ہائی کورٹ نے اتراکھنڈ میں طبی سہولیات پر تشویش کا اظہار کیا

0
11

نینی تال: اتراکھنڈ کے دشورگذارپہاڑی علاقوں میں طبی سہولیات کی ناگفتہ بہ حالت کے سلسلےمیں ہائی کورٹ نے تشویش کا اظہار کرتے یوئے کہا کہ طبی سہولت بنیادی حق ہے اور حکومت کو طبی سہولیات مہیا کرانے کے معاملے میں ریاست میں توازن برقرار رکھنا پڑے گا۔
ہفتہ کے روز چیف جسٹس روی کمار ملیمتھ کی سربرائی والی بنچ نے شانتی پرساد بھٹ کی طرف سے دائرایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عرضی گزار کے وکیل کو طبی سہولت سے متعلق سوالنامہ تیار کر کے عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ عدالت حکومت کو مناسب ہدایات جار ی کر سکے ۔ عدالت نے اعتراف کیا کہ میدانی علاقوں کے بعد  پہاڑوں میں آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ آباد ہے اور ان علاقوں میں کم سے کم طبی سہولیات دستیاب ہونی چاہئے ۔ یہ عوام کا بنیادی حق ہے اورحکومت کو اسے دستیاب کرنا چاہئے ۔
اگرچہ کہ عدالت نے اعتراف کیا کہ ریاست کے سامنے  کئی چیلنجز موجود ہیں ، لیکن معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے عرضی گزار کے وکیل ابھے جئے نیگی کو طبی سہولیات کی دستیابی اور اس کے معیار کے ساتھ ساتھ اسپتالوں کے معیارات سے متعلق تجاویز کے تعلق سے ایک سوالنامہ تیار کر عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ اس معاملے پر اگلی سماعت منگل 6 اکتوبر کو ہوگی۔