جو کام کیا ہم نے وہ رستم سے نہ ہوگا

0

مولانا عبدالعلی فاروقی، لکھنؤ

’خواہ مخواہ‘ فارسی کے ان دو لفظوں کا سیدھا سادھا ترجمہ تو یہی ہے کہ ’’چاہو یا نہ چاہو‘‘ مگر اردو میں اس کا طرح طرح سے استعمال ہوتا ہے—— حتیٰ کہ میری نظروں سے ایک صاحب ایسے بھی گذرے ہیں جن کو مونگ کی دال سے بنی ہوئی ’’دربش‘‘ نامی ایک مٹھائی بہت پسند تھی، جسے دوسروں سے کھانے کے لئے انہوں نے یہ ترکیب کی کہ اس مٹھائی کو اپنی چڑھ بنا لیا تھا —— اب ہوتا یہ تھا کہ انہیں دیکھتے ہی لڑکے پکار اٹھتے کہ ’’چچا، دربش کھائیے گا؟‘‘
اور وہ اپنا ’’مصنوعی غصہ‘‘ دکھاکر اس بات کی کوشش کرتے کہ کسی طرح یہ ضد میں آکر مٹھائی لے آئے تو ان کا کام بن جائے گا۔
ایسا ہی ایک موقع تھا چند نوجوان لڑکے سرراہ انہیں روکے کھڑے تھے، اور وہ ہاتھ ہلاہلا کر اپنے ’’مصنوعی غصے‘‘ کا اظہار کررہے تھے۔ میں نے قریب جاکر پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ تو جواب میں وہ صاحب بولے کہ دیکھئے ’’خوا ما خواہی میں‘‘ یہ پریشان کررہے ہیں۔ میں نے ہنس کر کہا کہ ’’دربش‘‘ کا ذکر کررہے ہیں؟ انہوں نے جواب میں کہا ’’لا حول ولاقوۃ‘‘ آپ بھی خواماخاہی میں ایک گندی چیز کا ذکر کررہے ہیں، آپ سے تو ایسی امید نہ تھی، ہاں ’’پیلی برفی‘‘ (دربش کا رنگ مونگ کی دال کی وجہ سے پیلا ہی ہوتاہے) کی بات کرتے تو اچھا لگتا۔
بہرحال موصوف ’’گڑ کھائیں اور گلگلوں سے پرہیز‘‘ والی کہاوت پر عمل کرتے ہوئے نہ جانے کتنی دربش، پیلی برفی کے نام سے کھاگئے —— اور اپنے ’’خواماخواہی‘‘ کا مزہ لیتے رہے۔
دراصل اردو زبان میں یہ خواہ مخواہ، ایک دوسری فارسی ترکیب ’’دخل درمعقولات‘‘ کے موقع پر استعمال ہوتا ہے، جسے آپ اردو کی مہاوراتی زبان میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ’’مان نہ مان، میں تیرا مہمان‘‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
بات کو واضح طور پر سمجھنے سمجھانے کے لئے ایک مثال پیش کی جارہی ہے کہ جیسے آج کل ’’مدارس کا سروے‘‘ گرماگرم موضوع ہے۔ اور اس میں ’’خواہ مخواہ‘‘ کا خوب خوب استعمال ہورہا ہے۔
سروے ہونا چاہئے یا نہ ہونا چاہئے:یہ عنوان تو اب ختم ہوچکا ہے۔ کیوں کہ سروے کا کام بڑے پیمانے پر شروع ہوچکا ہے، کئی شہروں میں تو یہ کام مکمل بھی ہوچکا ہے۔ اور تادم تحریر بعض کلیدی اور اہم مدارس کے ساتھ ساتھ چھوٹے بڑے درجنوں مدارس کا سروے ہوچکا ہے۔ اور سروے کرنے والی ٹیم کو ہر جگہ ’’کھودا پہاڑ، نکلا چوہا‘‘ والی حالت کا سامنا کرنا پڑا ہے؟ کیسے کیسے ارمان سجاکر سروے کرنے والے، اور ان کے ساتھ ان کے جڑواں بھائی الیکٹرانک میڈیا والے جاتے ہیں۔ اور کتنے مایوس ہوکر واپس آتے ہیں؟ اس کے بارے میں بس اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ ؎
گذرتی ہے جو دل پرمبتلاکے مبتلا جانے
جو ہو بے درد وہ درد دل بیمار کیا جانے
اب جب کہ مدارس کا سروے چل رہا ہے، اور اللہ کے کرم سے اب تک ہر طرف سے خیر ہی خیر کی خبریں آرہی ہیں۔ تو ’’خواہ مخواہ‘‘ کچھ لوگوں کے پیٹ میں مروڑ ہورہی ہے؟ ان میں کے اکثر ’’مدرسہ والے‘‘ نہیں ہیں۔ پھر بھی ’’خواہ مخواہ‘‘ مفت مشوروں بلکہ احکام سے لے کر مدرسہ والوں پر تنقیدیں کرنے تک کا ’’ملّی فریضہ‘‘ انجام دے رہے ہیں؟ ایک صاحب ’’آزاد صحافی‘‘ بن کر اپنے سوا دوسرے تمام ہی لوگوں کو عقل ودانش سے محروم، بے بصیرت، اور عاقبت نااندیش قرار دیتے رہنے ہی کو ملّت کے ساتھ خیرخواہی سمجھتے ہیں۔ کوئی بھی نیا معاملہ آیا وہ اپنی ’’لمبی چوڑی رائے‘‘ کے ساتھ حاضر ہیں؟
ان سے کوئی پوچھے کہ آپ ہیں کیا؟ کتنے لوگ ہیں جو آپ کی ’’دہائیوں‘‘ کا نوٹس لیتے ہوں؟ —— بلاوجہ ’’قاضی جی شہر کے اندیشے میں دبلے ہورہے ہیں‘‘؟ بڑے میاں کی دیکھا دیکھی کچھ چھوٹے میاں بھی خامہ فرسائی کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں —— فلاںصاحب پہلے تو یہ کہتے تھے، اب یہ کیوں کہہ رہے ہیں؟ اوپری دباؤ سے مجبور ہیں، اپنی منوانے کی صلاحیت نہیں ہے، اس لئے ’’اوپر‘‘ کی ماننے پر مجبور ہیں (خیر سے ابھی اس کا ذکر نہیں آیا ہے کہ کتنی رقم لے کر یا کن عہدوں کے وعدوں پر یہ بیان جاری کئے ہیں) ارے بھائی! میںکہتا ہوں کہ خریدار بھی تو مال ہی خریدتا ہے۔ سڑک پر بکھرا ہوا کوڑا کوئی بھی نہیں خریدتا۔ ہاں اسی کوڑے کو سمیٹ کر ’’الگ الگ کوالٹیاں‘‘ بنادی جائیں تو بہت سے خریدار مل جاتے ہیں۔ وہ لوگ جن کو ’’خواہ مخواہ‘‘ والے صاحبان ناعاقبت اندیش، ملت کے غدار، اور بکاؤ مال تک قرار دے رہے ہیں۔ وہ اپنے کلیجوںپر ہاتھ رکھ کر خود ہی فیصلہ کریں کہ ان کی اس پرزور وپرشور اور ’’مخلصانہ خواہ مخواہی مہم‘‘ کے باوجود آج تک وہ اس قابل بن سکے کہ ان کو ٹکے میں بھی کوئی خریدنے کے لئے تیار ہوسکے؟ چلئے ’’آپ کے وہ ملت فروش اور عاقبت نااندیش علماء مدارس‘‘ کسی دباؤ ہی میں بیان دے رہے ہوں، تو بھی وہ اس لائق تو ہیں کہ ان پر دباؤ ڈال کر بیان دلوانے کو ’’اوپروالے‘‘ بھی ضروری سمجھتے ہیں —— جب کہ آپ جناب ’’خواہ مخواہ‘‘ والے اپنی ’’خواہ مخواہی‘‘ دکھاکر خود ہی اپنی پیٹھ تھپتھپالیں کہ ؎
کودا ترے گھر میں کوئی دھم سے نہ ہوگا
جو کام کیا ہم نے وہ رستم سے نہ ہوگا
ارے رے رے، میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا؟ بات اردو زبان میں ’’خواہ مخواہ‘‘ کے استعمال سے شروع ہوئی تھی۔ تو عرض یہ کرنا ہے کہ خواہ مخواہ آپ اس خواہ مخواہ کی کھوج میں پڑ کر کیا پائیں گے؟ جہاں تک دباؤ اور وقت کے ساتھ بدلنے والے بیانات کی بات ہے تو اس سلسلہ میں پہلے ایک ’’سچا لطیفہ‘‘ سن لیجئے کہ ایک مرتبہ ایک شریف سے دوست سے کسی بات پر میں نے کہا کہ آپ تو ’’زن مرید‘‘ ہیں۔
یعنی اپنی بیوی سے ڈرتے ہیں —— جواب میں انہوں نے بڑے اطمینان کے ساتھ کہا کہ یہ تو میرے شریف ہونے کی پہچان ہے۔ کیوں کہ ہر شریف آدمی اپنی بیوی سے ڈرتا ہے —— یہی تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عورت کو تحفہ ہے کہ وہ بھی برابر سے کھڑے ہوکر بات کرسکتی ہے۔ خود اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات پرٹوکا کہ ’’تم نے اپنی بیویوں کی خوشنودی کے لئے حلال چیز کو اپنے لئے حرام کیوں کیا؟ اس سے پتہ چلا کہ بیویوں کا دباؤ ماننے والا شریف انسان ہوتا ہے۔ بیویوں کو پیر کی جوتی سمجھ کر ان پر حکومت کرنے والے تو بدمعاش اور نبی کے نافرمان ہوتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ میں اپنے اللہ اور اس کے نبی کے فرماں برداروں میں سے ہوں۔
ان کا یہ تفصیلی جواب سن کر میں ہکابکا رہ گیا تھا، اور پھر اس دن کے بعد سے میں نے کسی کو ’’زن مرید‘‘ ہونے کا طعنہ نہیں دیا۔
کچھ ایسا ہی معاملہ ’’اوپر والے‘‘ کی جائز اور معقول بات کو تسلیم کرنے اور ہر موقع پر ٹکرانے کی بہادری نہ دکھانے کا بھی ہے۔ اسی طرح جو بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ اپنی رائے کو تبدیل نہ کرے، اور وقت کے تقاضوں کی رعایت سے یکسرمنہ موڑتا رہے اسے عقل مندنہیں، دوراندیش اور عاقبت اندیش نہیں، بلکہ احمقوں کی جنت کا بادشاہ کہا جائے گا۔ جس کی سن کر ان سنی کردینا ہی عقل ودانش کا تقاضا ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS