کووڈ بحران،خدمت خلق محسن انسانیت کا صدقہ

0

ڈاکٹر محمد طارق ایوبی

جب ملک میں ہر طرف نفرت کی کھیتی ہو رہی ہو، پیزا بیچنے والوں سے نام پوچھ کر خریدا جارہا ہو، سیاست نے نفرت کا زہر گھر گھر پہنچا دیا ہو، انسان کو انسان کا دشمن بنا دیا ہو، ایسے حالات میں ملک ایک طرف آسمانی آفت کا شکار ہوجائے، دوسری طرف نادان حکمرانوں کی نادانی سے ملک کا بڑا طبقہ نان شبینہ کا محتاج ہو جائے تو پھر جو طبقہ بے چین ہوجاتا ہے اسے مسلمان کہتے ہیں۔ گزشتہ سال لاک ڈاؤن کی ابتدا سے لے کر آج تک جبکہ پورے ملک میں موت کا قہر جاری ہے، لیکن اس نازک گھڑی میں مسلمانوں نے خدمت خلق کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جذبۂ قربانی کی مثال قائم کر دی ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان خدمت خلق کا یہ کام اکثریت کے خوف سے یا اکثریت کو خوش کرنے کے لیے کررہے ہیں، بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ مسلمان کچھ بھی کرلیں اکثریتی طبقہ ان کا احسان نہیں مانے گا، ان کی خدمات کو نہیں سرا ہے گا، اس کے تعصب و نفرت میں کوئی کمی نہیں آئے گی، دراصل یہ دونوں دو غلط انتہائیں اور غلط نظریات ہیں، اصل بات یہ ہے کہ خدمتِ انسانیت، پیامِ انسانیت اور مقامِ انسانیت صدقہ ہے رسولِ انسانیت کی تعلیمات کا، خدمت خلق آپؐ سے ادنیٰ سی نسبت کا نتیجہ ہے، آپؐ کی سیرت پاکؐ، آپؐ کی تعلیم اور آپؐ کا اسوہ ہے۔ خدمت خلق کا کام کسی اکثریتی و اقلیتی سوچ کے ساتھ کرنا حماقت ہے، کسی کو خوش کرنے اور تعلقات بہتر کرنے کی نیت سے کرنا بیوقوفی ہے، اگر نیت درست ہوگی، ارادہ اچھا ہوگا، مالک کائنات کے حسبِ ارشاد سوچ ہوگی کہ ’’ ہم تو صرف خدا کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں ہم اس کا نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکر‘‘ تو دیر سویر اس کے اچھے نتائج ضرور بر آمد ہوں گے۔ مسلمانوں نے اس گئے گزرے دور میں بھی اپنے رسول کریمؐ سے نسبت کا جوثبوت پیش کیا ہے، انسانیت نوازی کے باب میں وہ قابل تعریف ہے۔

موجودہ نازک ترین صورتحال میں ہر شہر میں مسلمانوں اور مسلم تنظیموں کا جذبۂ خدمت قابل دید ہے۔ دواؤں کی فراہمی سے لے کر اسپتالوں میں عمومی امداد، آخری رسومات کی ادائیگی میں تعاون اور گھروں میں طبی سہولتوں کی فراہمی اور گھوم گھوم کر لوگوں کی ضروریات پوری کرنا مسلمانوں کا وہ جذبۂ عمل ہے جو انھیں ان کے نبی کریمؐ کے صدقہ میں ملا ہے۔ اس پاکیزہ و مقدس جذبہ کو تعلقات بہتر بنانے کی بھینٹ چڑھانا اور محض خدمت انسانیت کے طور پر پیش کرنا صحیح نہیں، یہ خدمت خلق اس کے نبی کریمؐ کا کردار و نمونہ اور نبی کریمؐ سے تعلق و نسبت کا صدقہ ہے۔

گزشتہ سال پورے ملک نے کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ ملک کی 15؍ فیصد مسلم آبادی نے خدمت خلق اور انسانیت نوازی کا وہ کام کیا جو 85 فیصد آبادی کو کرنا تھا، تالابندی کے اس دور میں بلا تفریق مذہب و ملت و برادری 80 فیصد کام 15 فیصدمسلمانوں نے کیا جبکہ 20 فیصد کام 85 فیصدآ بادی نے کیا، اس میں بھی جگہ جگہ سے تعصب و نفرت کی خبریں آئیں، بلا تفریق مسلمانوں کا جذبۂ خدمت دراصل صدقہ ہے محسن انسانیت کی تعلیمات اور آپؐ کے کردار کا۔ آج آکسیجن سے لے کر شمشان تک مسلمان جتنی خدمات پیش کر رہے ہیں، یہ سب صدقہ ہے رسول انسانیت کی تعلیمات سے ادنیٰ سی نسبت کا۔ جب گھر کے لوگ ارتھی کو چھونے سے ڈرنے لگیں، جب گھر کے لوگ کورونا کے خوف سے لاش کو ہاتھ لگانے سے بدکنے لگیں، ایسے میں مسلمانوں کا لاشیں اٹھانا، آخری رسومات میں تعاون کرنا، گھر گھر دوائیں اور آکسیجن پہنچانا، اپنی جان پر کھیل کر دوسروں کی جان بچانا نہ سیکولرزم کی چاہت میں ہے نہ قومی یکجہتی کے کھوکھلے نعروں اور نہ انسانیت کے نام پر انسانیت کی دھجیاں اڑانے والوں کو خوش کرنے کی خاطر، یہ سب کچھ صدقہ ہے محسن انسانیت کی انسانی تعلیمات کا، یہ آپؐ کا کردار تھا کہ کسی کا بوجھ اٹھاتے تو کسی کا غم بانٹتے تھے، خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھانا کھلاتے تھے، بے سہاروں کا سہارا بنتے تھے، تنگ دستوں اور مصیبت کے ماروں کی دستگیری کرتے تھے، جس کی تعلیم یہ ہے کہ ’’ لوگوں میں بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لیے مفید و نافع ہو‘‘ جس کا ارشاد یہ ہے کہ ’’اللہ کے یہاں لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو لوگوں کیلئے سب سے زیادہ نافع و نفع بخش ہو‘‘۔ یہ ہیں دراصل وہ تعلیمات اور نمونہ جسے آج بھی اس کے نام لیوا تمام تر زوال کے باوجود سینے سے لگائے ہوئے ہیں، زخم پر زخم سہتے ہیں مگر انسانیت کی بے مثال خدمت کرتے ہیں، یقین نہ ہو تو انسانی خدمات پر مشتمل سوشل میڈیا کی پوسٹوں پر نفرت کے سودا گروں کے تبصرے دیکھ لیجیے تو اندازہ ہوجائے گا اور پھر پتہ چل جائے گا کہ یہ سارے کام انسانوں کو خوش کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں یا انسانوں کے مالک کی رضا کے لیے۔
سوچئے ذرا وہ کون سا جذبہ ہے جس نے اس نازک صورتحال میں جبکہ ہر شخص کو اپنی موت اپنے سامنے کھڑی نظر آرہی ہے، ان لوگوں کو انتظامات کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ ایک کٹر ہندو ایک ویڈیو میں کہتا نظر آرہا ہے کہ ’’میں نے مسلمانوں کو اسپتال سے لے کر شمشان تک بے لوث خدمت کرتے دیکھا ہے، اہل خانہ جس لاش سے بھاگ رہے ہوں، اس لاش کو شمشان تک پہنچاتے دیکھا ہے، بھگوان کے لیے اس مشکل وقت میں ان لوگوں نے جو کچھ کیا ہے اس کو مت بھولنا‘‘۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کتنا مشکل کام ہے لیکن لوگ کر رہے ہیں۔ رویش کمار مشہور صحافی ہیں، لوگ انھیں مدد کے لیے میسج کرتے رہتے ہیں، کانپور سے کسی غیر مسلم نے میسج کیا کہ ایک سلنڈر کی ضرورت ہے۔ رویش کمار نے فیس بک پر اس کے موبائل نمبر کے ساتھ اپیل پوسٹ کی، تین مسلم بندے فون کرکے لائیو لوکیشن لے کر روزہ کی حالت میں سلنڈر لے کر پہنچ گئے، جس پر وہ شخص بے پناہ شکر گزار ہوا اور اس نے رویش کمار کو تفصیلات بتائیں، جس کو انھیں دوبارہ اپنے خاص تشکر و حوصلہ افزائی کے ساتھ پوسٹ کیا۔ ظاہر ہے کہ مسلمان یہ ساری محنت رسول انسانیتؐ کی انسانیت نوازی کی اتباع میں ہی کر رہے ہیں ورنہ خیر سگالی اور حفظ ما تقدم اور تعلقات کی بہتری کے لیے موت کے دریا سے گزر جانا ممکن نہیں۔
گزشتہ چند برسوں میںایک خاص ذہن کے لوگوں نے نفرتوں کا بازار اس قدر گرم کیا کہ لوگ بھول گئے کہ قدرت نے ہر انسان کو دوسرے انسان کا محتاج و معاون بنایا ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ایک شخص جو کل تک شاہین باغ کے متعلق منفی رائے رکھتا تھا، آج وہی شخص وہاں کے لوگوں کو میسج کرکے پوچھتا ہے بھائی شاہین باغ میں آکسیجن کا انتظام ہو گیا کیا! بہر حال مسلمان اپنے بس بھر اور امکان بھر انفرادی، تنظیمی اور اجتماعی طور پر ساری خدمات اس وقت انجام دے رہے ہیں جبکہ حکومت نے خود ہی تسلیم کر لیاہے کہ اس کا پورا سسٹم ہی ناکام ہوگیا ہے اور یہ نظر بھی آرہا ہے کہ حکومت بے بس ہوچکی ہے، ہر طرف سے ہائی کورٹس اور سپریم کورٹس کی پھٹکاریں ہیں، تبصرے ہیں اور ہدایات ہیں، مطلب حکومت اور سول انتظامیہ کی عقل گویا کام کرنا بند کر چکی ہے۔ بنگال میں کورونا کا زہر پھیلانے کے بعد اب الیکشن کمیشن کو بھی مدراس ہائی کورٹ نے راہ دکھائی ہے، نتائج پر جشن کی پابندی لگائی ہے مگر کیا اس پر عمل ہوگا، خیر یہ تو بات سے بات نکل گئی، صورت حال یہ ہے کہ ہر طرف ماتم ہے، کہیں لوگ انجکشن کو لے کر بھاگے پھر رہے ہیں، کہیں دواؤں کی مارا ماری ہے، آکسیجن کا قہر ہر صوبہ اور شہر میں جاری ہے،خبر تو یہ بھی آئی ہے کی جس بچی نے پی ایم کیئر فنڈ میں اپنے گلک سے 5 ہزار روپے دیے تھے، وہ بغیر آکسیجن کے دم توڑ گئی، لیکن نازک ترین صورتحال میں ہر شہر میں مسلمانوں اور مسلم تنظیموں کا جذبہ خدمت قابل دید ہے۔ دواؤں کی فراہمی سے لے کر اسپتالوں میں عمومی امداد، آخری رسومات کی ادائیگی میں تعاون اور گھروں میں طبی سہولتوں کی فراہمی اور گھوم گھوم کر لوگوں کی ضروریات پوری کرنا مسلمانوں کا وہ جذبۂ عمل ہے جو انھیں ان کے نبی کریمؐ کے صدقہ میں ملا ہے۔ اس پاکیزہ و مقدس جذبہ کو تعلقات بہتر بنانے کی بھینٹ چڑھانا اور محض خدمت انسانیت کے طور پر پیش کرنا صحیح نہیں، اس کو گنگا جمنی تہذیب اور خیر سگالی کا عنوان بنانا درست نہیں، یہ خدمت خلق جو مسلمان اپنی جان کی بازی لگا کر بھی کرنے سے گریز نہیں کرتا، یہ اس کی مذہبی تعلیم کا حصہ، اس کے نبی کریمؐ کا کردار و نمونہ اور نبی کریمؐ سے تعلق و نسبت کا صدقہ ہے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS