فیکٹ چیک :سنی وقف بورڈ کا پانچ ایکڑ اراضی پر بابری ہاسپٹل تعمیر کرنے کا منصوبہ کیا ہے سچ

0
7

نئی دہلی :9 ممبر 2019کو سپریم کورٹ نے ملک کے ایک بڑے تنازغہ رام جنم بھومی ۔بابری مسجد پر فیصلہ سنایا تھا۔سپریم کورٹ نے ایودھیا کی متنازعہ زمین رام مندر بنانے کے

لئے دی۔ جب کہ بابری مسجد کے لئے سنی وقف بورڈ کو پانچ ایکڑ کی عارضی زمین دی گی۔پانچ اگست 2020کو وزیر اعظم مودی نے رام مندر تعمیر کے لئے بھومی پوجن کر مندر کی بنیاد رکھی۔اس بیچ سوشل میڈیا میں سنی وقف بورڈ کو لیکر دعوی کے گئے کہ مسجد بنانے کے لئے ملی پانچ ایکڑ زمین سنی وقت بورڈ ’بابری ہاسپٹل‘تعمیر ہوگا۔ دعوی کے مطابق یہ اسپتال ایمس کے جیسے ہی مفت سہولیات دے گا۔ اس دعوی کے ساتھ ایک ایک عالی شان بلڈنگ جس پر ’بابری مسجد ہاسپٹل‘کی ہڈنگ نظر آرہی ہےاور آل انڈیا مسلم پرسنل لا پورڈ کے وکیل ظفر یاب جیلانی کی تصویر کے ساتھ شیئر ہورہا ہے۔
بابری ہاسپٹل ہڈنگ والی  عمارت اور ظفر یاب جیلانی کی ایک تصویر ایک  کامن پیغام کے ساتھ فیس بک اور ٹویٹر پر بھی شیئر کی جارہی ہے۔ "# ماسٹراسٹروک سپریم کورٹ نے جو پانچ ایکڑ اراضی دی تھی ، سنی وقف بورڈ نے فیصلہ کیا کہ # بابری_ہاسپیٹل #اے آئی آئی ایم ایس کے برابر #مفت سہولت دے گا … معروف ڈاکٹر # کافیل خان کو اس اسپتال کا ایڈمنسٹریٹر بنایا جاسکتا ہے۔ ،اس اسپتال میں ایک پوری منزل #بچوں #کے لئے مخصوص ہوگی،جو سردی بخار(وائرل میگنیٹ)سمیت متعدد بیماریوں کا علاج کرے گی۔
سوشل میڈیا کے دعوے:1. سنی وقف بورڈ سپریم کورٹ سے ملی 5 ایکڑ اراضی پر اسپتال تعمیر کرے گا2۔اس اسپتال کا نام 'بابری ہاسپٹل'ہوگا۔3.'بابری ہاسپٹل'کی  بتاکر صویر شیئر کی گئی تھی۔
ُفیکٹ چیک:گوگل سرچ پر 8 اگست 2020 کی لائو ہندوستان کی رپورٹ ملی۔ اس رپورٹ کے مطابق ، سنی وقف بورڈ 1400 گز اراضی پر ایک مسجد تعمیر کرے گا ، جب کہ باقی زمین پر ایک بڑا اسپتال اور انڈو  اسلام  ریسرچ سینٹر تعمیر کیا جائے گا۔ سنی وقف بورڈ نے اس کے لئے انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ٹرسٹ بھی تشکیل دیا ہے۔ مضمون میں ٹرسٹ کے سکریٹری اور ترجمان اطہر حسین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مسجد کے علاوہ یہ ٹرسٹ ایک اسپتال اور تحقیقی مرکز تعمیر کرے گا۔ یہی بات 5 اگست 2020 کی این ڈی ٹی وی کی رپورٹ میں بھی یہی کہا گیا ہے۔
Alt نیوز نے اطہر حسین سے بات کی۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ مسجد کے علاوہ ایک اسپتال ، کمیونٹی کچن ، لائبریری اور  ہاسپٹل انڈو اسلامک ریسرچ سینٹر سپریم کورٹ کے فیصلے سے حاصل ہونے والی 5 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جائے گا۔ یہ تحقیقی مرکز ہندوستان کی گنگا جمونی  تہذیب  کو دکھائے گا اور اس کو فروغ دے گا۔ ٹرسٹ کے ذریعہ بنائے جانے والے اسپتال کے نام کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے 'بابری اسپتال'سے متعلق دعووں کی مزید وضاحت کی ، "ایمس جیسے بڑے اسپتال بنانے اورڈاکٹر کفیل خان اس اسپتال کا ایڈمنسٹریٹر بنانے کے دعوے جھوٹے ہیں۔ میں ان دونوں دعوؤں کو مسترد کرتا ہوں۔ ہم نے اس وائرل دعوے کے بارے میں لکھنؤ کے کمشنر کو بھی آگاہ کردیا ہے۔ "
صحافی مہتاب نے بابری اسپتال کے دعوے کو جعلی قرار دیتے ہوئے اتر پردیش سنی وقف بورڈ کی پریس ریلیز شیئر کی ہے۔ 7 اگست 2020 کی اس پریس ریلیز میں بابری اسپتال اور ڈاکٹر کفیل خان کو اسپتال کا ڈائریکٹر بنانے کے دعوے کی تردید کی گئی ہے۔
اس طرح ، سپریم کورٹ کی جانب سے سنی وقف بورڈ کو 5 ایکڑ اراضی پر اسپتال بنانے اور اس کا نام 'بابری ہا سپٹل'رکھنے کا دعویٰ غلط ہے۔ کیونکہ اس سرزمین پر ایک مسجد ، اسپتال ، کمیونٹی کچن ، ریسرچ سنٹر وغیرہ بھی بنائے جائیں گے۔ سنی وقف بورڈ کے ذریعہ تعمیر کیے جانے والے اسپتال کا نام 'بابری اسپتال'ہوگا ، یہ دعویٰ بھی غلط ہے کیوں کہ ٹرسٹ نے ابھی تک اسپتال کے نام یا ڈھانچے کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا ہے۔
'بابری اسپتال کی تصویر'کی حقیقت:
ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جارہی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 'بابری اسپتال'کی بات ہے
اس کے علاوہ ہم آپ کو یہ بھی بتادیں کہ وائرل پیغام میں ڈاکٹر کفیل کی ہجے Kafil لکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر کفیل خان گورکھپور کے بابا راگھو داس میڈیکل کالج کے انسیفلائٹس وارڈ کے سابق سربراہ تھے۔ 2017 میں ، ڈاکٹر خان کو بی آر ڈی میڈیکل کالج میں 60 سے زیادہ بچوں کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 2019 ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ، ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات سے بری ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ اس سال 13 فروری کو ،ڈاکٹر خان نے شہریت ترمیم کے خلاف جاری مظاہرے کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک تقریر کی۔ اس کے بعد ان پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے کا الزام لگایا گیا تھا اور ان کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ڈاکٹر کفیل خان ابھی بھی جیل میں ہیں۔ سوراج انڈیا کے صدر یوگیندر یادو نے 14 جولائی 2020 کو ٹویٹ کیا کہ وہ تقریر کے وقت ڈاکٹر کفیل کے ساتھ تھے۔ یوگیندر یادو نے کہا کہ ڈاکٹر کفیل کی تقریر میں ایک بھی لائن نہیں تھی جو ملک ،آئین یا مذہب کے خلاف ہو۔
اس طرح ،یونیورسٹی آف ورجینیا کی تصویر کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ، جس میں سنی وقف بورڈ کے ذریعہ بنائے جانے والے اسپتال کو بیان کیا گیا ہے۔ سنی وقف بورڈ کو ملنے والی صرف 5 ایکڑ اراضی پر ہی اسپتال بنانے کا دعویٰ غلط ہے کیونکہ اسپتال کے علاوہ اس زمین پر ایک مسجد ، لائبریری ، ریسرچ سنٹر تعمیر کیا جائے گا۔
بشکریہ :.altnews.in