تنہائی میں وقت گزارنے کے فائدے

0
12

ازقلم- عمیر احمد   
اس مضمون میں میرا خطاب ان نوجوانوں کی طرف ہے جن کے اخلاق ابھی پختگی کے درجے کو نہیں پہنچے ۔
نوجوانوں !جہاں تک ہو سکے لوگوں کی صحبت سے بھاگو،تنہا رہو،ہرروز جتنی دیر ممکن ہو تنہائی میں بسرا کرو۔
شخصی نشونما، عقلی ورزش اور جاتی ترقی کے 
لئے ایک وسیع میدان کی ضرورت ہے اور وسیع میدان سےمراد ہےگوشہ نشینی ۔جہاں انسان اپنے نفس کا اور اس کی قابلیت کا امتحان کر سکتا ہے۔بلاشبہ یہ سب کچھ صرف تنہائی میں ہوسکتا ہے ،مجمع میں نہیں،اس بڑے موٹے درخت کی طرف دیکھو جو سب درختوں سے علاحدہ ایک وسیع قطعہ زمین پر اپنی شاخیں پھیلا رہا ہے ،یہ اس درخت سے بہتر ہے جو آزاد نہیں ہے ،جو ایک گھنے جنگل میں کھڑا ہے ،جس پر تمام درختوں کا دباؤ پڑتا ہے ،جس کی طاقت کو اس کے ہمسارے چوس رہے ہیں۔ تم شیر کو دیکھ کر البتہ خوش ہو سکتے ہو جس کی جولا نگاہ وسیع ہے ۔جو تمام زمین کو اپنے ملک میں خیال کرتا ہے اور جہاں چاہتا ہے آزادی سے کودتا پھاندتا پھرتا ہے۔ وہ انسان جو انسانوں کے ہجوم میں رہتا ہے جس طرح  کوئی جنگلی ہرن اپنی ڈار میں رہتا ہے اور اسی ہجوم میں رہ کر کام کرتا ہے ، وہ دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا اور کبھی ترقی نہیں کرسکتا ،اگر تم 
چاہتے ہو کہ دنیا میں کامیاب ہو اور ترقی حاصل کرو تو یہ بات تم پر فرض ہے کہ تنہا رہو اور تنہائی میں کام کرو اور اپنی قوتوں کو ایسی جگہ ورزش میں لاؤ جہاں کتاب کے سوا کوئی تم سے بات کرنے والا اور نے نیچر کے سوا کوئی ہم نشیں نہ ہو۔
جب تم منزل مقصود پر پہنچ جاؤ، جب تم اپنی قوتوں کو ترقی دے چکو، جب تمہاری قابلیت نشونما پا چکے، جب تمہارا کام انتہا کو پہنچ جائے اور چاہوں کے دنیا تمہاری لیاقت اور کمال سے فائدہ اٹھائے تو اس وقت آپ نے خلوت سے باہر نکلو اور جلوت میں آؤ اور اپنے علم و ہنر سے لوگوں کو فیض پہنچاؤ۔جب تم کسی سٹی یا چھوٹے سے شہروں میں داخل ہو۔ اور چاہوکہ وہاں کسی ہوشیار اور مستعد آدمی کو تلاش کرو تو ایسا آدمی نہ تو ان لوگوں میں ملے گا جو بلیرڈ کی میزوں پر جھکے رہتے ہیں اور نہ ان لوگوں میں ملے گا جو دکانوں اور بازاروں میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں ۔یہ تو وہ لوگ ہیں جن کے دماغ عقل سے خالی ہیں ۔
جن کی قوتیں پستہ اور کمزور ہیں۔تم کو ایسا مستعد اور سرگرم آدمی تنہائی کی گوشہ میں ملے گا ،
 میرے پیارے نوجوانوں ! تم جنگلی جانور نہ بن جاؤ اپنے ہی جیسے اور جانوروں میں مل جل کر رہتے ہیں ۔تم اپنا وقت ایسے لوگوں کی صحبت میں ضائع نہ کرو جن کے معلومات سے کچھ زیادہ نہیں ہیں۔ تم پر فرض ہے کہ اپنی عقل سے کام لو مگر نہ ایسی حقیر باتوں میں کہ تمہارا فیشن کیا ہے ، تمہارا لباس کس رنگ اور کس وضع کا ہو، تمہارے ملاقات کے کمرے کا فرنیچر کیسا ہو۔
یاد رکھو کی تم  ایک انسان ہو ۔ تم ایک کام کرنے والے زندہ مخلوق ہو۔ تم خاک کی مٹھی نہیں ہو جس کی قدروقیمت کچھ نہیں ہے ۔تم جنگل کے حقیر جانور نہیں ہو۔تم انسان ہو اور تم کو انسان ہی بننا لازم ہے ۔جنگلی جانور بننا نہیں چاہیے ۔ جب نیچر نے کروڑوں سال تمہارے پیدا کرنے اور بنانے میں صرف  کیے ہیں تب تم اس درجے تک پہنچے ہو ۔ نیچر کو جو امید تمہاری ذات سے ہیں ان کو ملیامیٹ نہ کرو اور اس کو شرمندہ پشیماں نہ ہونے دو کیونکہ اس نے تمہاری ایجاد میں ایک زمانہ دراز صرف کیا  ہے۔ اگر تم باغ میں جاؤ تو اس کی روشوں (سڑک)پر ٹہلو اور اور کچھ نہ کچھ سوچتے رہو ۔اپنے کمرے میں بیٹھو  تو کتابوں کا مطالعہ کرو اور کچھ نہ کچھ تحریر کرو ۔لوگوں سے بات کی کرنے سے بہتر یہ ہے کہ تم اپنے نفس سے بات چیت کرو ۔ جو انسان اپنی پوری لیاقت اور قابلیت سے کام لینے کا ارادہ کر لیتا ہے وہ ایک دن کچھ نہ کچھ ہو کر رہتا ہے
کسی نامور مصنف نے کہا تھا کہ ،"تنہائی انسان کو ذہنی طاقتوں کو معراج کمال پر لے جاتی ہے "۔
تم کو اس واقعہ سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ،بیتھوفن جو بڑا موسیقی داں تھا ۔ بہرہ ہوگیا تھا اور سبب سے اس نے لوگوں سے ملنا جلنا ترک کر دیا تھا ۔ یہی وہ وقت تھا جس میں اس نے بڑی بڑی دلفریب رگنیاں ایجاد کیں۔ بیکن پر جب وہ زمانہ آیا جب کہ 
وہ درباری زندگی سے علل حدہ  ہوگیا تو اس نے جدید فلسفہ کی بنیاد ڈالی اور وہ عظمت و شہرت کی بہت سی منزلیں طے کر گیا ۔
نوجوانوں اگر تم یہ سوچتے ہو کہ قسمت میں لکھا ہوگا تو ضرور پورا ہوگا ۔یہ تمھاری بہت بڑی بھول ہے۔
میں آپ لوگوں کو چند مثالیں پیش کرتا ہوں تاکہ تم اس سے واقف ہوجاوگے وہ کیا ہے؟ "محنت" ہے۔
 کامیابی قسمت سے نہیں محنت سے ملتی ہے ۔
  کیونکہ پھول یونہی کھلا نہیں کرتے بیج کو دفن ہونا پڑتا ہے ۔
نوجوانوں، کیونکہ کامیابی اجتماعی ہو یا انفرادی۔ دنیاوی ہو یا اخروی اس کا تعلق صرف اور صرف محنت سے ہے، انسان چاند پر قدم رکھنے میں کامیاب ہوا تو وجہ قسمت نہیں محنت تھی۔ انسان لاکھوں من لوہا کو اڑانے میں کامیاب ہوا تو وجہ 
قسمت نہیں محنت تھی ۔اور پندرہ اگست انیس سو سینتالیس میں جب ہندوستان آزاد ہوا کوئی قسمت اور مقدر کی تقدیر نہیں صرف اور صرف لوگوں کی محنت تھی      
میرے پیارے دوستو میں ایک میسج  اس مضمون کے ذریعے دینا چاہتا ہوں کہ ۔اگر تم بھی چاہتے ہو کہ ناموری اور کامیابی کی بلندی پر پہنچوں تو چائے کہ دکانوں پر اور بلا ضرورت لوگوں کے بھیڑ میں بیٹھنا ترک کردو ، جلسوں اور مجلسوں میں زندگی بسر کرنا چھوڑ دو خلوت میں پاؤں سمیٹ کر بیٹھو اور دل و دماغ سے کام لو کیونکہ تنہائی ترقی کا انتہائی زینہ ہے۔