قصابوں اور سرکار کے بیچ تعطل برقرار رہنے کی وجہ سے کشمیر میں گوشت کی قلت

0
15

سرینگر(صریر خالد،ایس این بی): وادیٔ کشمیر میں گوشت فروخت کرنے والے قصابوں اور سرکار کے بیچ پرچون نرخوں کو لیکر کئی مہینوں سے چلا آرہا تضاد جاری ہے جسکی وجہ سے عام لوگوں کو آسانی کے ساتھ گوشت دستیاب نہیں ہو پارہا ہے۔سرکار کا کہنا ہے کہ اس نے تھوک اور پرچون بازار میں گوشت فی کلو کی حتمی قیمت مقرر کی ہوئی ہے تاہم قصابوں کی من مانی جاری ہے اور وہ گوشت کی مصنوعی قلت پیدا کرکے من مانی قیمت وصول کرنے کی نئی راہیں تلاش کرچکے ہیں۔
دو ایک ماہ سرکار نے گوشت کی قیمت کا سرِ نو جائزہ لیکر اسکی فی کلو قیمت چار سو بیس سے بڑھاکر چار سو اسی کردی ہے اور ساتھ ہی خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیادہ قیمت وصولنے والے قصابوں کو دھر لیا جائے گا۔حالانکہ قصاب اس سے پہلے ہی پانچ سو روپے فی کلو کے حساب سے گوشت بیچتے چلے آرہے تھے اور سرکاری نرخنامہ محض ایک ردی کاغذ بنا ہوا تھا۔
سرکار کی جانب سے نئی قیمت مقرر کئے جانے اور اسلا صحیح معنوں میں اطلاق کرانے کیلئے بازار میں چھاپہ ماری سے پریشان قصابوں نے پہلے احتجاجی مظاہرے شروع کرکے سرکاری قیمت کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور پھر دکانیں بند کرکے گوشت کی قلت پیدا کردی۔گو کئی علاقوں میں قصابوں نے سرکاری قیمت پر گوشر فروخت کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا تاہم بیشتر علاقوں کے قصاب شٹر گراکر بیٹھ گئے۔
سرکار کا دعویٰ ہے کہ اس نے معاملے کے سبھی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی مناسب قیمت مقرر کی ہوئی ہے تاہم قصابوں کا احتجاج جاری ہے اور وہ مقررہ قیمت میں اضافہ کئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس صورتحال کے بیچ قصابوں کی ایک انجمن نے تاجروں کی ایک تنظیم سے رجوع کرکے اسکے کئی عہدیداروں کو امرتسر،دلی،راجستھان اور ان سبھی منڈیوں کے دورے پر لے لیا کہ جہاں سے وادیٔ کشمیر کو گوشت کی سپلائی ہوتی ہے۔قصابوں کی ایک تنظیم کے لیڈر معراج الدین نے بتایا کہ وہ چاہتے تھے کہ تاجروں کے نمائندگان مختلف منڈیوں میں گوشت کی تھوک قیمت معلوم کرکے سرکاری انتظامیہ اور عوام کو باور کرائیں۔خود ایک معروف تاجر لیڈر فاروق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے کئی منڈیوں کا دورہ کیا ہے اور اب وہ ایک مفصؒ رپورٹ مرتب کرنے میں لگے ہوئے ہیں جو ہفتہ بھر تک سرکاری انتظامیہ کو پیش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں بیرونی منڈیوں کے نرخوں،قصابوں کے مفادات اور وادیٔ کشمیر کے عوام کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہی تجاویز پیش کی جائیں گی تاہم سرکار نے ایسی کسی بھی رپورٹ کو ماننے سے پیشگی انکار کردیا ہے۔
بازار میں قیمتوں کی تقرری اور متعلقہ معاملات کے ذمہ دار محکمہ امورِ صارفین و عوامی تقسیم کاری کے ڈائریکٹر بشیر احمد خان کا کہنا ہے کہ وہ ایسی کسی ٹیم کے بارے میں نہیں جانتے ہیں کہ جو بیرونی منڈیوں کے دورے پر گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ سرکار گوشت کی قیمت مقرر کرچکی ہے جو حتمی ہے اور اس سے زیادہ قیمت وصولنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔حالانکہ اس سے قبل خود سرکاری اہلکاروں کا ایک وفد بھی بیرونی منڈیوں کے دورے پر گیا ہوا تھا تاہم بشیر خان کا کہنا ہے کہ وہ معمول کی ایک کارروائی تھی اور اس کا گوشت کی مقرر کردہ قیمتوں پر نظرِ ثانی کئے جانے کے کسی منصوبے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس صورتحال کے بیچ قصابوں کی من مانی اس حد تک جاری ہے کہ وہ چھ سو روپے فی کلو کی قیمت پر گوشت بیچتے ہیں۔سرکاری اہلکاروں سے بچنے کیلئے ان لوگوں نے طریقہ یہ اپنایا ہوا ہے کہ وہ نمازِ فجر کے ساتھ ہی دکان کھولتے ہیں اور تب تک دکان بڑھا کر چلے جاتے ہیں کہ جب تک سرکاری اہلکار بازار گھومنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں۔ایک سرکاری افسر کا کہنا ہے کہ کوئی بھی سرکاری حکم تب تک پوری طرح نافذ ہی نہیں ہوسکتا ہے کہ جب تک نہ لوگ اپنی ذإہ داری نبھائیں۔وہ کہتے ہیں ’’ہم نے لوگوں سے درخواست کی ہوئی تھی کہ وہ مہنگا بیچنے والوں کو رپورٹ کریں لیکن پوری وادی میں ہمیں بہت کم شکائتیں موصول ہوئی ہیں،لوگ معمولی جوکھم اٹھانے پر بھی آمادہ نہیں ہیں تاہم ہمیں جہاں پتہ چلتا ہے ہم کساد بازاری کے خلاف اقدام کرتے ہیں‘‘۔
واضح رہے کہ مسلم اکثریت والے کشمیر میں گوشت خوروں کی تعداد زیادہ ہے اور یہاں سالانہ قریب 51,000 ٹن گوشت کی کھپت ہوتی ہے جس میں سے نصف کے قریب مقامی پیداوار ہے تاہم نصف ضرورت باہر کی منڈیوں سے پورا کی جاتی ہے۔پورے کشمیر میں بکرے سے زیادہ بھیڑ کا گوشت پسند کیا جاتا ہے حالانکہ دیہی علاقوں میں خصوصی طور بڑے جانور کاٹے جاتے ہیں۔