جو مسلم رجمنٹ ہندوستانی فوج میں کبھی تھی ہی نہیں،اس کے ہتھیار ڈالنے کے فرضی دعوی کئے جارہے ہیں

0
15

نئی دہلی :سوشل میڈیا پر،اس دعوے کو اندھا دھند شیئر کیا جارہا ہے کہ ہندوستان کی مسلم رجمنٹ نے پاکستان کے ساتھ جنگ لڑنے
سے انکار کردیا ہے۔ وائرل میئسج میں صارفین IAS،IPS کے عہدے پر منتخب ہونے والے مسلم افسران کی وفاداری کے بارے
میں بھی شکوک و شبہات پیدا کررہے ہیں۔ ٹویٹر ہینڈل '@ فینس یاتی'نے 15 ستمبر کو یہ دعوی کیا ہے۔ اس مضمون کے لکھے
جانے  تک ،اسے 2،400 بار لائک کیا گیا ہے اور 998 بار ریٹویٹ کیا گیا ہے۔
یہ دعوی ٹویٹر اور فیس بک دونوں پر وائرل ہوا ہے۔ اس طرح کا دعوی ویڈیو کے ذریعہ بھی کیا جا رہا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ یہ دعویٰ
2017 سے کیا جا رہا ہے۔ اکتوبر 2017 کے ایک ٹویٹ میں بی جے پی کے قومی میڈیا پینلسٹ یشویر راگھو نے بھی یہی دعوی کیا
تھا۔
فیکٹ چیک کی ورڈس سرچ کرنے پر،ہمیں 22 جون 2020 کی تاریخ میں اے بی پی نیوز کی ایک رپورٹ میں ہندوستانی فوج کی تمام
رجمنٹ کی فہرست مل گئی۔ اس فہرست میں کہیں بھی مسلم رجمنٹ کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ، 15 جولائی 2020 کی، ’
جاگرن جوش‘کی ایک رپورٹ میں، ہندوستانی فوج کی ذات پات پر مبنی رجمنٹ کی فہرست بھی شامل ہے۔ اس رپورٹ میں کہیں بھی
مسلم رجمنٹ کا ذکر نہیں ہے۔
30 نومبر 2017 کی ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہندوستانی فوج میں کبھی بھی مسلم رجمنٹ نہیں تھی۔ یہ
رپورٹ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)سید عطا حسنین نے لکھی ہے۔
بی بی سی نے حال ہی میں اس دعوے پر ایک فیکٹ چیک شائع کیا تھا۔ اس میں میجر جنرل(ریٹائرڈ)ششی استھانا کے حوالے سے بتایا  
گیا ہے کہ ، ’فوج میں کبھی بھی مسلم رجمنٹ نام کی کوئی بھی رجمنٹ نہیں تھی۔ ذات اور نسل پر منحصر ، رجمنٹ یا تو برطانوی دور
میں تشکیل دی گئیں یا ، یہ وہ فوجیں تھیں جو جموں و کشمیر لائٹ انفنٹری رجمنٹ جیسی شاہی فوج کے طور پر کام کرتی تھیں۔ یہ
رجمنٹ جموں و کشمیر ریاست کی ایک فوج تھی۔ "
رپورٹ میں شامل لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)سید عطا حسنین کے بیان کے مطابق ، "یہ ایک پروپیگنڈا ہے اور ہندوستانی فوج کے پاس
گذشتہ 200 سالوں سے کبھی بھی کوئی مسلم رجمنٹ نہیں تھی۔" برٹش انڈین آرمی میں سکھ ، پنجاب ، گڑھوال جیسی رجمنٹ کے
علاوہ ، بلوچ اور فرنٹیئر فورس رجمنٹ بھی تھے ، تقسیم کے بعد بلوچ اور فرنٹیئر رجمنٹ پاکستان میں منتقل ہوگئی اور پنجاب رجمنٹ
پاکستان میں بھی ہے اور ہندوستان میں بھی۔
بی بی سی کے اس مضمون میں سال 1965 میں پاکستان کے خلاف جنگ کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے – "1965 کے ہندو
ستان اور   پاکستان جنگ میں جس فرضی مسلم رجمنٹ کے  ہتھیار ڈالنے کی افواہیں اڑائی جارہی ہیں۔ اسی جنگ میں شہید عبد الحمید نے
پاکستان کے چار سے زیادہ ٹینکوں کو تباہ و برباد  کردیا تھا اور اس کے بعد ملک کے اعلی فوجی ایوارڈ ’پرم ویر چکرکے اعزاز سے
نوازا گیا۔ "
ان رپورٹس کو پڑھنے پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہندوستانی فوج میں کبھی بھی مسلم رجمنٹ نہیں تھی۔ آج کے دور میں ذات پات
کے ناموں والی رجمنت بہت پہلے وجود میں آئی تھی اور آزادی کے بعد بھی ان کا نام تبدیل نہیں کیا گیا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے
کہ جاٹ رجمنٹ میں صرف جاٹوں کی بھرتی ہوتی ہے اور راجپوت رجمنٹ میں صرف راجپوتوں کی۔ تمام رجمنٹ میں سبھی ذات اور
مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ ان فوجیوں کے مذہب یا ذات کا ان کی رجمنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ  ، آلٹ نیوز نے میجر نویدیپ سے بات کی۔ انہوں نے بتایا ، “ہندوستانی فوج میں کبھی بھی کوئی مسلم رجمنٹ نہیں تھی۔
ہندوستانی فوج ایک غیر منطقی ، سیکولر فوج ہے جہاں تمام فوجی ایک قومی پرچم کے لئے مل کر جیتے اور لڑتے ہیں۔ "
اس غلط دعوے کے پیچھے کیا ہے؟
قابل غور بات یہ ہے کہ اس دعوے کے پہلے حصے میں ، ایک من گھڑت کہانی بنائی گئی تھی جس میں مسلم رجمنٹ کی بات کہی گئی
جنہوں نے مبینہ طور پر ہتھیار ڈال دئے تھے۔ دعوے کے دوسرے حصے میں ، معاملہ فوج سے اتر کر براہ راست آئی اے ایس ، ئی
پی ایس پر آگئی ۔یہ کام بہت ہی چالاکی سے کیا گیا ہے ،جو ’سودرشن نیوز‘نام کا چینل مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ سودرشن نیوز نے
ماضی میں ایک سلسلہ شروع کیا تھا ، جو پوری طرح سے فرقہ واریت کی آگ میں ڈوبا ہوا تھا ۔ اس سیریز کے ذریعے ،یہ بتانے کی
کوشش کی گئی کہ کس طرح مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد ملک میں بڑے سرکاری عہدوں پر بڑی تعداد میں بیٹھنا چاہتے
ہیں اور اس طرح سے'یو پی ایس سی'جہاد کو انجام دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ الٹ نیوز نے اس سیریز کے پہلے ایپیسوڈ میں
غلط معلومات اور گمراہ کن دعوؤں کی بنیاد پر تیار کئے نریٹو پر فیکٹ چیک رپورٹ شائع کی تھی۔
سودرشن چینل کے اس سیریز پر فی الحال پابندی عائد ہے اور اسے ٹی وی پر دکھایا جائے گا یا نہیں ، یہ معاملہ عدالت میں ہے۔
اس طرح سے ، ہندوستانی فوج میں کبھی بھی کوئی مسلم رجمنٹ تھی ہی نہیں ۔ سوشل میڈیا پر مسلم رجمنٹ کو بند کرنے کا دعوی بالکل
غلط ہے۔ یہ دعوی گزشتہ کئی سالوں سے سوشل میڈیا پر چل رہا ہے۔