تینوں زرعی قوانین کسانوں کیلئے’ڈیتھ وارنٹ‘کے مانند :اروند کجریوال

0
32

نئی دہلی (اظہار الحسن؍ایس این بی) :وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے دہلی اسمبلی احاطہ میں مغربی اتر پردیش کے کسان لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کی اور تینوں زرعی قوانین کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ تینوں زرعی قوانین کسانوں کے لئے ’ڈیتھ وارنٹ‘ کی طرح ہیں۔ اس کے نفاذ کے بعد کسان چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی سرکار فوری طور پر تینوں سیاہ قوانین کو واپس لے اور سوامیناتھن کمیشن کے مطابق تمام 23فصلوں کو ایم ایس پی پر خریدنے کی ضمانت دی جائے۔ کجریوال نے کہا کہ مرکزی سرکار کو کسانوں سے بات چیت کرنی چاہئے۔ اگر ہمارے ملک کے کسانوں کی کوئی سرکارنہیں سنے گی تو کون سنے گا؟
اس میٹنگ میں دہلی اسمبلی اسپیکر رام نواس گوئل ، کابینہ کے وزرا کیلاش گہلوت اور راجیندر پال گوتم کے ساتھ راجیہ سبھا کے ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ اور ایم ایل اے دلیپ پانڈے،کسان قائدین چودھری روہت جاکھڑ ، چودھری یشپال سنگھ ، وریندر گوجر ، چودھری اودھم سنگھ ، راہول بیدی ، کلدیپ تیاگی ، چودھری بابا شیام سنگھ ، چودھری سنجے ، ٹھاکر پورن سنگھ ، سراج الدین چوہان اور چودھری دلبیر ودیگر شریک ہوئے۔اس موقع پر روہت جاکھڑ نے کہا کہ اروند کجریوال نے ذات، مذہب اور فرقہ کی تمام دیواروں کو توڑ کر اسمبلی میں مغربی یوپی کے پورے چودھری کو بلا کر مہمان نوازی کی ہے۔ چودھری شیام سنگھ نے کہا کہ ہم نے سی ایم کے بارے میں جو کچھ سنا وہ ان میں پایا گیا۔ ہم ان کے ساتھ ہیں۔ اسی دوران چودھری یشپال سنگھ نے کہا کہ سی ایم اروند کجریوال نے ہمیں ہمیشہ تعاون کرنے کا یقین دلایا ہے۔ مطالبات کی تکمیل تک ہماری پکٹنگ جاری رہے گی۔
کسانوں سے ملاقات کے بعد وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے میڈیا کو بتایا کہ بی جے پی اور مرکزی سرکار بار بار کہہ رہی ہے کہ ان قوانین سے کسانوں کو فائدہ ہوتا ہے ، لیکن اب تک وہ عوام کو ایک بھی فائدہ پہنچانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کے برعکس یہ تینوں قوانین ایک طرح سے کسانوں کے لئے ڈیتھ وارنٹ جیسے ہیں۔ اگر یہ تینوں قوانین منظور ہوجاتے ہیں تو پھر ملک کے کسانوں کو بہت پریشانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 28کو میرٹھ میں بہت بڑی مہا پنچایت ہے اور اس میں کسانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہوگی۔ ان تینوں قوانین پر بھی اس بات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا کہ کسان مہاپنچایت اور مرکزی سرکار سے ان کو واپس لینے کی اپیل کی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ مرکزی سرکارنے کسانوں سے ملاقاتیں کرنا چھوڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل مذاکرات سے نکل آئے گا۔ مرکزکو کسانوں سے بات چیت کرنی چاہئے ۔