دانشور طبقہ میں پیدا ہونے والا پارٹی مخالف تصور ہے۔ اس سے پہلے پارٹی منصوبہ بند طریقے سے پسماندہ اور اسکیموں کے فائدے کے حق دار طبقے تک نہیں پہنچ سکی تھی۔ ان دونوں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پارٹی کو اس طبقہ سے ایک نئے اور اہم چہرے کی ضرورت تھی۔ اس کے علاوہ اثر و رسوخ والی ریاستوں میں زیادہ تر سیٹیں پارٹی کے پاس ہیں جبکہ اس بار تلنگانہ کے علاوہ توسیع کی کہیں اور گنجائش نہیں ہے۔ ایسے میں پارٹی کو اثر و رسوخ والے علاقوں میں سیٹیں برقرار رکھنے کے لیے اضافی ووٹوں کی ضرورت ہے۔ پارٹی ماضی میں اب تک مسلمانوں کے حوالے سے علامتی سیاست کرتی رہی ہے جس کی وجہ سے تنظیم اور حکومت میں منتخب چہروں کو اہمیت ملی، لیکن پارٹی کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ملا۔ وزیراعظم مودی اس روایت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 9 سالوں میں نجمہ ہیپت اللہ، ایم جے اکبر کی اہمیت کم ہوئی اور کئی چہروں کو راجیہ سبھا میں دوسرا موقع نہیں ملا۔
ایک اور اہم طبقہ جس کے دوٹوں پر تمام سیاسی پارٹیوں کی نظر رہتی ہے، وہ کثیر آبادی والا دلت طبقہ ہے۔ دلتوں میں اپنی گرفت کو مضبوط کرنے کیلئے بی جے پی نے اس بار اپنا یوم تاسیس 6 اپریل سے 14 اپریل تک ’سماجی انصاف ہفتہ‘ کے طور پر منایا۔ اس حوالے سے پارٹی صدر جے پی نڈا اور پارٹی جنرل سکریٹریوں کی میراتھن میٹنگ میں بوتھ لیول سے لے کر قومی سطح تک پروگرام ترتیب دینے کا فریم ورک تیار کیا گیا۔ اسی پروگرام کے تحت پارٹی قائدین اور کارکنان کے ذریعہ جیوتی با پھولے اور امبیڈکر کے یوم پیدائش پر پسماندہ لوگوں تک پہنچ کرانہیں مودی حکومت کے دور میں کیے گئے کاموں کی جانکاری دی گئی۔ ادھر کیرالہ میں بھی گزشتہ کئی سالوں سے بی جے پی زمین پر اپنی تنظیم کو مضبوط کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ کئی لوگ اس کے ساتھ وابستہ بھی ہیں لیکن پھر بھی اس حمایت کو ووٹوں میں تبدیل کرنے کا فی الحال انتظار ہے۔ پارٹی کو توقع کے مطابق کامیابی نہیں مل رہی ہے۔ اب وزیراعظم نریندر مودی نے کمان سنبھالتے ہوئے بی جے پی کو کیرالہ میں توسیع کا منتر دیا ہے۔ اسی منتر کے ذریعہ پارٹی زمینی سطح پر سیاسی تال میل کو بدلنا چاہتی ہے۔ عیسائی اور مسلم ووٹ اس تال میل میں اہم کردار ادا کرنے والے ہیں۔
دراصل وزیراعظم مودی کے کہنے پر ہی بی جے پی نے کیرالہ میں مسلم اور عیسائی اقلیتوں تک رسائی بنانے کا پروگرام تیار کیا ہے۔ اس کے تحت عیسائی اور مسلم دونوں ووٹروں تک پہنچا جائے گا۔ پارٹی ہر تہوار پر اپنی موجودگی درج کرائے گی۔اسی سلسلہ میں ایسٹر سنڈے کو سیکرڈ ہارٹ کیتھڈرل پہنچے۔ عیسیٰ مسیح کی مورتی کے سامنے موم بتی جلائی اور عیسائی کمیونٹی کے روحانی رہنمائوں سے ملاقات کی۔ اس سے قبل وزیراعظم نے مسلمانوں کے ماہ مقدس رمضان کی انہیں مبارک باد دی تھی۔ بی جے پی کارکنان خاص طور پر عیسائیوں کے گھرگئے۔ 15؍اپریل کو مقدس تہوار پر عیسائیوں کو ہندو کارکنوں کے گھروں میں مدعو کیا جائے گا۔ اسی طرح اپریل کے تیسرے ہفتہ میں بی جے پی کارکنان نے عید کے موقع پر مسلمانوں کے گھروں میں جانے کا پروگرام بنایا ہے۔ اب بی جے پی کی یہ وہ پیش رفت ہے جس کے ذریعہ وہ کیرالہ کے لوگوں کے قریب جانا چاہتی ہے۔ ہندی زبان والی پارٹی کا جو تصور ہے، اسے توڑنا ہی بی جے پی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس چیلنج کے درمیان توقع کی جا رہی ہے کہ اس قسم کا عوامی رابطہ پروگرام پارٹی کو زمین پر مضبوط ہونے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کیرالہ میں 18 فیصد عیسائی، 28 فیصد مسلمان اور 54 فیصد ہندو ہیں۔ اب پارٹی نہ صرف ہندو ووٹ چاہتی ہے بلکہ اس کی نظر عیسائی اور مسلم ووٹ بینک پر بھی ہے۔ اسے یہ ووٹرس اپنی جھولی میں چاہیے۔ اگر بی جے پی کی یہ حکمت عملی کامیاب ہوجاتی ہے تو بائیں بازو اور کانگریس کو کیرالہ میں تیسرا چیلنج مل سکتا ہے۔
اس صورتحال کے بعد بھی سچائی یہ ہے کہ دونوں تنظیموں (آر ایس ایس/بی جے پی) سے اقلیتوں بالخصوص مسلم کمیونٹی کی دوری برقرار ہے۔ اس کے لیے بی جے پی کے اپنی سیاسی بنیاد بڑھانے کے ہتھکنڈوں کو زیادہ ذمہ دار بتایا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں جب کرناٹک میں دونوں کمیونٹیوں کے درمیان حجاب کے معاملے پر کشیدگی بڑھی تب بھی اسے اسی زاویے سے جوڑ کر دیکھا گیا۔ لیکن مانا جا رہا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی اب اس دور سے آگے کی سیاست کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے وہ مسلم کمیونٹی کو بھی اپنے ساتھ لانا چاہتے ہیں۔ مسلم کمیونٹی تک پہنچنے کی کوششیں اس کڑی سے جوڑ کر دیکھی جا سکتی ہیں۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS