خواجہ سرا نے توڑی روایت کی بیڑیاں خود کفالت کے لئے پولٹری فارمنگ کے کاروبار کا انتخاب کیا

0
45
Image:jagran.com

نئی دہلی: سماجی نابرابری کے شکار خواجہ سراوں نے عزت کی زندگی گزارنے اور خود کفیل ہونے کے لئے سائنسی انداز میں پولٹری فارمنگ کا کاروبار شروع کردیا ہے۔
سنٹرل سب ٹراپیکل باغبانی انسٹی ٹیوٹ لکھنئو کے ذریعہ تیارکردہ شراکت دارتنظیم کے تعاون سے موہنی نامی خواجہ سرا نے ملیح آباد میں اپنی روزی روٹی کے لئے پولٹری فارمنگ کے کاروبار کا انتخاب کیا ہے۔ ملیح آباد کے آم کے باغات میں پولٹری فارمنگ کو کمرشیل بنانے کے لئے انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ فارمرس فرسٹ پروجیکٹ کے تحت بہت سے بے زمین اور چھوٹے کاشتکاروں نے آم کے باغات کےدرمیان میں انڈین زرعی تحقیقاتی کونسل کے ذریعہ تیار کردہ پولٹری کی اقسام کاری دیویندر، کاری شیل اورکڑک ناتھ کو پالنا شروع کردیا ہے۔
خواجہ سراوں کو اکثروبیشتر اپنے ہی خاندان سے بے گھر ہونا پڑتا ہے۔ ان کے ساتھ سماجی طورسے براسلوک اور ظلم ہوتارہتا ہے۔ پہلی بار 2011 میں ہندوستانی مردم شماری میں ٹرانسجنڈر آبادی کاحساب لگایا گیا جن کی تعداد ساڑھے چارلاکھ ہے لیکن اصل میں ان کی تعداد 20 لاکھ کے قریب ہوسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپریل 2014 سے قانون میں خواجہ سراوں کو تیسری صنف قراردیا لیکن پھر بھی بیشتر آج بھی اس جدید زمانے میں روایتی پیشہ کو اختیا رکرکے زندگی گزارکررہے ہیں۔
سنٹرل سب ٹراپیکل باغبانی انسٹی ٹیوٹ لکھنئو کے فارمر فرسٹ پروجیکٹ کے ذریعہ چلائے جارہے مرغی پروری سے متاثر ہوکر ملیح آباد ڈویژن کی35 سالہ کنر موہنی نے اپنی روایت سے ہٹ کر اپنا کاروبار شروع کیا جو دیگر خواجہ سراؤں کے لئے بھی ایک مثال ہے۔ انہوں نے فارمر فرسٹ پروجیکٹ سے جڑکر اپنا کڑک ناتھ پولٹری فارم کھولنے کا ارادہ کیا۔ اس کے پارٹیسپیشن سیلف ہیلپ گروپ ملیح آباد سے اس کے بارے میں تربیت حاصل کی۔
جس میں ان کو کم لاگت میں باڑابنانا، دانا بنانا اور بیماریوں سے بچانے کا طریقہ بتایا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے آرین باغبان پولٹری فارم ملیح آباد سے مرغے کی برادری کا شیر کہے جانے والے کڑک ناتھ کے 500 چوزے خرید کر اپنا کاروبار شروع کیا۔
موہنی نے بتایا کہ صنفی امتیاز کے سبب ہم لوگوں کونہ تو کوئی جلدی نوکری دیتا ہے اور نہ ہی بینک سوروزگار کے لئے قرض دینا چاہتی ہے۔ جس کی وجہ سے آج بھی ہم لوگوں کا بنیادی پیشہ بچے کی پیدائش پر گھر گھر جاکر مبارک باد دینا اور انعام و بخشش وغیرہ سے جو بھی آمدنی ہوتی ہے اسی سے اپنی زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ انہوں نے اپنے سماج کی تمام خواجہ سراوں سے درخواست کی ہے کہ اپنا خود کا کاروبار شروع کرکے خودکفیل بنیں۔