بھارت بھوشن کی اداکاری کے کارنامے رہتی دنیا تک یاد کئے جائیں گے

0
8

بھارت بھوشن ایک ایسے اداکار تھے جن   کے کارنامے رہتی دنیا تک یاد رہیں گے۔
ہندی فلموں کے مشہور اداکار، اسکرپٹ رائٹر اور پروڈیوسر بھارت  بھوشن کی پیدائش  14 جون 1920 کو میرٹھ میں اور پرورش علی گڑھ اترپردیش میں ہوئی تھی۔  
عروس البلاد بمبئی میں گلوکارہ بننے کی تمنا لے کر آنے والے بھارت بھوشن کو جب اس شعبہ میں کامیابی نہیں ملی تو انہوں نے اداکاری کی جانب قدم بڑھایا اور 1941میں بننے والی فلم ’چترلیکھا‘ میں انہیں ایک چھوٹاسا رول ملا اوریہاں سے انہوں نے اپنے کیرئر کی شروعات کی۔کئی برسوں تک انہیں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی لیکن فلم ساز وہدایت کاروجے بھٹ کی فلم بیجوباورا نے انہیں شناخت عطاکی۔
تقریباً 143فلموں میں اداکاری کا جوہر دکھانے والے بھارت بھوشن نے مشہور زمانہ شاعرمرزاغالب پر مبنی فلم’مرزا غالب‘ میں غالب کا رول بھی بخوبی نبھایا۔
سہراب مودی کی ہدایت کاری میں بننے والی اس بھارت بھوشن نے غالب کے کردار کو اس قدر خوب صورت انداز میں نبھایا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غالب بذات خود ہی پردے اتر آئے ہیں۔دل کو چھولینے والی غزلوں‘ بہترین مکالموں اورعمدہ اداکاری کی بدولت اس فلم کونیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔غزلوں کے شہنشاہ طلعت عزیز اور اداکارہ و گلوکار ثریا کی میٹھی آواز نے اس فلم کو جلا بخشی  ۔

فلم بیجوباورا نہ صرف بھارت بھوشن کے لئے بلکہ وجے بھٹ کے لئے نعمت ثابت ہوئی۔ ایک طرف جہاں وجے بھٹ کی مالی حالت مستحکم ہوئی وہیں بھارت بھوشن اور  اداکارہ میناکماری کو بھی  نئی پہچان ملی اور ان کے اسٹار بننے کی راہ ہموار کی۔اس فلم کے نغمے ’او دنیا کے رکھوالے۔۔۔ من تڑپت ہری درشن کو آج۔۔۔تو گنگا کی موج میں جمنا کا دھارا۔۔۔بچپن کی محبت کو دل سے نہ جدا کرنا اور دور کوئی گائے‘ جیسے نغموں کو لو گ آج تک نہیں بھول پائے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کے گانے’من تڑپت ہری درشن۔۔۔‘ کے موسیقار نوشاد‘گیت کار شکیل بدایونی اور نغمہ سازمحمد رفیع تینوں ہی مسلم فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے اس گانے کوروحانی رنگ میں رنگ دیا۔
بعد ازاں بھارت بھوشن نے ’شری چیتنیہ مہاپربھو‘ نامی فلم میں کام کیا ۔ ا نہیں اس کے لئے بہترین اداکار کا فلم فیئرایوارڈ دیا گیا۔ انہوں نے اپنی محنت اور مسلسل جد و جہد کی بدولت اشوک کمار‘ دلیپ کمار‘ راج کپور اور دیوآنند جیسے اہم اداکاروں کی موجودگی میں انہوں اپنی الگ جگہ بنائی۔ان کی اہم فلموں میں بھکت کبیر(1942)‘ شری چیتینہ مہاپرھو (1954)‘ مرزا غالب(1954)‘ رانی روپ متی(1957)‘  سوہنی مہیوال(1958)‘ س مراٹ چندر گپت(1958)‘ کوی کالی داس(1959)‘  سنگیت سمراٹ تان سین (1962)‘ نواب سراج الدولہ(1967)وغیرہ شامل ہیں۔
1964میں انہوں نے فلم ’دوج کا چاند‘ خود بنائی جوبری طرح فلاپ رہی اور  انہوں نے فلم سازی سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔1967میں ریلیز ہونے والے فلم ’تقدیر‘ بطور ہیرو ان کی آخری فلم تھی۔  اس کے علاوہ   انہوں نے چھوٹے پردے پر  ’ بے چارے گپتاجی اور دشا‘  جیسے سیریلوں میں بھی کام کیا۔  
 اپنوں سے دوری اور حالات سے مجبورہوکر اس عظیم فنکار نے 27جنوری 1992کو اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔