مغربی بنگال میں سیاسی تشدد

0
18

محمد فاروق اعظمی

امن پروری اور رواداری کے حوالے سے مغربی بنگال پورے ملک میں اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔بنگال کے باشندے پرامن بقائے باہمی کے سنہرے اصول کی پابندی اور پاسداری میں ملک بھر میں سب سے آگے ہیں۔ یہاں عوامی زندگی میں تشدد کے واقعات دوسری ریاستوں کے مقابلے میں کافی کم ہوتے ہیں۔جرائم کے اعداد وشمار اکٹھاکرنے والے ادارہ این آر سی بی کاڈاٹا بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ لیکن سیاسی تشدد کے معاملے میں بنگال ان دنوں ہندوستان کی دوسری ریاستوں پر سبقت لے جارہا ہے۔ہر چند کہ ابھی اسمبلی انتخابات کا باقاعدہ اعلان نہیں ہوا ہے لیکن سیاسی تشدد میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔سیاسی پارٹیوں کے دفاتر پر حملے اور قبضہ کی کوشش کے دوران سیاسی کارکنوں میں براہ راست تصادم، خون خرابہ، بم اندازی اور گولی باری کے واقعات کم وبیش روزانہ ہی ریکارڈ ہورہے ہیں۔اس حوالے سے دیکھا جا ئے تو مغربی بنگال میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ناقص ہوگئی ہے۔اس تشدد کا سرچشمہ سیاسی حکمرانی اور تسلط قائم رکھنے کی بے مہار خواہش ہے۔
بایاں محاذ کی34سال کی حکمرانی بھی سیاسی تشدد کے واقعات سے پاک نہیں رہی ہے لیکن اس دور میں یہ تشدد حکمراں اور حزب اختلاف کے درمیان رسہ کشی اور تصادم کا نتیجہ ہواکرتاتھا۔’ تبدیلی ‘ کے نعرے کے ساتھ2011میں برسراقتدار آنے والی ترنمول کانگریس بھی تشدد کی اس سیاست کو بدلنے میں نہ صرف ناکام رہی بلکہ اس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتاگیا۔2011کے بعد ترنمول کانگریس اور بایاں محاذ کیڈروں کے مابین ہونے والے سیاسی تشدد میں ایک نیا حریف شامل ہوگیا۔حریفوں کا یہ گروہ فیض حکمرانی سے محروم ترنمول کانگریس کا ہی ناآسودہ طبقہ تھا جس نے پارٹی میں گروہ بندی اور سیاسی تشدد کا آغاز کردیا۔ پارٹی سپریمو ممتابنرجی کی بار بار کی تنبیہ کے باوجود گروہ بندی ختم نہیں ہوئی اور ایک ہی پارٹی کے دو یا اس سے زیادہ گروہ علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرنے کیلئے ایک دوسرے پرحملہ آور ہونے لگے۔ ترنمول کی اس گروہ بندی کی وجہ سے ریاست میںا من و امان کی غارت گری کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ مالدہ، بیربھوم، مرشدآباد، جنوبی 24 پرگنہ، ہگلی، پرولیا جیسے اضلاع میں اس گروہ بندی کے سبب تشدد کے ہزاروں واقعات پیش آئے جن میں سیکڑوں زخمی ہوئے اور کروڑوں کی مالیت خاکستر ہوئی، موت درجنوں افراد کا مقسوم بن گئی۔
2014سے جب بھارتیہ جنتاپارٹی مغربی بنگال کی سیاست میں سرگر م ہوئی تو یہ دائرہ اور بڑھا۔ایک نئے کھلاڑی کا اضافہ کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوا اور نتیجہ میں سیاسی تشدد کے واقعات روزمرہ کا معمول بن گئے۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی تشدد کی نئی نئی شکلیں بھی سامنے آنے لگیں۔سیاسی کارکنوں کو قتل کرکے درخت پر لٹکایاجانے لگا، پارٹی دفتروں پر قبضہ اور ایک دوسرے کو زندہ جلاڈالنے کے بھی واقعات ہونے لگے۔حکمراں اور حزب اختلاف دونوں کے کارکن بھینٹ چڑھنے لگے۔رکن قانون سازیہ تک اس سیاسی تشدد کا شکار ہوکر لقمہ اجل بن گئے۔2018کا پنچایت انتخاب اور 2019 کا پارلیمانی انتخاب بھی اسی سیاسی تشدد کے سایہ میں ہی ہوا۔ ان دونوں انتخابات میں ترنمول کانگریس، بھارتیہ جنتاپارٹی اور بایاں محاذ کی پارٹیوں کے کم و بیش پانچ درجن کارکنوں کی ہلاکت ریکارڈ پر ہے۔یہ تعداد صرف پولنگ کے دن مرنے والوں کی ہے۔ پولنگ سے قبل اور بعد میں ہونے والے تصادم اور خونریزی نے بھی کئی مائوں کی گود اجاڑ دی۔ 2019کے بعد ترنمول کانگریس کی ہواخیزی کے ساتھ ہی سیاسی تشدد کو پرلگ گئے۔بھارتیہ جنتاپارٹی کا دعویٰ ہے کہ اب تک ہونے والے سیاسی تشدد میں اس کے دوسو سے زیادہ کارکنوں کو ترنمول کانگریس کے پروردہ غنڈوں نے ہلاک کر ڈالا ہے۔اپنے سیاسی کارکنوں کی ہلاکت کے غم میں بی جے پی گزشتہ کئی برسوں سے اجتماعی تعزیتی جلسہ بھی منعقد کررہی ہے۔ 2020میں بی جے پی کے کارکنوں کی ہلاکت کا اپنا غم ہلکا کرنے کیلئے درگاپوجا سے عین قبل کولکاتا کے باغ بازار میں گنگا گھاٹ پر بڑاتعزیتی جلسہ بھی کیاتھا جس میں 100سے زیادہ مہلوک سیاسی کارکنوں کے اہل خانہ شامل ہوئے تھے۔
2019کے پارلیمانی انتخاب میں بنگال سے جیت کا ریکارڈ بنانے والی بی جے پی 2021 کا اسمبلی انتخاب ہر حال میں جیتنا چاہتی ہے، اس کیلئے جہاں اس نے ترنمول کانگریس پرشب خون مارنا شروع کیا ہے وہیں عوام کوسونار بانگلہ کا سنہرا اور افسانوی خواب بھی دکھا رہی ہے۔ دوسری طرف قتل و غارت گری پر منتج سیاسی تشدد کے متوازی نفسیاتی تشدد کا بھی آغاز کردیا۔ بی جے پی کے لیڈران اپنی ہر تقریر کامحور مسلم اور اقلیت دشمنی بنارہے ہیں۔وزیراعظم نریندر مودی ہوں یا وزیرداخلہ امت شاہ، جے پی نڈا ہوں یا دلیپ گھوش حتیٰ کہ ترنمول سے بی جے پی میں شامل ہونے والے شوبھیندو ادھیکاری اور راجیب بنرجی بھی اپنی ہر تقریر میں نفسیاتی تشدد کا یہی ہتھیار لہرارہے ہیں۔حزب اختلاف کے حامیوں میں انہیں ’ملک کے غدار‘ مسلمان نظرآتے ہیں۔ بنگال میں سی اے اے کے نفاذ کی دھمکی سے لے کر ووٹرلسٹ میں بنگلہ دیشیوں کی شمولیت کا ذکر کے بنگالی عوام کو مشتعل کرنے کے ساتھ ہی مسلمانوں میں خوف وہراس کی نفسیات بھی ابھار رہے ہیں۔
ہر چند کہ مغربی بنگال سیاسی تشدد کی اس نئی قسم سے بالکل ہی ناآشنا تھا لیکن بی جے پی کے طفیل بنگال کے لوگوں میں یہ زہر تیزی سے سرایت کرنے لگا ہے۔اور کوئی دن جاتا ہے کہ بنگال کے عوام بھی فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم ہوجائیں۔ یہ بنگال میں سیاسی تشدد کاایک نیا رجحان ہے جس میں بظاہر انسانی جانوں کا اتلاف تو نہیں ہے لیکن خطرہ اس سے کہیں زیادہ اور خوف ناک ہے۔یہ رجحان اتحاد و اتفاق اور بنگال میں یگانگت کی فضا ختم کرڈالے گا۔ امن پروری، رواداری اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کی پاسدار بنگال کو ہر طرح کے سیاسی تشددسے پاک کرنے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے عوام کو سامنے آناہوگا۔ورنہ سیاسی نوسرباز ’سیاسی تشدد‘ کو عام تشدد میں بدلنے سے بھی نہیں ہچکچائیں گے۔
farooquekolkata@yahoo.com