بالی ووڈ اور ڈرگس پراین سی بی کنگنا کو تفتیش کے لیے کب بلائے گی؟:کانگریس

0
12

ممبئی:بالی ووڈ اورڈرگس کنکشن معاملے میں این سی بی گزشتہ تین چار مہینے سے اداکاروں وان کے متعلقین کی تفتیش کررہی ہے۔ پروڈیوسر وڈائریکٹر کرن جوہر کے گھر کی ویڈیو کی بنیاد پراین سی بی تفتیش کررہی ہے جب کہ یہ ویڈیو دوسال قبل کی ہے۔ اس وقت ریاست میں فڈنویس کی حکومت تھی جس نے اس کی تفتیش نہیں کی۔ کچھ لوگوں کے گھروں میں ادویات کی برآمدگی پر بھی ان کی تفتیش کی گئی۔ بالی ووڈ کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ایک منصوبہ بند کوشش ہورہی ہے۔ جب کہ ڈرگس لینے اوردوسروں کو ڈرگس لینے پر آمادہ کرنے کا اعتراف کرنے والی کنگناراناوت کو آج تک تفتیش کے لیے طلب نہیں کیا گیا۔ اب وہ پھر ممبئی میں آئی ہوئی ہے اس لیے این سی بی سے میرا سوال ہے کہ وہ کنگناراناوت کو تفتیش کے لیے کب طلب کرے گی؟ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کہی ہیں۔
واضح ہو کہ کنگنا سے تفتیش کیے جانے کا مطالبہ اس سے قبل بھی مھاراشٹرا کی کانگریس پارٹی کرچکی ہیں۔
ساونت نے کہا ہے کہ کنگناراناوت نے خودہی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ ڈرگس کا استعمال کرتی ہے۔ یہ اعتراف اس نے ایک ویڈیو میں کیا تھا جو کئی ماہ قبل وائرل ہوچکا ہے۔ کنگنا کا ایک دوست ادھین سومن نے بھی اس بات کی گواہی دی تھی کہ کنگنا ڈرگس کا استعمال کرتی ہے۔ سومن کی ویڈیو بھی وائرل ہوچکی ہے۔ کنگنا نے اپنی ویڈیو میں یہ بات بھی کہی تھی کہ ڈرگس کے بارے میں اپنے پاس خوب ساری معلومات ہیں۔ اس کے باوجود این سی بی کنگنا کے اعتراف کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لے رہی ہے اور اسے تفتیش کے لیے کیوں نہیں طلب کررہی ہے؟ 
انہوں نے کہا کہ کنگنا کو مودی حکومت نے وائی درجے کی سیکوریٹی فراہم کی ہے جوآج بھی اسے حاصل ہے۔ اس سیکوریٹی پر جو پیسے خرچ ہورہے ہیں وہ عوام کے ہیں اورعوام کا یہ پیسہ ضائع ہورہا ہے۔
سچن ساونت نے کہا کہ کنگنا کی پشت پناہی کرنے والی بے جے پی کے لوگ بھی اب اس معاملے میں خاموش ہیں۔ رام کدم نے کنگنا کا موازنہ جھانسی کی رانی سے کی تھی۔ رام کدم نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ ڈرگس کے بارے میں کنگنا کے جو معلومات ہے اگر وہ عوام کے سامنے آگئی تو کئی لوگوں کے چہرے بے نقاب ہوجائیں گے، اس لیے مہاوکاس اگھاڑی حکومت ان معلومات پر پردہ ڈال رہی ہے۔ اس لیے رام کدم کو چاہیے کہ کنگنا سے کہیں کہ اس کے پاس جو معلومات ہے وہ این سی بی کو فراہم کرے۔ اس پورے معاملے میں بی جے پی نے کنگنا کی پشت پناہی کرتے ہوئے مہاراشٹر کو بدنام کیا ہے۔ یہ واضح ہوچکا ہے کہ کنگنا بی جے پی کے اشارے پرکام کررہی ہے۔ اس لیے خود کے سیاسی مفاد کے حصول کے لیے مہاراشٹر کو بدنام کرنے پر بی جے پی کو مہاراشٹر کے 13کروڑ عوام سے معافی مانگنی چاہئے۔