راجستھان میں کانگریس اوربی جے پی نے آگے کی منصوبہ بندی شروع کی

0
11

جے پو:راجستھان میں نائب وزیر اعلی سچن پائلٹ سمیت تین وزرا کو ہٹانے کے بعد کانگریس نے آگے کی حکمت عملی شروع کردی ہے،جب کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بھی متحرک ہوگئی ہے۔
 پائلٹ کو ہٹائے جانے کے بعد ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے کانگریس کے ممبران اسمبلی الگ رکھنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ارکان اسمبلی کے اتحاد پرنظررکھی جارہی ہے۔ پائلٹ کے حامیوں کی تعداد اورگہلوت کے حامیوں کی تعداد کےبارے میں بھی درست اعداد و شمارسامنے نہیں آئے ہیں۔لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ  گہلوت کے پاس اب بھی اکثریت ہے اور بی جے پی کے توڑ پھوڑ کا امکان بھی برقرار ہے۔
پائلٹ کی برطرفی کے بعد گہلوت نے تنظیمی سطح پرحکمت عملی پرعمل درآمد کیا ہے اورپائلٹ کےحامیوں کی برطرفی کےساتھ ایک نئی ریاستی ایگزیکٹو کی تشکیل پر کام شروع کردیا گیا ہے۔گہلوت کابینہ میں توسیع کے لئے حکمت عملی بھی تیار کررہے ہیں۔
پائلٹ نے برطرفی کے بعد ابھی تک کی حکمت عملی کا انکشاف نہیں کیا ہے اور بی جے پی میں شمولیت کے معاملے پران کے حامی ایم ایل اے میں اختلاف رائے کی بات بھی سامنے آئی ہے،اس کے باوجود بی جے پی متحرک ہوگئی ہے۔
دوسری جانب بی جے پی نے بھی آج ایک اہم میٹنگ طلب کی ہے۔اس میٹنگ میں قومی جنرل سکریٹری اوم پرکاش ماتھر،سابق وزیراعلی وسندھراراجے اور وی ستیش
سمیت متعدد عہدیدارشرکت کریں گے۔ میٹنگ میں ریاستی حکومت کے اقلیت میں آنے کے معاملے پر بھی غور کیا جائے گا۔بی جے پی لیڈروں نے کانگریس کے اراکین اسمبلی کو توڑنے کے وزیراعلی اشوک گہلوت کے الزام کی تردید کی۔