سماجی تحفظ کے لئے مرکزی بجٹ میں ترجیحات

0

ڈاکٹر جاوید عالم خان

موجودہ حکومت نے بہت پہلے سے ہی ہندوستان کو وشوا گرو کا درجہ دے دیا تھا اور اس بات کا بھی دعویٰ کیا تھا کہ ہمارا ملک اس وقت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے۔ مزید 2047 تک بھارت ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔ ان تمام دعووں کے باوجود ہندوستان آمدنی کی غیر برابری کے معاملات میں بھی سب سے آگے ہے۔ مجموعی آبادی میں بھکمری اور غربت کی شکار آبادی بھی ہمارے ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ کون لوگ ہیں جو غربت،بھکمری اور آمدنی میں غیر برابری جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ دراصل ان مسائل کا شکار ہمارے ملک کی مجموعی آبادی میں سے زیادہ تر بوڑھے، معذور، بیوائیں ، بچے اور عورتیں شامل ہیں۔ اور یہ لوگ دلت ، آدیواسی اقلیتوں اور دیگر پچھڑے طبقات کے زمرہ میں بھی آتے ہیں۔ ان طبقات کی کافی تعداد بے روزگار ہے اور یہ لوگ غیر منظم سیکٹر میں کام کر رہے ہیں ان کے کام اور تجارت کا معیار چھوٹے درجے کا ہے غیر منظم سیکٹر میں سماجی تحفظ کی صورتحال کافی خراب ہے اور ملک کے اقتصادی وسائل میں پچھڑے طبقات کی شرکت بہت ہی معمولی ہے۔ اس لئے ان طبقات کے لئے سماجی تحفظ کی اسکیموں کا استحکام اور بجٹ کو بڑھانے کی ضرورت ہے مگر حالیہ بجٹ میں ان طبقات کے سماجی تحفظ کو لے کر کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
ہندوستان کے آئین کی ریاستی پالیسی کے ہدایتی اصول (Directive Principles of State Policy) ریاست کو حکم دیتے ہیں کہ وہ اپنے اقتصادی ذرائع میں سے خاص طور پر غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کے لیے متعدد فلاحی اقدامات کرے۔ہندوستان کے آئین کا آرٹیکل 41 ریاست کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بے روزگاری، بڑھاپے، بیماری اور معذوری کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات میں ریاست کی اقتصادی صلاحیت اور ترقی کی حد کے اندر عوامی مدد فراہم کرے۔

سماجی تحفظ اور بڑھاپے کی پنشن کنکرنٹ لسٹ میں آئین ہند کے ساتویں شیڈول کے آئٹمز 23 اور 24 کا حصہ ہے۔ حکومت ہند نے سماجی تحفظ کے اصولوں کے تعمیل کے لیے قومی سماجی امداد پروگرام (این ایس اے پی) 1995 میں یوم آزادی کے موقع پر شروع کیا تھا۔این ایس اے پی مکمل طور پر مرکزی حکومت کی سماجی تحفظ کیلئے اہم اسکیم ہے جو بے سہارا لوگوں کی مالی مدد کرتی ہے۔ اس میں وہ شخص شامل ہے جس کی اپنی آمدنی کے ذرائع سے گزارہ کا بہت کم یا کوئی باقاعدہ ذریعہ نہیں ہے یا پھر بھی خاندان کے افراد یا دیگر ذرائع سے مالی مدد دستیاب نہیں ہے جس کی شناخت ریاستوں اور UTs کے ذریعہ پہلے ہی کر لیا گیا ہے۔ این ایس اے پی کا مقصد بنیادی سطح کی مالی امداد اہل مستفدین کو فراہم کرنا ہے۔ پچھلے سالوں میں پروگرام کے ساخت، اہلیت کے معیار اور فنڈ شیئرنگ پیٹرن میں بہت سی تبدیلی ہوئی ہے۔این ایس اے پی میں اس وقت پانچ ذیلی اسکیمیں اس کے اجزاء کے طور پر کام کررہی ہیں۔اندرا گاندھی نیشنل اولڈ ایج یا بزرگوں کی پنشن اسکیم (IGNOAPS) کے تحت 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کو حکومت ہند کے مقرر کردہ معیار کے مطابق غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد کو مدد فراہم کی جاتی ہے۔ مرکزی امداد 200 روپے ماہانہ 60-79 سال کی عمر کے فرد کو فراہم کیے جاتے ہیں۔ 80 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے 500 روپے ماہانہ فراہم کیے جاتے ہیں۔

اندرا گاندھی قومی بیوہ پنشن اسکیم (IGNWPS) کے تحت 40-79 سال کی عمر کے گروپ اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندان سے تعلق رکھنے والی بیواؤں کو مقررہ معیار کے مطابق مرکزی امداد 300 روپے ماہانہ فراہم کی جاتی ہے۔ حکومت ہند کی طرف سے مرکزی امداد 80 سال اور اس سے زیادہ عمر کے مستفیدین کو 500 روپے ماہانہ فراہم کی جاتی ہے۔اندرا گاندھی نیشنل ڈس ایبلٹی یا معذوروں کیلئے پنشن اسکیم (IGNDPS) کے تحت 18-79 سال کی عمر کے شدید اور متعدد معذوری والے اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد کو مرکزی امداد 300 روپے ماہانہ فراہم کی جاتی ہے۔ 80 سال اور اس سے زیادہ عمر کے مستفیدین کو 500 روپے کی روپے ماہانہ رقم مرکزی حکومت کی طرف سے امداد فراہم کی جاتی ہے۔

نیشنل فیملی بینیفٹ اسکیم (این ایف بی ایس) کے تحت بی پی ایل گھرانہ 18-59 سال کی عمر کے بنیادی کمانے والے کی موت پر یکمشت رقم وصول کرنے کے لئے حقدار ہے۔ امداد کی یہ رقم 20,000 روپے ہے۔اناپورنا اسکیم تحت ان بزرگ شہریوں کو ماہانہ 10 کلو گرام اناج مفت فراہم کیا جاتا ہے جو اولڈ ایج پنشن اسکیم کے تحت اہل ہونے کے باوجود بڑھاپے کی پنشن حاصل نہیں کر رہے ہیں۔

این ایس اے پی اسکیموں کے تحت مالی سال 2024-25 کیلئے نظر ثانی شدہ مختص بجٹ 9652 کروڑ روپے تھا۔ جبکہ 2025-26 کیلئے بجٹ تخمینہ 9652 کروڑ روپے ہے۔ 2022-23 سے مختص بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ موجودہ بجٹ میں این ایس اے پی کے لیے مختص فنڈ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ پچھلے سالوں میں این ایس اے پی کے تحت مختص فنڈز کا استعمال مکمل طور پر نہیں ہو سکا ہے۔ مالی سال 2023-24 میں این ایس اے پی کے تحت حقیقی خرچہ 9476 کروڑ روپے ہی ہو پایا تھا۔این ایس اے پی کے تحت چلائی جارہی بزرگوں، بیواؤں اور معذوروں کے تحت مختص بجٹ میں کئی سالوں سے اضافہ نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے مستفیدین کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔

این ایس اے پی کے تحت کل مستفیدین کی تعداد 3.09 کروڑ ہے جس میں ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لئے اسکیم کے لحاظ سے یہ زیادہ سے زیادہ محدود کردیا گیا ہے جو کہ بی پی ایل آبادی کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت ہی کم ہے۔ (ستمبر 2022)۔ سماجی تحفظ کا پروگرام جو بوڑھے، بیواؤں، معذور افراد اور خاندان کے کمانے والے فرد کی موت پر ان کے خاندان کی مدد کے لئے ہے۔ اندرا گاندھی نیشنل اولڈ ایج پنشن اسکیم (IGNOAPS)، اندرا گاندھی قومی بیوہ پنشن اسکیم (IGNWPS) اور اندرا گاندھی قومی معذوری پنشن اسکیم (IGNDPS) کے امداد کی رقم 200 روپے سے لے کر 500 روپے ماہانہ ان افراد کی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ ان لوگوں کو دی جانے والی مالی امداد پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کے لئے ایک طویل عرصے سے تشویش کا باعث رہی ہے اور کمیٹی کے مطابق یہ رقم ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے انتہائی کم ہے۔

پچھلے کئی سالوں میں زندگی گزارنے کیلئے اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ معمولی امدادی رقم غیر مناسب ہے۔ یہاں پر یہ بتانا ضروری ہے کہ اتنی کم امداد معاشرے کے انتہائی پسماندہ اور معاشی طور پر بدحال طبقے سے تعلق رکھنے والے مستحقین کو کسی قسم کی راحت فراہم نہیں کر سکتی ہے۔ نیشنل سوشل اسسٹنٹس پروگرام یا این ایس اے پی اسکیموں کے تحت کورونا وبا کے دوران 282 لاکھ مستفید ہونے والوں کو حکومت نے اضافی رقم کی تقسیم 2020 کے بعد روک دی تھی جسے جاری رکھنا چاہیے تھا۔ مالی سال 2025-26 میں بزرگوں، بیواؤں اور معذوروں کیلئے بالترتیب 6645 کروڑ روپے، 2027 کروڑ روپے اور 290 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔نیتی آیوگ (2020) اور محکمہ دیہی ترقی (2021) کے ریسرچ نے بھی پنشن اسکیم کی رقم کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تھا اور این ایس اے پی کی اصلاح کے لئے کابینہ کو ایک تجویز پیش کی گئی تھی تاہم این ایس اے پی کو جاری رکھنے کی منظوری اس کی موجودہ شکل میں ہی دی گئی ہے۔لہٰذا این ایس اے پی اور تمام پنشن اسکیموں کے مختص بجٹ کے علاوہ فی کس امداد میں اضافے کی ضرورت ہے اور پروگرام کے گائڈلائن میں اصلاح بھی کیا جانا چاہئے۔ پنشن اسکیموں کے تحت مستفید ہونے والوں کی عمر بھی کم کی جائے کیونکہ غیر منظم شعبے میں کام کرنے والے لوگ کم عمری میں ہی کام کرنے کے لائق نہیں رہ جاتے ہیں۔

(مضمون نگار انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اینڈ ایڈووکیسی کے ڈائریکٹر ہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS