’اسلاموفوبیا کے سنگین مسئلے پر عالمی مہر

0

صبیح احمد

نیوزی لینڈکے کرائسٹ چرچ کی 2 مسجدو ں میں 51 افراد کے بہیمانہ قتل کے ٹھیک 3 سال بعد اقوام متحدہ نے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف لڑنے کے لیے بین الاقوامی دن کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ یہ برسوں سے مسلمانوں کودرپیش سنگین مسئلہ کو عالمی طور پر تسلیم کیے جانے کی جانب اہم قدم ہے۔ اس سے قبل کئی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) نے بھی مسلم مخالف نسل پرستی کے خلاف قومی دنوں کا اعلان کر رکھا ہے۔ جرمنی میں یکم جولائی کو یا اسلاموفوبیا کے خلاف 21 ستمبر کو یوروپین ڈے اس کی مثالیں ہیں۔ لیکن مسلم مخالف جذبات سے نمٹنے کے حوالے سے کسی ریاست اور بین الاقوامی ادارہ کی جانب سے ابھی تک کسی خاص دن کو مخصوص نہیں کیا گیا تھا۔ 193 رکن ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اتفاق رائے سے اس قرارداد کو منظوری دی ہے۔ دنیا بھر میں مذہب اسلام کے پیروکاروں کے خلاف نفرت، امتیازی سلوک اور تشدد کو روکنے کے لیے اسلامی ملکوں کی تنظیم ’او آئی سی‘ کی جانب سے اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر نے اس حوالے سے ایک قرارداد پیش کی جو منظور کر لی گئی۔ اس قرارداد کو او آئی سی کے 57 ملکوں کے علاوہ 8 دیگر ملکوں نے بھی اسپانسر کیا تھا جن میں چین اور روس بھی شامل تھے لیکن ہندوستان نے اس قرارداد کی منظوری پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
ابھی کچھ ماہ قبل امریکی کانگریس میں بھی اسلاموفوبیا کے خلاف ایک بل منظور ہوا ہے۔ اس بل کا نام ’بین الاقوامی اسلاموفوبیا کا مقابلہ‘ ہے۔ آخر امریکہ میں اس طرح کے قانون کی ضرورت کیوں آن پڑی؟ امریکی ایوان نمائندگان کی مسلمان ڈیموکریٹ رکن الہان عمر اکثر و بیشتر دائیں بازو کے سیاست دانوں یہاں تک کہ سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ تک کی بھی تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہیں مگر گزشتہ دنوں انہیں ایوان نمائندگان کے فلور پر ہی ایسے الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ ایوان کو وہ الفاظ حذف کرنے پڑے۔ 14 دسمبر 2021کو جس وقت الہان عمر کے اسلامو فوبیا کے خلاف پیش کردہ ایک بل پر بحث ہو رہی تھی، ریپبلکن پارٹی کے رکن کانگریس اسکاٹ پیری نے یہ دعویٰ کیا کہ الہان عمر کا تعلق ایک دہشت گرد تنظیم سے ہے۔ گزشتہ سال نومبر کے اختتام میں ریپبلکن نمائندہ لورین بوبرٹ کا ایک ویڈیو سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے الہان عمر کو ’جہاد اسکواڈ‘ کا حصہ کہتے ہوئے مبینہ طور پر دہشت گرد قرار دیا تھا۔ اس کے کچھ دن بعد ریپبلکن نمائندہ مارجوری ٹیلر گرین نے الہان عمر کو ’جہادی‘ قرار دیا۔
اسلامو فوبیا عمومی طور پر مذہب اسلام یا مسلمانوں کے خلاف خوف، نفرت یا تعصب کا جذبہ ہے، خاص طور پر جب انہیں جغرافیائی و سیاسی طاقت یا دہشت گردی کے وسیلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بہرحال بطور اصطلاح اسلاموفوبیا کا دائرہ کار اور ٹھوس تعریف اب بھی بحث کا موضوع ہے۔ کچھ دانشور اسے نسل پرستی یا نسل کشی کی ایک شکل تصور کرتے ہیں، کچھ اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کو ایک دوسرے کے بہت قریب مانتے ہیں یا ایک دوسرے کا متبادل قرار دیتے ہیں جبکہ دانشوروں کا ایک دیگر طبقہ ہے جن کو ان دونوں میں کسی قسم کے رشتے پر اعتراض ہے۔ ان کا جواز یہ ہے کہ مذہب کوئی نسل نہیں ہے۔ زیادہ تر لوگ 9/11 حملے، داعش کے عروج اور امریکہ و یوروپ میں شدت پسندانہ حملوں کو اسلاموفوبیا کے لیے ذمہ دار مانتے ہیں جبکہ ایک دیگر طبقہ ایسا بھی ہے جو اسے عالمی سطح پر اسلامی شناخت کے ظہور پر ردعمل قرار دیتا ہے۔ عام فہم زبان میں ’اسلاموفوبیا‘ کا مطلب مذہب اسلام یا مسلمانوں کے خلاف ان کے عقائد کی بنیاد پر نفرت، تعصب یا خوفزدہ کرنے کا رویہ برتنا ہے۔
یہ مسئلہ صرف امریکہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا خاص طورپر مغربی ملکوں میں مسلمانوں کے حوالے سے ایک بیانیہ قائم ہوا ہے کہ مسلمان اور خوف و دہشت کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ پچھلے کچھ سالوں کے سیاسی واقعات نے اس میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ لندن کے مئیر کے گزشتہ الیکشن میں مسلمان (لیبر پارٹی کے) امیدوار کے خلاف جس طرح سے برطانوی وزیر اعظم تک نے ’اسلامو فوبیا‘ کا استعمال کیا ہے، اس کی شاید ہی کوئی اور مثال ملے۔ انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایوان میں صادق خان کا شدت پسند عناصر سے تعلق جوڑتے ہوئے کہا تھا کہ ’لیبر پارٹی کے امیدوار شدت پسندوں کے ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر بیٹھ چکے ہیں اور مجھے ان کے بارے میں بہت خدشات ہیں۔‘ یہ الفاظ کسی انتہائی دائیں بازو یا انتہا پسند تحریک کے رہنما کے نہیں، ملک کے وزیر اعظم کے تھے۔ اور ان ہی کی پارٹی کے امیدوار زیک گولڈ اسمتھ نے اسلامو فوبیا کو ہی اپنی انتخابی تحریک کا محور بنایا۔ بار بار مسلمان امیدوار کا تعلق اسلامی شدت پسندوں سے جوڑ کر ووٹروں کو ڈرایا۔
لندن میں فِنسبری پارک مسجد کے قریب حملے میں ملوث حملہ آور نے برملا مسلمانوں سے نفرت کا اظہار کیا اور گاڑی لوگوں پر چڑھا دی۔ اس سے پہلے ویسٹ منسٹر، مانچسٹر ارینا اور لندن برج کے قریب ہونے والے حملوں کے بعد لوگوں نے کھلے عام مسلمانوں کو قصوروار ٹھہرانا شروع کر دیا۔ پولیس نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مانچسٹر حملے کے بعد مسلمانوں کے خلاف منافرت پر مبنی حملوں میں 5 گناہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 2011 میں برطانیہ میں حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی کی چیئرپرسن اور کابینہ کی پہلی مسلمان خاتون وزیر بیرونس سعیدہ وارثی نے یہ کہہ کر تہلکہ مچا دیا تھا کہ ’برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف تعصب سماج میں کافی حد تک قابل قبول بن چکا ہے اور یہ رویہ ’ڈنر ٹیبل ٹسٹ پاس کر چکا ہے۔‘ ابھی کچھ مہینے قبل کینیڈا میں پاکستان نژاد مسلمان خاندان کے 4 افراد کے قتل نے ’اسلاموفوبیا‘ پر بہت بڑی بحث چھیڑ دی تھی اور بیشتر لوگوں کا دعویٰ تھا کہ 11 ستمبر کے حملوں کو اگرچہ 2 دہائیاں بیت چکی ہیں لیکن صحیح معنوں میں مغربی معاشروں میں اسلاموفوبیا ’اب عروج پر ہے۔‘ اس واقعہ نے پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بسنے والے مسلمانوں میں یہ احساس تازہ کر دیا تھا کہ مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا میں اضافہ ہو چکا ہے۔
صرف مغربی ملکوں میں ہی نہیں بلکہ ایشیائی بالخصوص جنوبی ایشیائی ملکوں میں بھی اسلامو فوبیا خطرناک شکل اختیار کرتا جا رہاہے۔ چین میں اویغور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ میانمار میں تو روہنگیا مسلمانوں کی باضابطہ ’نسل کشی‘ کی جا رہی ہے۔ اس حقیقت کو اب امریکہ کی بائیڈن انتظامیہ نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ جو روہنگیا مسلمان وہاں سے اپنی جان بچا کر کسی طرح بھاگنے میں کامیاب ہوئے، وہ اب دنیا کے مختلف ملکوں میں در در بھٹکنے پر مجبور ہیں۔ اپنے وطن عزیز میں بھی اقلیتوں کو پریشان کرنے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور مبصرین کے ساتھ ساتھ کچھ عرصہ سے اقوام متحدہ، یوروپی یونین، امریکہ اور بعض عرب ممالک بھی ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، تشدد اور مذہبی نفرت کے واقعات میں شدید اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
بلاشبہ دنیا میں اسلاموفوبیا ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ اب دنیا کے سنٹر اسٹیج پر ایک سنگین مسئلہ کے طور پر ابھر کر آیا ہے لیکن اقوام متحدہ کی قرارداد سے کہیں زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ دنیا کے ممالک اپنے اپنے ملکوں میں اسلاموفوبیا پر قابو پانے کے لیے اس کے خلاف سخت قوانین بنائیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ پوری دنیا میں امن کے علمبردار مذہب کے ماننے والوں کے حوالے سے خوف و دہشت یا نفرت کا یہ ماحول کیسے بنا؟ ہمارے معاشرہ میں بھی کچھ عناصر نفرت پھیلانے کے لیے مذہب کا استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو پوری کائنات کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ اسلام مخالف پروپیگنڈے کے تدارک کے لیے ہمیں اپنے عمل و کردار کے ذریعہ رحمۃ للعالمینؐ کے پیغام کو عام کرنا ہوگا۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS