یوروپ میں اسرائیل مخالف لہر: پروفیسر اخترالواسع

0

پروفیسر اخترالواسع

دیکھئے ایسا ہے کہ ظلم کی کوئی انتہا نہیں ہوتی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا سب سے بڑا شرف ہے۔ یوروپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں غزہ جنگ کے حوالے سے اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں جو ماحول بن رہا ہے، وہ فطری ہے۔ اس پر کوئی حیرت نہیں ہے۔ اسرائیل سمجھ رہا تھا کہ وہ دنیا کو بیو قوف بناتا رہے گا، فلسطینیوں کی زمین غصب کر جائے گا لیکن ایسا کرنے میں وہ ناکام رہا ہے۔ غزہ جنگ نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ غزہ میں قحط سالی کے جو حالات پیدا کیے گئے، اس نے یوروپ، امریکہ اور آسٹریلیا کے لوگوں میں اسرائیل مخالف لہر پیدا کر دی ہے۔ وہ اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کی حکومتوں کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ انہیں روکنے کے لیے کیا حربے استعمال کریں۔

مشرق وسطیٰ کے ممالک میں فلسطینیوں کی حمایت میں احتجاج نہیں ہو رہے ہیں۔ اس کا فائدہ اٹھاکر کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ عرب دنیا خاموش ہے۔ وہ خاموش تو ہے، کیونکہ اس کی اپنی مجبوریاں ہیں لیکن اہل غزہ کے تئیں بالکل ہی بے فکر نہیں ہے۔ان کے لیے اس سے جو بن پڑ رہا ہے، کر رہی ہے۔مکہ مکرمہ کے شاہ سلمان ریلیف سینٹر کے مطابق، ’فلسطینی عوام کے لیے غزہ میں فوری انسانی اور امدادی معاونت جاری ہے اور فضائی اور بحری راستوں سے بنیادی ضروریات کی فراہمی کا سلسلہ برقرار ہے۔‘ اس نے یہ بتایا ہے کہ 58 امدادی طیارے اور 8 بحری جہاز بھیجے گئے ہیں۔ ان میں رہائشی، طبی اور غذائی مواد ہیں۔ اس کے علاوہ جنگ متاثرین کے لیے ایئر ڈراپ آپریشنز کیے گئے ہیں۔ اس سے اتنی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ سعودی عرب نے غزہ کے لوگوں کو بھلایا نہیں ہے، البتہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک مشرق وسطیٰ کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنا نہیں چاہتے۔ وہ کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جس سے غزہ کے لوگوں کا تو بھلا نہ ہو لیکن غزہ جنگ کی توسیع ہو جائے، یہ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل جائے۔ سعودی عرب، قطر اور اردن سمیت دیگر عرب ممالک نے اپنا موقف واضــح کر دیا ہے کہ وہ مسئلۂ فلسطین کا دو ریاستی حل چاہتے ہیں، اس لیے غزہ جنگ کے حوالے سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو بدنام کرنے یا ماحول خراب کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔ عرب ملکوں کا بکھراؤ اسرائیل کے لیے ہی نفع بخش ہوگا۔ وہ کچھ اور مستحکم بن جائے گا۔ اس کے منفی اثرات غزہ کے لوگوں پر پڑیں گے۔

اسرائیل غزہ کے لوگوں کے ساتھ جو سلوک کر رہا ہے، اس کی وجہ سے فرانس اور جرمنی کے ساتھ دیگر یوروپی ممالک میں اس کی مخالفت میں لہر سی چل رہی ہے۔ سویڈن کے بچوں نے فلسطینی بچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ جرمن چانسلر نے اسرائیل کو ہتھیار نہ سپلائی کرنے کی بات کہی ہے۔ فرانس اور دیگر یوروپی ممالک نے فلسطین کو ریاست کے طور پر قبول کرنے کی بات کہی ہے۔ یہ سب ان فلسطینیوں کی قربانیوں کی وجہ سے ہوا ہے جنہوں نے جان دینا تو منظور کیا، اپنا علاقہ چھوڑ کر کہیں اور جانا پسند نہیں کیا۔ حالات سے وہ مسلسل نبردآزما رہے اور آج بھی ہیں۔ اوپر سے بارود کی بارش اور نیچے قحط کے حالات سے گھبرائے بغیر اپنی جدوجہد جاری رکھی ہے۔ اسی لیے اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کی زمین کو لہولہان تو کر دیا ہے مگر وہ زیادہ حوصلے اور بے خوفی سے جنگ نہیں لڑ سکے۔

اسرائیل جتنی جلدی حقائق کو سمجھ لے، بہتر ہے۔ امریکہ، یوروپ اور آسٹریلیا میں لوگ اسرائیل کے خلاف جو احتجاج کر رہے ہیں، وہ اسرائیلی حکومت کے لیے باعث حیرت ہوگا لیکن خود اسرائیل میں ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد غزہ جنگ جاری رکھنے کے حق میں نہیں ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ جنگ ختم ہو، امن بحال ہو۔ اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ’غزہ میں جو کچھ ہو رہا رہے، وہ جنگی جرم ہے ۔‘ایہود اولمرٹ کا یہ کہنا بجا ہے کہ ’مارچ 2025 کے جنگ بندی معاہدے کے بعد اب غزہ کی جنگ ایک غیر قانونی جنگ ہے۔‘ ان کا یہ کہنا واقعی انکشاف کی طرح ہے کہ ’(غزہ کی) غیرقانونی جنگ کو 70 فیصد اسرائیلیوں کی حمایت حاصل نہیں ہے۔‘ ایسا نہیں ہے کہ اولمرٹ ہمیشہ سے جنگ کے خلاف تھے۔ 7 اکتوبر، 2023کے حملوں کے بعد ان کا یہی موقف نہیں تھا۔ غزہ جنگ شروع کرنے کا سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے دفاع کیا تھا مگر انہیں لگتا ہے کہ اب غزہ جنگ جاری نہیں رہنی چاہیے۔ ان کے مطابق، ’ بے شک اس وقت جنگ جائز تھی، کیونکہ وہ حماس کا اقدام تھا لیکن مارچ 2025 میں سیزفائر معاہدہ ہو جانے کے بعد یہ جنگ غیر قانونی ہے اور اسرائیل کے لیے ایک پھندہ ہے، اس جنگ میں بہت سے اسرائیلی فوجی مارے جارہے ہیں۔‘یہ بات بھی انہوں نے کہی ہے کہ ’میں موجودہ اسرائیلی حکومت پر جنگی جرائم کا الزام لگاؤں گا۔‘وہ ایسا کریں گے یا نہیں، اس سلسلے میں کچھ کہنا مشکل ہے لیکن ان کے بیانات سے یہی لگتا ہے، محب وطن اسرائیلی لیڈروں کو بھی یہ احساس ہونے لگا ہے کہ دنیا میں ان کے لیے ہوا بدلنے لگی ہے۔ غزہ جنگ زیادہ دنوں تک جاری رہی تو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اسرائیل کو امریکہ، یوروپ اور آسٹریلیا سے جو حمایت ملتی رہی ہے، وہ نہیں ملے گی اور یہ اسرائیل کا بڑا نقصان ہوگا۔

(نمائندہ روزنامہ راشٹریہ سہارا سے گفتگو پر مبنی)
(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر ایمریٹس اسلامک اسٹڈیز ہیں)
wasey27@gmail.com

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS
Previous articleانتخابی چندہ: جمہوریت کی جڑوں میں پیسہ یا زہر؟
Next articleغزہ کی بھکمری، انسانیت کے منہ پر طمانچہ
Akhtarul Wasey (born September 1, 1951) is the president of Maulana Azad University, Jodhpur, India, and a former professor of Islamic Studies. He taught at Jamia Millia Islamia (Central University) in New Delhi, where he remains professor emeritus in the Department of Islamic Studies. Early life and education: Wasey was born on September 1, 1951, in Aligarh, Uttar Pradesh to Hairat bin Wahid and Shahida Hairat. He is the oldest of six children. Wasey attended Primary School No. 16, the City High School of Aligarh Muslim University, and Aligarh Muslim University where he earned a Bachelor of Arts (Hons.) in Islamic studies in 1971, a Bachelor of Theology in 1975, a Master of Theology in 1976, and an Master of Arts in Islamic studies in 1977. He also completed a short-term course in the Turkish language from Istanbul University in 1983. Career: On August 1, 1980 he joined Jamia Millia Islamia, Delhi as lecturer and worked there till 31 August 2016.Wasey was a lecturer, reader and professor at Jamia Milia Islamia University in New Delhi from 1980-2016, serving as the director of Zakir Husain Institute of Islamic Studies and later becoming head of the Department of Islamic Studies and Dean of the Faculty of Humanities and Languages. He is currently the president of Maulana Azad University in Jodhpur and remains a Professor Emeritus in the Department of Islamic Studies at Jamia Millia Islamia. In March 2014, Wasey was appointed by Indian President Shri Pranab Mukherjee to a three-year term as Commissioner for Linguistic Minorities in India, and became the first Urdu-speaking commissioner since 1957. Wasey is the editor of four Islamic journals: Islam Aur Asr-e-Jadeed; Islam and the Modern Age; Risala Jamia; and Islam Aur Adhunik Yug. Awards and honors: 1985 Award from Urdu Academy, Delhi and UP Urdu Academy on "Sir Syed Ki Taleemi Tehreek" 1996 Maulana Mohammad Ali Jauhar Award 2008 Fulbright Fellowship 2013 Padma Shri award from President Pranab Mukherjee of India 2014 Makhdoom Quli Medal from the President of Turkmenistan 2014 Daktur-e-Adab from Jamia Urdu, Aligarh