جرائم میں روزافزوں اضافہ: آخر کیوں؟

0
16

جیوتی سِڈانا
(مترجم: محمد صغیر حسین)

سماج میں مجرمانہ رجحان ومیلان میں مسلسل اضافہ تشویش کا موضوع بنتا جارہا ہے۔ حکمراں، انتظام کار، ماہرین سماجیات، ماہرین نفسیات، اساتذہ اور خاندانوں تک کیلئے یہ مجرمانہ مزاج ایک مشکل اور سنجیدہ مسئلے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ جرائم پہلے نہیں ہوا کرتے تھے لیکن گزشتہ چند سالوں میں تو بچوں اور کمسنوں سے لے کر نوجوانوں، ادھیڑ عمروالوں یہاں تک کہ بوڑھوں میں بھی مجرمانہ رجحان بڑھتا جارہا ہے اور وہ طرح طرح کے جرائم میں ملوث پائے جارہے ہیں۔ تکنیک کے فروغ نے بھی جرائم کے مزاج کو بدلا ہے۔ یہ کسی بھی سماج کیلئے اچھی علامت نہیں کہی جاسکتی۔ جنسی جرائم کے معاملات کہیں زیادہ تشویشناک ہیں۔ روزمرہ کی زبان میں ایک منظورشدہ سمت سے مخالف سمت کی طرف جانا یا سماج کی توقعات پر پورا نہ اترنا، انحراف کہلاتا ہے اور جب یہ انحراف قانون کی پامالی اور خلاف ورزی کا عکاس ہو تو جرم کے زمرے میں آجاتا ہے۔ علم جرمیات میں اس قسم کے سلوک کو مختلف ماہرین سماجیات مختلف زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لوبروسو دلیل دیتے ہیں کہ مجرم چند پیدائشی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں یعنی عام لوگوں اور مجرموں میں چند جسمانی خصوصیات کا فرق ہوتا ہے۔ دوسری جانب سدرلینڈ جیسے ماہرسماجیات مانتے ہیں کہ مجرم پیدائشی نہیں ہوتے بلکہ سماجی عوامل کی وجہ سے وہ مجرم بنتے ہیں۔ اسی طرح ماہرنفسیات جون بولبی دلیل دیتے ہیں کہ اگربچوں کا اوّلین معاشرتی ماحول انہیں جذباتی تحفظ نہیں دے پاتا تو اُن میں مجرمانہ رجحانات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ان تمام نظریاتی تجزیوں کی بنیاد پر واقعات جرائم کو سمجھنا گویا یکطرفہ ہوجاتا ہے۔
گلوبلائزیشن کے بعد، دولت اور طاقت کی غیرمساوی تقسیم اور تکنالوجی میں تیزی سے ترقی بھی جرائم میں اضافے کا سبب بنی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کورونا وبا نے جن حالات کو جنم دیا ہے، ان سے بھی جرائم میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ کوئی بھی بیماری یا وبا صرف انسانی جسم پر ہی اثر نہیں ڈالتی بلکہ سماج کے ہر رسمی اور غیررسمی اداروں کو متاثر کرتی ہے۔ حال ہی میں نیشنل فیملی ہیلتھ سروے(NFHS) نے ملک کی 22ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں ایک سروے کرایا تھا۔ اس سروے سے معلوم ہوا کہ پانچ ریاستوں کی 30%سے زیادہ عورتیں اپنے شوہر کے ہاتھوں جسمانی اور جنسی تشدد کی شکار ہوتی ہیں۔ عورتوں پر خانگی تشدد کے معاملوں میں سب سے خراب حال کرناٹک، آسام، میزورم، تلنگانہ اور بہار کا ہے۔ سروے سے پتہ چلا ہے کہ کرناٹک میں 18 سے 49سال کی عمر کی تقریباً 45% عورتوں کو خانگی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ بہار میں 40% عورتوں کو، منی پور میں 39%، تلنگانہ میں37%، آسام میں32% اور آندھراپردیش میں30%عورتیں خانگی تشدد کا شکار ہوئیں۔
ایسا نہیں کہ جرائم صرف عورتوں کے خلاف ہی بڑھے ہوں، بلکہ بچوں اور بزرگوں کے خلاف بھی جرم اور بدسلوکی کی وارداتیں بڑھی ہیں۔ ممبئی میں ایک بوڑھی عورت کے کورونا سے متاثر ثابت ہونے پر اُس کی اولاد نے ہی اُسے گھر سے نکال دیا یا پھر تناؤ سے پریشان ہوکر کسی عورت نے خودکشی کرلی۔ بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو چاقوؤں سے چھلنی کردیا کیوں کہ وہ اسے مکمل لاک ڈاؤن کے دوران باہر نکلنے سے منع کررہا تھا۔ دہلی کے ایک سرکاری اسکول کی معلمہ نے کئی منزل اونچی عمارت سے کود کر خودکشی کرلی۔ یہ عورت مکمل لاک ڈاؤن کے سبب شدید ذہنی تناؤ میں تھی۔
نوئیڈا میں ٹک ٹاک ویڈیو پر کچھ دنوں سے لائک نہ ملنے سے پریشان ایک کم عمر نوجوان نے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلی۔ بڑودرہ میں آن لائن لوڈو کھیل میں بیوی کے ذریعہ شوہر کو ہرا دینے پر اُس نے اپنی بیوی کو اتنا پیٹا کہ اُس کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ آگئی۔
کیرالہ میں دسویں جماعت کی ایک طالبہ نے آن لائن کلاس سے نہ جڑ پانے کے سبب جان دے دی۔ یہ چند ایسے واقعات ہیں جو غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا چھوٹی چھوٹی باتیں بھی قتل، خودکشی یا جھگڑے کا سبب ہوسکتی ہیں؟ آخر ہم اس قدر غیرمتحمل کیوں ہوتے جارہے ہیں؟
کورونا وبا کے دور میں خانگی تشدد کے واقعات میں اضافے کا ایک بڑا سبب گھر سے دفتری کاموں کا بڑھتا چلن ہے۔ عورتوں اور مردوں کا گھر سے باہر نکلنا بند ہوگیا اور گھر میں رہ کر کام کرنے سے خاندان کے ارکان کی اُن کے ماحول میں براہ راست یا بالواسطہ دخل اندازی بڑھ گئی۔ اس دخل اندازی کے نتیجے میں عدم تحمل، غصہ اور جارحیت بڑھنے لگی۔ باہر کی دنیا سے رابطہ کم ہونے یا ختم ہوجانے سے لوگوں کا آپسی ملنا جلنا بھی کم ہوگیا جس کے نتیجے میں لوگوں کو اپنوں سے ملنے، آپسی دکھ سکھ کو بانٹنے کا موقع بھی میسر نہیں ہوا۔
ایسے میں تناؤ اور مایوسی کا بڑھنا فطری تھا۔ بچے بھی گھر میں قید ہوگئے اور آن لائن کی گرفت میں آگئے۔ آن لائن پڑھائی، آن لائن کھیل اور آن لائن دوستی کا نتیجہ یہ سامنے آنے لگا کہ سوشل میڈیا کے کثرتِ استعمال سے اُن میں غصہ، تناؤ اور جارحیت بڑھتی گئی۔ اس طرح کی علامات، افراد کو مجرمانہ کردار کی جانب آسانی سے دھکیلنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔
ممکن ہے کہ عوامی جگہوں، سڑکوں یا گلیوں میں مجرمانہ واقعات میں کمی آئی ہو، لیکن غیررسمی دائروں میں جرم میں اضافہ ہوا ہے۔ متعدد میدانوں میں نوکریوں سے برخاستگی ہوئی، بے روزگاری اور غربت وافلاس میں اضافہ ہوا۔ یہ سارے اسباب و عوامل موجودہ دور میں مجرمانہ واقعات میں اضافے کے ذمہ دار ہیں۔ عورتوں اور بچوں کا کسی بھی شکل میں استحصال، تشدد کے امکانات کو جنم دیتا ہے۔
حال میں اترپردیش میں محکمۂ آبپاشی کے ایک جونیئر انجینئر کو جنسی استحصال کے معاملے میں گرفتار کیا گیا۔ ملزم دس سالوں سے معصوم بچوں کو اپنا شکار بنارہا تھا۔ اتنا ہی نہیں وہ بچوں کی فحش تصویریں اور ویڈیو انٹرنیٹ پر بیچتا تھا۔ سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ اب جب کہ ہم ایک ہمہ وقت نگراں سماج میں رہ رہے ہیں یعنی ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں تو پھر کس طرح ایک شخص یہ سب کچھ کرتا رہا لیکن کبھی پکڑا نہیں گیا؟ آخر کیوں؟ اس باب میں کیا حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے؟ کیا فحش ویب سائٹوں پر سرکار کی کوئی گرفت نہیں ہے یا پھر اس منافع بخش کاروبار میں کچھ بااثر لوگ بھی شامل تھے؟ تکنالوجی کی تند و تیز ترقی نے سائبرکرائم کو رفتار دی ہے۔آج بازار، ریاست، سماج اور خاندان سے بڑا ہوگیا ہے۔ بالفاظ دیگر بازار نے تمام رسمی اور غیررسمی اداروں کو نگل لیا ہے۔ اس لیے ریاست اور سماج کے مابین تعلق پر اور ان کی ذمہ داریوں پر شدید غور و خوض کی ضرورت ہے۔ یہ سچ ہے کہ کئی بار جارحیت، ناامیدی، غصہ اور سماج یا فرقوں کے تئیں نفرت یا فریب جذباتی طور پر فرد کو جرم کے راستے پر لے جاتا ہے۔ صرف تعلیم، بیداری، گہری منطقی فہم اور متعلقہ واردات کا ذاتی طور پر جامع تجزیہ ہی فرد کو جرم کرنے یا اُس میں پھنسنے سے روک سکتا ہے۔
جہاں تک عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کا سوال ہے تو غریبی، بے روزگاری، پدرسری سماجی نظام(Patriarchal System)، عورتوں کی کاروباری اور پیشہ ورانہ اہلیت کے تئیں شکوک و شبہات ایسے پہلو ہیں جن کی بنیاد پر عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو سمجھا جاسکتا ہے۔
موجودہ سماج ایک ’’بازار سماج‘‘ ہے جہاں فرد اپنی ضرورتوں کے نہیں بلکہ ’’خواہشات‘‘ کے تابع ہوتا ہے۔ ایسے سماج میں جرائم کی شرح میں اضافے کے امکانات و خدشات سے کس طرح انکار کیا جاسکتا ہے۔
(مضمون نگار کئی کتابوں کی مصنفہ اور مشہور کالم نگار ہیں)
(بشکریہ: جن ستّا)