محمد حنیف خان
علم وہ کنجی ہے جس سے ہر دروازہ کھولا جاسکتا ہے۔اس حقیقت کو سر سید احمد خاںسے بہتر کسی نے نہیں جانا اور ممکن ہے جان بھی گئے ہوں مگر عملی طور سے ان سے بہتر کسی نے اسے حقیقی شکل نہیں دی۔سرسید احمد خاں نے 1875میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج(ایم اے او)قائم کیا،جس کے لیے انہوں نے کتنی محنت کی اور کس جانفشانی سے سربر آوردہ لوگوں کو اس سے جوڑا اور تعاون حاصل کیا، اب یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔سرسید احمد خاں کے خوابوں کی تعبیر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اپنے قیام سے لے کر آج تک ان کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کر رہی ہے اور تشنگان علوم کی پیاس بجھا رہی ہے۔ملکی اور عالمی سطح پر اس ادارے کی جو اہمیت ہے، وہ اظہر من الشمس ہے۔یہ اہمیت اس ادارے کو یونہی نہیں ملی ہے اور نہ ہی صرف اس لیے ملی ہے کہ یہ ملک کی ایک قدیم یونیورسٹی ہے بلکہ یہ اہمیت اس لیے ملی ہے کہ وقت کے دھارے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر اس نے چلنا سکھایا ہے۔آج بھی یہ یونیورسٹی اپنی نوعیت کی الگ یونیورسٹی ہے، خواہ بات تہذیب و ثقافت کی ہو یا تعلیم و تعلّم کی،ہر معاملے میں اس نے خود کو منفرد، سب سے بہتر،جاذب نظر اور مناسب ترین ثابت کیاہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس یونیورسٹی میں مسلم طلبا و طالبات کی اکثریت ہے،جن کا تعلیمی،معاشی،معاشرتی اور سماجی پس منظر الگ الگ ہوتا ہے۔مسلمانوں کے بارے میں اب یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ تعلیم میں سب سے زیادہ پسماندہ ہیں،اس سلسلے میں سچر کمیٹی کی رپورٹ کافی ہے۔اس رپورٹ کی آمد کے بعد بھی حالات میں بہت زیادہ اصلاح نہیں ہوئی ہے،ہاں وقت کے ساتھ چیزیں ضرور بدلی ہیں جن کے اثرات مسلم کمیونٹی پر بھی پڑے ہیں اور وہ بھی کسی حد تک مستفید ہوئے ہیں۔مستفید کی بات اس لیے کہی ہے کہ کیونکہ آج سے بیس برس قبل جو سطح زندگی ہندوستان کے شہریوں کی تھی آج وہ نہیں ہے،اس سے کہیں بہتر ہوچکی ہے۔ یہ بہتری ہر جگہ آئی ہے جس میں مسلم بھی شامل ہیں،لیکن اس میں سب سے زیادہ اور نمایاں کردار تعلیم کا رہا ہے کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی ذہنیت میں بھی تبدیلی آئی ہے۔انہوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اس کے حصول کے لیے تگ و دو میں مصروف ہوگئے جس کی وجہ سے ان کی زندگیوں میں بھی خوشحالی آئی۔ان سب کے باوجود دوسرے طبقات کے مقابلے مسلمانوں میں آج بھی مذہبی/ اسلامی شعائر اور شناخت سے محبت اور ان پر عمل کسی بھی دوسری کمیونٹی سے زیادہ پایا جاتا ہے۔مسلمانوں میں بچیوں سے متعلق زیادہ حساسیت پائی جاتی ہے،پردہ،تہذیب و ثقافت اور دیگر ایسے امور جن کا تعلق اسلامی تعلیمات اور اسلامی سماجیات سے ہے، ان پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
یہ دور بہت کھلا دور ہے،جس میں بہت سی ایسی باتیں جو ٹی وی اسکرین پر کی جاتی ہیں،ان ہی باتوں پر عمل کے لیے اگر ان ہی افراد سے کہہ دیا جائے تو ان کے لیے مشکل ہوجائے گا۔نئے رنگ و آہنگ سے مرعوبیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آزادی کے نام پر جس بات کی وکالت دانشور طبقہ آن اسکرین کرتا ہے، اس پر خود اگر اس کے گھر والے عمل کرنے لگیں تو خود ان کا مذہب خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ایسے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک ایسے ادارے کے طور پر سامنے آیا جہاں طلبا و طالبات اپنے مذہبی اور سماجی شعائر پر عمل کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم سے لیس ہوسکیں۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا یہ طرۂ امتیاز ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی رہائشی یونیورسٹی ہے جہاں طلبا و طالبات کے لیے الگ الگ ہال ہیں۔جن کی بنیادی ضروریات یونیورسٹی معمولی فیس پر پوری کر رہی ہے کیونکہ ذمہ داران کو اس بات کا احساس ہے کہ اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والوں میں اکثریت ان طلبا و طالبات کی ہے جو معاشی طور پر بہت مضبوط نہیں ہیں۔یونیورسٹی نے صرف اتنا ہی نہیں کیا ہے بلکہ طلبا میں ہمہ جہت نکھار اور زندگی کے میدان میں کامیابی کے لیے ڈپلوما اور سرٹیفکیٹ کورسیز کا بھی اہتمام کیا ہے۔
لڑکیوں کی تعلیم کے لیے باضابطہ ویمنس کالج ہے، جہاں یونیورسٹی میں چلنے والے اکثر وبیشتر کورسیز ہیں۔اس ادارے میں داخلے کے بعد والدین کئی لحاظ سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور اطمینان کا عالم یہ ہوتا ہے کہ داخلہ کے وقت جس تعداد میں فارم آتے ہیں اور لوگ جس جدوجہد کے ساتھ بچیوں کو ٹیسٹ دلانے لاتے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنی بچیوں کے لیے ان کی پہلی ترجیح ویمنس کالج ہے۔اس کی سب سے اہم وجہ قیام و طعام کی بہترین سہولیات کے ساتھ تحفظ ہے۔ والدین ہمیشہ تحفظ کو اہمیت دیتے ہیںاور یہاںتحفظ کے ساتھ ہی اعلیٰ تعلیم اور اس کے ساتھ ہمہ جہت صلاحیتوں کے فروغ کے لیے الگ سے انتظامات ہیں۔یونیورسٹی نے ویمنس کالج میں طالبات کے لیے سینٹر فار اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ کریئر پلاننگ قائم کیا ہے۔ یہ سینٹر 1984میں قائم کیا گیا تھاتاکہ یہاں زیر تعلیم طالبات کی صلاحیتوں کو ہمہ جہت انداز میں فروغ دیا جاسکے۔ اس کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ طالبات جو یہاں سے فارغ التحصیل ہوچکی ہیں، ان کے لیے بھی انتظامات ہیں،اسی طرح گھریلو خواتین اگر یہاں چلنے والے کورسیز میں داخلہ چاہتی ہیں تو ان کے لیے بھی بندو بست ہے یعنی خواتیں خواہ بونافائڈ ہو ں یا نہ ہوں سب کے لیے اس کے دروازے کھلے ہیں اور سب کے لیے الگ الگ بندوبست کیے گئے ہیں۔اس سے طالبات کو سلیبس/نصابی کتب سے الگ بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
یہ جدیددور ہے جس میں تکنیک کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے،لینگویج کے ساتھ عام طور پر کورسوں کے نصاب میں کمپیوٹر کی تعلیم نہیں ہے،یہ اور بات ہے کہ کمپیوٹر سائنس کی پوری فیکلٹی ہے مگر دیگر فیکلٹیز کے طلبا تو اس سے مستفید نہیں ہوسکتے لیکن اس کی بنیادی معلومات ہر پڑھے لکھے شخص کے لیے ضروری ہے، اس لیے اس سینٹر نے کمپیوٹر سے متعلق کئی کورس متعارف کرائے مثلاً ویب ڈیزائننگ اینڈ پبلشنگ، ٹیلی، الیکٹرانک ڈاٹا پروسیسنگ، شارٹ ہینڈ، ورڈ پروسیسنگ، اردو،ہندی اور انگریزی ٹائپنگ،کمپیوٹر پروگرام (پائتھان) وغیرہ۔لانگ ٹرم کورسیز(چھ ماہ) میں ہرسبجیکٹ کی طالبات داخلہ لے کر اپنی صلاحیتوں کو فروغ دیتی ہیں، جس کی کلاسیز مین کلاسیز کے وقت کے بجائے دوسرے اوقات میں ہوتی ہیں،جس کا سرٹیفکیٹ یونیورسٹی جاری کرتی ہے۔اسی طرح،بیوٹی کلچر ایڈوانس،بیوٹی کلچر اسکن اینڈ ہیئر،گارمینٹ میکنگ،انٹیریئر ڈیکوریشن اور فیشن سے متعلق متعدد کورسیز ہیں۔سینٹر کے ڈائریکٹر ویمنس کالج کے پرنسپل پروفیسر مسعود انور علوی اس کے تنوع میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں،اس سے قبل اس کی ڈائریکٹر وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون تھیں،جنہوں نے بھی وقت کے ساتھ کئی ایسے جدید کورسس متعارف کرائے تھے جوطالبات کو بااختیار بنانے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔سال میں کئی بار روزگار میلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اس بار بڑے پیمانے پر انعقاد کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ طالبات کو مزید بہتر مواقع فراہم ہوسکیں۔
ان کورسیز سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اپنے یہاں زیر تعلیم طالبات کی صلاحیتوں میں ہمہ جہت فروغ کے لیے کس قدر کوشاں ہے اور اس کے لیے کیسے کیسے شاندار انتظامات کر رکھے ہیں۔اس ادارے کا یہی خاصہ ہے کہ وہ اپنی طالبات کو جہاں تہذیب و ثقافت کا ایک ایسا رنگ دیتا ہے جو دنیا جہاں سے نرالا ہے،جنہیں دیکھ کر دور سے ہی پہچانا جا سکتا ہے۔اسی تہذیب و ثقافت کے حوالے سے رشید احمد صدیقی نے کہا تھا کہ اگر میں کسی شائستہ طالب علم کو دیکھتا ہوں تو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ علی گڑھ کا پروردہ ہے اور اگر معلوم ہوتا ہے کہ نہیں،تو سوچتا ہوں کہ اسے علی گڑھ میں ضرور ہونا چاہیے تھا۔تہذیب و ثقافت کے علاوہ علم کے معاملے میں بھی اس کا یہی کردار ہے کہ وہ اپنے طلبا کو سب سے بہتر بناتا ہے۔ویمنس کالج کا یہ سینٹر خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں مستقل کام کر رہا ہے۔وقت اور ضرورت کے اعتبار سے اس کے کورسیز میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے تاکہ یہاں زیر تعلیم طالبات زندگی کے کسی بھی میدان میں کسی سے پیچھے نہ رہیں۔اس ادارے کے نقش قدم پر اگر دیگر ادارے بھی اسی طرح کے جدید کورس متعارف کراکر لڑکیوں کو ہمہ جہت فروغ دیں تو ان کو بااختیار بنانے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔
ہندوستانی عوام خصوصاًمسلمانوں کی امیدوں کا مرکز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ان کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں مصروف عمل ہے،جس کے نتائج ہمیں سماجی سطح پر بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔امید ہے کہ یہاں سے اٹھنے والے ابر سے ساراجہاں فیضیاب ہوگا۔
haneef5758@gmail.com