Image:The Indian Express

ممبئی: آج ممبئی ہائی کورٹ کی د و رکنی بینچ کے جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس منیش پٹالے کی عدالت میں 7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملے کی سماعت ہوئی جس کے دوران عدالت نے فریقین کے وکلاء کو کہا کہ وہ 18 مارچ سے قبل فیصلہ کریں کہ مقدمہ چلانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ وکلاء کس طرح سے عدالت سے تعاون کرسکتے ہیں کیونکہ عدالت اس مقد مہ کی جلداز جلد سماعت شروع کرکے اس پر فیصلہ صادر کرنا چاہتی ہے لہذآ پ لوگوں کی کیا تیاری ہے اس سے عدالت کو اگلی سماعت پر آگاہ کریں۔ خصوصی مکوکا عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے پانچ ملزمین کی تصدیق کے لیئے ریاستی حکومت کی جانب سے داخل کردہ اپیل پر آج ممبئی ہائی کورٹ میں سماعت عمل میں آئی۔
دو رکنی بینچ نے عدالت میں موجود دفاعی وکلاء اور وکیل استغاثہ کو کہا کہ عدالت اس مقدمہ کو دیگر مقدمات پر فوقیت دے کر اس کی سماعت شروع کرنا چاہتی ہے لہذا آپ دونوں فریق باہمی صلاح و مشورہ کرکے عدالت کو اگلی سماعت پر اس تعلق سے مطلع کریں۔
دو رکنی بینچ کے جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس منیش پٹالے کو ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹرکے وکلاء ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ ادیتیہ مہتا، ایڈوکیٹ گورو بھوانی نے بتایا کہ اس مقدمہ کی سماعت شروع کرنے سے قبل عدالت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا جائے گا کیونکہ دوران بحث ملزمین سے وکلاء کو بار بار صلاح و مشورہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوگی جو ان کی غیر موجودگی یا ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ممکن نہیں ہے جس پر جسٹس شند ے نے کہا کہ ملزمین کو بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ عدالت میں پیش کیا جائے گا کیونکہ کرونا کی وجہ سے ملزمین کو ویسے بھی جیلوں سے باہر نہیں نکالا جارہاہے لہذا دوران سماعت ملزمین کو بذریعہ ویڈو کانفرنسنگ عدالت میں پیش کیاجائے گا۔
دفاعی وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ وہ جلد ہی ملزمین کو نچلی عدالت سے ملی پھانسی اور عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل داخل کریں گے جس پر جسٹس شندے نے کہا کہ وہ تمام اپیلوں کو یکجا کرکے سماعت کریں گے۔
واضح رہے کہ خصوصی مکوکا عدالت کے جج وائی ڈی شندے نے ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچ ملزمین احتشام قطب الدین صدیقی، کمال انصاری، فیصل عطاء الرحمن شیخ، آصف بشیر اور نوید حسین کو پھانسی اور 7/ ملزمین محمد علی شیخ، سہیل شیخ، ضمیر لطیف الرحمن، ڈاکٹر تنویر، مزمل عطاء الرحمن شیخ،ماجد شفیع، ساجد مرغوب انصاری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جب کہ ایک ملزم عبدالواحید دین محمد کو باعزت بری کردیا تھا۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS