برطانیہ: جنوبی ایشیائی کمیونٹی کا رویہ افسوسناک

0

ایم آئی ظاہر
دبئی میں گزشتہ ماہ کے اواخر میں انڈیا۔ پاکستان ایشیا کپ کے مدنظر ہندو اور مسلم گروپس میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔ مشرقی انگلینڈ کے شہر لیسٹا میں ہند-پاک کرکٹ میچ کے بعد سے ان جھڑپوں اور تشدد کے مناظربار بار دیکھے گئے۔یہ معاملہ آج پوری دنیا میں سرخیوں میں ہے۔ ایک ایسا شہر جس کی ایک خوبصورت تاریخ ہے۔دراصل مشرقی لیسٹا بہت سی تہذیبوں کا گلزارامن پسند شہر ہے۔یہ دنیا کا عظیم شہر ہے۔ کسی اور مقام پر اتنی مختلف زبانیں بولنے والے آباد نہیں ہیں۔یہاں لوگ دیوالی‘ عید اور بیساکھی ایک بڑے کنبہ کی طرح مناتے ہیں۔جنوبی ایشیا کے لوگوں کا سر تب شرم سے جھک گیا جب انہیں یہ خبر ملی کہ برطانیہ کے شہر لیسٹا میں بدامنی پھیلنے کے بعد ’مزید کشیدگی روکنے‘ والے آپریشن کے دوران نام نہاد مہذب جنوبی ایشیائی گرفتار بھی ہوئے۔اس بات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس فساد اور خبر نے انگریزوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہندوستانی ہو یا پاکستانی ، یہ چاہے ہی کتنے بھی پڑھ لکھ لیں، بھلے ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہونے کے دم بھر لیں ، کتنی بھی ترقی کر لیں، خواہ کہیں بھی کسی بھی ملک میں رہ لیں، ان کی ذہنیت تشدد کی ہی رہی ہے۔یہ غلط پیغام بھی گیا ہے کہ ایک ملک تقسیم ہونے اوراس پر 75 برس تک گزر جا نے کے بعد بھی ان دونوں ممالک کے شہری اب تک گنوار ہی ہیں۔ مشرق ہی نہیں مغرب اور ساری دنیا تک یہ خبر پہنچی ہے کہ برطانیہ کے مشرقی لیسٹا کے کچھ علاقوں میں بڑی تعداد میں پڑھے لکھے پاکستانی اور ہندوستانی باشندوں نے آمنے سامنے آنے اور ’نسل پرستانہ اور نفرت انگیز نعرہ بازی‘ کر کے اپنے اپنے ملک کا سر شرم سے جھکا دیا۔اگر احساس برتری والے یہ جنوبی ایشیائی مہذب اور شائستگی کا ثبوت پیش کرتے تو دونوں ممالک اس درجہ اور یوں شرم سار نہ ہوتے۔ دونوں جانب کے چند لوگوں کے اس غیر ذمہ دارانہ سلوک و عمل کے باعث ہی تو بدنظمی پیدا ہو گئی تھی۔ اس کے بعد احتجاجی مظاہرہ ہوا تھا۔ یعنی جنوبی ایشیائی معاشرے نے دوسری بار بیرونی ملک میں انگریزوں کے سامنے اپنے اپنے ملک کی ناک کٹوا دی۔حالانکہ یہ خوش آئند بات ہے کہ پولیس کی نظر میں اس احتجاج کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی۔برطانیہ کے معتبر ذرائع کے مطابق اس احتجاج میں اس اتوار کی شام تقریباً 100 افراد کا ایک گروپ شہر میں جمع ہوا تھا۔یہ افراد بیلگریو روڈ پر جمع ہوئے تھے۔ جنوبی ایشیا کے ان نام نہاد مہذب مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ حالیہ کشیدگی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ یعنی کشیدگی کم کرنے کے نام پر کشیدگی اور بڑھا رہے تھے۔جبکہ دونوں فریقین کو گاندھی اور ارون کی میٹنگ والے ملک میں آپس میں سمجھوتے کی گفتگو کرنا چاہیے تھی۔دونوں ہی یہ بھول گئے کہ آپ ہندوستان اور پاکستان میں نہیں،برطانیہ میں ہیں،آپ اپنے اپنے ملک کے تہذیبی سفیر ہیں اور سڑک پر آپ کی ان حرکتوں کی وجہ سے ایک دوسرے ملک میں پولیس نے آپ کے لیے سڑک بند کی ہے وہ سڑک کے بعد کل پاسپورٹ اور ویزا بند کرنے کا راستہ بھی کھول سکتی ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مظاہرین میں سے کچھ نے تھوڑی دیر کے لیے پولیس لائنوں سے گزرنے کی کوشش کی، انھیں شکایت تھی کہ انھیں مارچ کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ اس پورے نفرتی تناظر میں یہ خوشی کی بات رہی کہ اس سے قبل مشرقی لیسٹا کے کچھ علاقوں میں بدنظمی پیدا ہونے کے بعد پولیس اورپاکستانی و انڈین کمیونٹی کے امن پسند رہنماؤں نے سب سے پرامن رہنے کی اپیل کی تھی۔ ہندوستانی اور پاکستانی نژاد امن کے ان سفیروں کو اپنی ان کوششوں کو تحریک میں تبدیل کر کے گفتگو کی راہ ہموار کرنا چاہیے۔
اس معاملہ کے مطالعہ کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ آن لائن فوٹیج میں دکھایا گیا تھا کہ ہفتہ کی شام سینکڑوں لوگ، خاص طور پر مرد، سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ غور طلب ہے کہ 28 اگست کو ایشیا کرکٹ کپ میں انڈیا اور پاکستان کے مابین کھیلے گئے کرکٹ میچ کے بعد پیدا ہو ئی کشیدہ صورتحال کی یہ متواتر کڑی ہے۔پولیس کا کہنا تھاکہ وہ صورتحال کو ’قابو میں کر رہے ہیں‘ اور عام شہریوں سے کہا کہ وہ اس میں ملوث نہ ہوں۔افسوس ہے کہ اس تنازعہ کی وجہ سے بار بار جھڑپیں ہوئیں۔عارضی چیف کانسٹیبل راب نکسن ایک ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے نظر آئے ’ہمیں مشرقی لیسٹر کے کچھ حصوں میں بد نظمی کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ہمارے پاس ارکان عملہ موجود ہیں، ہم اس صورتحال کو کنٹرول کر رہے ہیں، وہاں اضافی نفری بھی بھجوائی جا رہی ہے۔ پولیس کو ہجوم کو منتشر کرنے، شہریوں کو روکنے اور تلاشی لینے جیسے اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں’ پولیس چیف نے شہریوں سے پر امن دینے کی اپیل کی ہے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS