آزادیٔ اظہار کی بدتر صورتحال

0

آدمی آزاد پیدا ہوتا ہے اور آزاد ہی مرتا ہے، البتہ کوئی اپنی زندگی ذہنی طور پر غلام بن کر گزارتا ہے جبکہ کسی کو ذہنی طور پر غلام بناکر جینے پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ وہ سوال نہ کرے، وہ اپنے ہی جیسے ان انسانوں کے خود کو برتر ثابت کرنے کی کوششوں پر پانی نہ پھیرے۔ سقراط کے دور سے آج تک اسی لیے سوال کرنے والے لوگ حکمراں طبقے کے کم ہی لوگوں کو پسند آتے ہیں۔ دنیا بھر میں بظاہر تو لوگ آزاد نظر آتے ہیں مگر ان کے اظہار کی آزادی محدود ہے، برطانیہ کے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’آرٹیکل 19‘ کی رپورٹ کے مطابق، دنیا کی صرف 15 فیصد آبادی ہی آزادیٔ اظہار کا حق رکھتی ہے یعنی دنیا کے ہر 20 میں سے 3 آدمی ہی آزادیٔ اظہار کا حق رکھتے ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ طاقتور اور بااثر انسانوں نے آدمیوں پر کس طرح شکنجہ کسا ہوا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک طرف غالبؔ کے لفظوں میں کہیں تو ’آدمی کو بھی میسر نہیں انساں بننا‘ جبکہ دوسری طرف ترقی یافتہ ملکوں کے لیڈران انسانی فلاح و بہبود کی باتیں کرتے رہتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ وہ جنگ تک انسانیت کے تحفظ کے نام پر کر ڈالتے ہیں۔ اس کی مثال عراق جنگ ہے مگر ان کی ترجیحات کی فہرست میں آزادیٔ اظہار کو کبھی بہت زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ وہ آزادیٔ اظہار یا آزادیٔ اظہار رائے کی بات اس وقت ضرور کرتے ہیں جب کوئی نام نہاد کارٹونسٹ اپنے فن سے مقدس مذہبی شخصیت کا مذاق اڑانے کی یہ جانتے ہوئے بھی مذموم کوشش کرتا ہے کہ ہر آزادی کا ایک دائرہ ہے، یہ دائرہ تبھی قائم رہے گا، ہر آدمی کی آزادی تبھی محفوظ رہے گی جب اپنے اظہار رائے کی آزادی کی حفاظت کے ساتھ دوسروں کے آزادیٔ اظہار کا احترام کیا جائے گا مگر اکثر طاقتور اور بااثر لوگ ایسا نہیں کرتے، اسی لیے آزادیٔ اظہار کی صورتحال دنیا بھر میں اچھی نہیں ہے۔ برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’آرٹیکل 19‘ کی 2022 کے لیے ’گلوبل ایکسپریشن‘ رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ دنیا کے 161 ملکوں میں آزادیٔ اظہار کے حقوق پر صرف 15 فیصد عالمی آبادی ایسے ملکوں میں رہتی ہے جہاں آزادانہ طور پر معلومات کے حصول کی آزادی کے علاوہ انہیں شیئر کرنے کی بھی آزادی ہے۔ یہ تشویش کی بات ہے کہ ہندوستان کا شمار ان ملکوں میں کیا گیا ہے جہاں ’پہلے اظہار کی آزادی محدود تھی تو اب انتہائی محدود ہو گئی ہے۔‘
’آرٹیکل 19‘ کی ’گلوبل ایکسپریشن‘ رپورٹ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ دنیا بھر کی 80 فیصد آبادی ایک دہائی پہلے کے مقابلے کم آزادیٔ اظہار رکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ’آمرانہ حکومتیں اور حکمراں، اس حوالے سے اپنا سخت کنٹرول مزیدبڑھا رہے ہیں کہ ان کے عوام کیا دیکھتے، سنتے اور کہتے ہیں۔‘ملکوں کی درجہ بندی میں ڈنمارک اور سوئٹزرلینڈ نے مشترکہ طور پر پہلی، ناروے اور سویڈن نے دوسری، ایسٹونیا اور فن لینڈنے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ رپورٹ میں ٹاپ 10 ملکوں میں یوروپی ملکوں کا ہی دبدبہ رہا جبکہ شمالی کوریا سب سے آخری پائیدان پر رہا۔ اسے ’دنیا کا سب سے زیادہ جابر ملک‘ قرار دیا گیا۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 10سال پہلے 2011 میں آزادیٔ اظہار کے معاملے میں امریکہ 9 ویں نمبر پر تھا مگر آج وہ 30 ویں نمبر پر ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے، امید کی جانی چاہیے کہ اس پر امریکی لیڈران ضرور غور و خوض کریں گے، کیونکہ دنیا بھر کے ملکوں کو انسانیت پر کچھ کہنے سے پہلے اس معاملے میں خود امریکہ کو مثالی ملک بننا چاہیے۔
دنیاکی آزادیٔ اظہار پر ’آرٹیکل 19‘ کی ’گلوبل ایکسپریشن‘ رپورٹ باعث تشویش تو ہے مگر حیران کن نہیں ہے۔ ایک طرف دنیا میں جمہوریت کی بات کی جاتی ہے، صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون بتایا جاتا ہے اور دوسری طرف صحافی ہلاک کر دیے جاتے ہیں، انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے اور بیشتر حالات میں عدالتوں کا فیصلہ حکومت کی منشا کے مطابق ہی آتا ہے تو پھر دنیابھر میں آزادیٔ اظہار کی صورتحال کیسے بہتر ہوگی۔ 2012 سے 2021 تک صرف 2021 ہی ایک ایسا سال گزرا ہے جب 50 سے کم صحافیوں یعنی 46 صحافیوں کا قتل ہوا، ورنہ 2012 میں تو 147 صحافی مار ڈالے گئے تھے، یہ وہ صحافی تھے جو صحافت میں اپنی شناخت رکھتے تھے، ایسے نہ جانے کتنے صحافی اور مارے گئے ہوں گے جو صحافت تو کر رہے تھے مگر بحیثیت صحافی وہ زیادہ مشہور و مقبول نہیں تھے۔ آزادیٔ اظہار کی صورتحال اگر بہتر بنانی ہے تو پھر جیسے آدمی آزاد پیدا ہوتا ہے اور آزاد مرتا ہے، اسی طرح اسے آزاد جینے کا حق بھی دلانا ہوگا تاکہ دنیا کے صرف 15 فیصد لوگ ہی اظہار کی آزادی سے لطف اندوز نہ ہوں، اور لوگ بھی ہوں۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS