عزاداری کے جلوس میں آزادی کے گیت گانے سے متعلق معاملہ درج، دو عزادار گرفتار،مزید گرفتاریاں متوقع

    0
    9

    سرینگر: صریرخالد ایس این بی
    عزاداری کے ایک جلوس میں آزادی کے گیت گانے کی پاداش میں پولس نے کم از کم دو عزاداروں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ معاملے کی گہرائی کے ساتھ تحقیقات جاری ہے اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔یہ گرفتاریاں ایک ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عمل میں آئی ہیں۔
    جموں کشمیر پولس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سرینگر کے تھانہ پولس پارمپورہ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے ویڈٰو کی تحقیقات کی اور پایا کہ عزاداری کا یہ جلوس شہر کے مضافات میں ہوکر سر بنڈ کے قریب نکالا گیا تھا اور اس میں آزادی کے گیت گائے گئے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ پولس یہ جان کر سکتے میں آگئی تھی کہ جس علاقہ میں عزاداری کے جلوس میں آزادی کے گیت گائے گئے اور نعرے لگائے گئے ہیں وہاں اس سے قبل ایسی کسی سرگرمی کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ایک پولس ترجمان کے مطابق چونکہ ’’جائے واردات‘‘ علاقے کے مرکزی امام باڑہ سے بہت دور ہے لہٰذا یہاں کوئی ناکہ تھا اور نہ ہی جلوس کی نگرانی کیلئے پولس تعینات لہٰذا جلوس میں آزادی کے گیت گانے کی بروقت اطلاع نہ ملی۔تاہم پولس کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں شامل لوگوں کی شناخت کئے جانے کے بعد سجاد حسین پرے ولد محمد یوسف اور عارف احمد ڈار ولد محمد اکبر ساکنانِ گنڈ حسی بٹ کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اور ان سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ان دونوں عزاداروں کو انکے گھروں پر شبانہ چھاپوں کے دوران گرفتار کیا جا چکا ہے۔دونوں کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں (سے بچاؤ) کی کئی دفعات کے تحت باضابطہ معاملہ درج کیا گیا ہے۔
    دلچسپ ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ایک جلوسِ عزا کے شرکأ  کی جانب سے’’کشمیر کی آزادی‘‘کا ایک منفرد مرثیہ کلام پڑھے جانے کا منظر بے شمار لوگوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
    وادیٔ کشمیر میں کئی سال سے جلوس ہائے عزا پر پابندی عائد ہے تاہم جلوس نکالنے کی کوشش پر عزاداروں پر تشدد کے واقعات عام ہیں۔ البتہ یوں آزادی کے گیت گانے یا نعرے لگانے کی پاداش میں عزاداروں کی گرفتاری کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔