مادری زبان کی اہمیت اور ہماری شناخت

0
50

پروفیسر محمد جہانگیر وارثی
اقوام متحدہ کی طرف سے 21 فروری کو ہر سال بین الاقوامی مادری زبان کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بین الاقوامی مادری زبان منانے کی تاریخ بنگلہ دیش کے1952کے مادری زبان کی تحریک سے جڑی ہوئی ہے۔21 فروری 1952 کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے طالب علموں نے ملک گیر سطح پر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ اس تحریک کو روکنے کے لئے حکومت نے دفعہ 144 کے تحت کرفیو لگا دیا لیکن اس سے طالب علم اور مشتعل ہو گئے اور پولیس کے ساتھ تصادم میں 4طلبا کی جانیں چلی گئیں۔ ان طلبا کی شہادت کو بڑے احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے اور ان کی یاد میں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں لوگ شہید مینار پر پہنچ کر ان طالب علموں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ یہ ایسا دن ہے جب عوام اپنی ثقافتی سالمیت اور مادری زبان کے تحفظ کے لئے عہد کرتے ہیں۔
ویسے تو ہر زبان کہیں کسی کے لیے مادری زبان ہوتی ہے توکہیں کسی اور کے لیے دوسری یاکام- کاج کی زبان بن جاتی ہے لیکن پوری دنیا میں بات چیت کا سب سے مضبوط ذریعہ مادری زبان ہی ہوتی ہے۔ شروع سے لے کر آج تک تمام قوموں کے درمیان ان کی اپنی مادری زبان کا آپس میں ہم آہنگی اور مکالمہ قائم کرنے میں اہم کردار اداکرتی رہی ہے۔ وقت چاہے ہنگامی رہا ہو ، جدو جہد کا رہا ہو ، آزادی کی جنگ کا رہا ہو یا پھر سرد جنگ کا تمام قوموں کے درمیان ان کی اپنی مادری زبان کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے اور وطن عزیز ہندوستان میں ہماری مادری زبان اردو کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ یہ محبت کی زبان بھی ہے اور انقلاب کی زبان بھی ۔
ہر وہ زبان جو اس دنیا کے اندر بولی جاتی ہے وہ ایک منفرد اور نمایاں ثقافتی میراث، رنگارنگ ماحول ، لذیذ پکوان اور زندگی گزارنے کے لیے ایک صحت مند معاشرہ اور سماج کی نمائندگی کرتی ہے۔جیسا کہ کیلی فور نیا یونیورسٹی، برکلے، امریکہ کے ماہر لسانیات پروفیسر لین ہنٹنLeanne Hintonنے اپنی کتاب ،مادری زبان پر مبنی کثیر لسانی تعلیم Mother Tongue Based-MultiLingual Educationمیں فرمایا ہے۔ قدرے وسیع تناظر میں ایک زبان کا فقدان در اصل مکمل تہذیبوں، کلچروں اور تعلیمی نظاموں کے فقدان کا حصہ ہے بشمول فلسفیانہ نظام لسانی، ادبی اور موسیقی سے متعلق روایات، ماحولیاتی نظام ہائے تعلیم، طبی تعلیم، اہم تہذیبی و کلچر معمولات اور فنی صلاحیتوں کے جب کسی زبان کا استعمال ہوجاتا ہے تو پوری دنیا انسانی تعلیمی مقدار کے ایک اہم حصے کے فقدان اور خسارے پر مجبور ہوجاتی ہے گو یا جنس بشری کی رنگا رنگی اور گوناں گوئی کی تباہی وبربادی کی بنا پر انسا نی مخلوقات اپنے آپ کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، لہٰذا یہ ہو سکتاہے کہ تعلیمی نظاموں کی گوناںگونی کی بربادی کی بنا پر ہم لوگ مشکل میںپڑ جائیں۔
یہ ایک مشہور اور جانی مانی حقیقت ہے کہ ہر شخص کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے جسے بولتے ہوئے وہ بڑا ہوتا ہے اور دنیا کی ایک خاصی تعداد ایک سے زیادہ زبان بولتی ہے۔مگر یہ آئیڈیا کہ کسی آدمی کو پابندی اور تسلسل کے ساتھ ایک ایسی زبان میںتعلیم دی جائے جو اس کی مادری زبان نہ ہو ۔اس سے پہلے یہ خیال میں نہیں آیا، بلاشبہ یہ آئیڈیا اس حقیقت کے بعد مزید شدت اختیار کر گیا کہ میں نے کبھی بھی ایک سے زیادہ زبان کے اندر مہارت حاصل کرنے کی خاطر خواہ کوشش نہیں کی،اب تک اگر مجھے کسی زبان سے بہت زیادہ قریبی تعلق اور وابستگی رہی ہے تو وہ ہائی اسکول کے جونیئر سالوں کے دوران اسپینی زبان سے عملی واقفیت یا کام چلاؤ جانکاری کی حدتک رہی ہے۔جب میں اپنے والدین کے سیاق اور تناظرمیں اس موضوع کے اوپر اپنے ذاتی نظریات کے بارے میں دوبارہ غور وفکر کرتاہوں تو یہ پاتا ہوں کہ میرے والدین کے لہجوں نے مجھے کبھی مشکل میں نہیں ڈالا، اس لیے کہ میں ہمیشہ اس سے مانوس اور ہم آہنگ رہا تھا۔یہ باتیں ایک 21سالہ نوجوان مسٹر تیج نے کہیں جو کہ واشنگٹن یونیورسٹی، سینٹ لوئیس امریکہ کا طالب علم ہے ۔
زبان کو سائنسی نقطہ نظر سے جب میں دیکھتا ہوں تو مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی کہ کثیر لسانی ہونا انسان کی قوت حافظہ کو بڑھادیتا ہے لیکن کچھ ایسے بھی ملک ہیں ، جہاں آج بھی اپنی مادری زبان کے علاوہ لوگ کوئی اور زبان سیکھنا پسند نہیں کرتے ہیں۔ اگر آپ سیاح کے طور پر فرانس ، جرمنی ، اٹلی یا پھر چین جائیں تووہاں آپ کو ہرانسان اپنی مادری زبان میں ہی بات کرتا ہوا ملے گا، گلوبلائزیشن کے اس دور میں لوگوں نے انگریزی کی طرف توجہ دی ہے لیکن اپنی مادری زبان کو بھی فوقیت دے رکھی ہے۔ اگر آپ جرمنی یا فرانس میں کسی سے بات کرنے کی کوشش کریں یا پھر کہیں جانے کا راستہ انگریزی میں پوچھیں تو ان کے رویے سے آپ کو ایسا لگے گا جیسے آپ نے کوئی گناہ کردیا ہو ، وہ آپ کی بات کو سن کر بھی ان سنی کردے گا یا پھر سمجھ کر بھی ایسا کرے گا کہ اس کو انگریزی سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ وہیں دوسری طرف اگر آپ ان کی زبان جیسے فرانسیسی یا جرمن میں ٹوٹے پھوٹے انداز میں بھی کچھ بولیں تو ان کے چہرے کی رونق دیکھتے ہی بنتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان سے آپ کا بہت پرانا رشتہ ہو اور وہ ہر طرح سے آپ کی مدد کرنے کو تیار رہتا ہے۔ اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ واقعی لوگ اپنی مادری زبان سے کتنا پیار کرتے ہیں۔
معاشرتی اور تہذبی نقطہ نظرسے بھی زبان دراصل تہذیب وکلچر کی پہچان، روح اور ترسیل کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔یہ افکار ونظریات اورجذبات واحساسات کے تبادلے کا بنیادی طریقہ ہے ۔موجودہ زمانے میں لسانی اور ثقافتی شعور و آگہی کے آئیڈیا کے اندر بہت اضافہ ہوگیا ہے۔اس طرح مادری زبان کو مزید مقبولیت عطا کردی گئی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنی مادری زبان اور انگریزی کے ساتھ ساتھ اور دوسری زبانیں بھی سیکھنی چاہئے ، کیوں کہ ہر زبان کی اپنی جگہ اہمیت ہے۔ ایک سے زیادہ زبا ن سیکھنے سے جہاں ایک طرف روزگار کے دروازے کھلتے ہیں تو دوسری طرف دوسرے ممالک کے لوگوں کی ثقافت اور رہن سہن کے بارے میں بھی جاننے کا موقع ملتا ہے اورکثیر لسانی ہونے سے سب سے زیادہ فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری قوت یادداشت بڑھتی ہے۔ ایسے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ روزگار حاصل کرنے کے لیے اپنے بچوں کو انگریزی اسکول میں ضرور بھیجئے لیکن انھیں اپنی مادری زبان سے محروم مت کیجئے۔ انھیں اپنی مادری زبان بولنے اورسیکھنے دیجئے جو گزشتہ ہزاروں سالوں سے ان کے آبا واجداد بولتے آئے ہیں ۔ اس سے وہ اپنی ثقافت کو سمجھتے ہوئے ایک بہترین انسان بنیں گے۔کسی آدمی کا اپنی مادری زبان کو اپنے گھر پر بولنا اور استعمال کرنا ان کی لسانی اور تہذیبی شناخت کے تئیں محبت کا ثبوت ہوتا ہے۔
warsimj@gmail.com