فیکٹ چیک: نئے زرعی بل آتے ہی ریلائنس بیچنے لگا ’جیو گیہوں‘؟

0
12

نئی دہلی :زراعت کے شعبے میں پراویٹائزیشن کو فروغ دینے والے زرعی قوان کے خلاف ہورہے کسان تحریک سے جڑی ایک
غلط  اطلاع لوگوں تک پہنچ رہی ہے ۔ لوگ ‘جیو(Jio)گیہوں’کی تصویر شیئر کرہے ہیں۔ جیو ریلنس انڈسٹریز لمیٹڈ (آر آئی
ایل)کی ایک کمپنی ہے۔
فِیس بوک پیج راہل گاندھی فرینڈس کلب ڈیلی  نے کچھ فوٹو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ یہ قانون کچھ نجی کمپنیوں کے فائدے کے
لئے بنائے گئے ہیں۔  تصویر کے ساتھ کیپشن ہے،”قانون بعد میں بنے ہیں اور تھیلی پہلے یہ تصویر بہت کچھ کہہ رہی ہے۔ اب تو
سمجھ جائو۔۔۔ ”اس پوسٹ کوں 6،000 سے زیادہ لوگوں نے شیئر کر چکے ہیں۔
ٹویٹر یوزر  Shazi__786@ نے اسی طرح کی ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ، "بازار میں جیو گیہوں بھی آگیا ہے،  
انقریب وہ ہی پورے ملک پر قبضہ کر لیگا اور ہم اس کے غلام بن جائنگے ۔ اگرہم aware نہیں ہوئے تو دانے دانے کو محتاج ہو
جائنگے۔ ابھی کسانوں کےساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ "
 کئی فیس بک اور ٹویٹر یوزرز نے تصویر کے ساتھ ہندی اورانگریزی میں’جیو گیہوں‘کیپشن دیتے ہو اس کو شیئرکیا ۔ آلٹ نیوزکو
اس کے  فیکٹ چیک کے لئے کچھ لوگوں نے واٹسائپ نمبر (917600011160)اور آفسیل اینڈورائڈ ایپ پر ریکوسٹ بھی
بھیجی۔
فیکٹ چیک :RIL  کی ویب سائٹ پر جیو پلیٹ فارمزلمیٹڈ (Jio)کے ویزن اسٹیشنمنٹ (کسی کمپنی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے)
میں لکھا گیا ہے کے کمپنی کا مقصد،ہندوستان کو ڈیجیٹل کرانتی کے ذریعہ سے تبدیل کرنا ہے‘۔ کمپنی کسی زرعی فیلڈ سے نہیں
جڑی ہے۔
ہم گوگل پر کیورڈ پر سرچ کیا اور لینکس حاصل ہوئے:
1) گلابی پیکٹ کے ساتھ جیو گہیوں کی پیداوار سورت کی رادھا کرشن ٹریڈنگ کمپنی کرتی ہے جس کا ریلائنس انڈسٹریز کے ساتھ
کوئی تعئق نہیں ہے۔ یہ B2B ای-کامرس ویب سائٹ اڑان میں واقع ہے۔ آلٹ نیوز نے اس کمپنی کے Founder بھرت بھائی
جاجیرا سے بات کی۔ انہوں نے کہا، "ہم RIL سے نہیں جڑے ہیں۔ میں کئی کرانے کی دکانوں پر سامان کی پہنچاتا ہوں۔ میں آپ
کو بتاتا ہو ’جیو گیہوں‘نام کیوں رکھا گیا۔ جیسے ہی تھوک کاروباریوں کے پاس گیہوں پہنچاتا ہے،وہ ایسے ایسی
Attractive ناموں والے  پیکٹ میں بھرتے ہیں ۔ جنہیں صارف آسانی سے پہچانتے ہیں ایسے ہی جب’باہوبلی‘فِلم آئی تھی
تب پر باہو بلی لکھا تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ’باہوبلی‘کے ڈایئکٹر نے گیہوں اگایا تھا‘۔ 
بات چیت کے دوران بھرت بھائی نے اور بھی بارنڈس کے نام بتائیں جو مشہور چیزوں سے جڑی ہے جیسے ۔باجی رائو مستانی ‘  
کے ریلیز کے بعد مستی آٹا،بیلاکبیری،ایپلل،مودی اور ٹرپپ۔ الٹ نیوز نے بھی انڈیا مارٹ کی ویب سائٹ پر مودی اور ٹرمپ کا لنک
پایا۔ انڈیا ٹوڈے نے اس کا فیکٹ چیک کیا تھا۔
2) جیو فرش برانڈ کا آٹا امیزن کی ویب سائٹ پر واقعہ ہے۔ یہ پروڈکٹ اب دستیاب نہیں ہے۔ لیکن،جیو فریش کا گڑ اب بھی دیکھا
جا سکتا ہے اور پیداوار ڈیٹیلس کے مطابق انہیں آندھرا پردیش کی کمپنی کوسوالا ایگری پروڈکشن بناتی ہے۔ دکھایا جاسکتا ہے اور اس
کی مصنوعات کی دریافت کا واقعہ بھی اس اشارے سے ملتا ہے۔
3) ہمیں کمپنیوں کی انسائٹ دینے والی ویب سائٹZauba Corp پر بھی جیو فوڈس LLP اطلاع ملی جس کے پانچ  
ڈائریکٹروں میں سے ایک کا نام ’درشنا بھوپندر امبانی‘ہے۔ انڈیا مارٹ پر ہاؤس آف بھائیشنکرس فوڈس پرائیوٹ لمیٹڈ جیو فوڈس LLP
کے تحت ہونے والے واقعات ہیں۔ لیکن ہمیں انڈیا مارٹ پر وائرل تصویرمیں نظر آرہا’جیو گہیوں‘نہیں ملا۔
انڈیا مارٹ پر پروڈکٹ کے GST نمبر کی مدد سے ہم نے معلوم کیا کہ جیو فوڈس LLP ممبئی کی کمپنی ہے جس سے 2017
میں رجسٹرڈ کیا گیا تھا اس کا  GST رجسٹریشن 5 فروری، 2019 کو منسوخ کردیا گیا۔
4) 2018 میں ایک یوٹیوببرنے جیو گہیوں پر مزکیا ویڈیو بنایا تھا۔ دوسرے اور تیسرے پانٹس کی بنیاد پر ہم یہ جان سکتے ہیں کہ
جیو آٹا اگر ہے بھی تو ہو حال میں نہیں شروع کیا گیا ہے۔
لیکن ، ریلینس انڈسٹریز کی جیو مارٹ کے نام سے ای کامرس وینچر ضرور ہے جو الگ الگ برانڈس کی مصنوعات کو فروخت کرتے
ہیں ۔
الٹ نیوز نے ای میل کی ذریعہ ریلنس کے اسپوک پرسن سے رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ، "گہیوں کے پیکٹ RIL کی
پیداوار نہیں ےہے کیوں کہ ہم کھاد صنعت میں نہیں ہیں۔ جیو مارٹ ایک آن لائن گروسری اسٹور ہے جو پروڈکٹس کو خود تیار نہیں
کرتا۔۔ لہذا جیو گینہو ں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں یہ تصدیق سے آپ کو بتا سکتا ہوں کہ درشن بھوپندر امبانی کسی بھی RIL  
پروموٹر کمپنی کا حصہ نہیں ہے۔ "ہندوستان میں کافی وقت سےرہنے والوں کو معلوم ہوگا کہ یہاں ڈپلیکٹس پروڈکٹ کا بازر کا کتنا
بڑا ہے ۔ اتنا کہ اس کے بارے میں دی اکانومک ٹائمز (ET)،انڈیا ٹی وی،اور اسکوپپپ بھی رپورٹ کرچکے ہیں۔ ET نے فرضی
پروڈکٹ کے بازار کی وجہ بتایا ہے ۔"لوگ فیک پروڈکٹ خریدتے ہیں کیونکہ وہ  منرضی کے لگزری سامان مہنگے داموں پر
خریداری نہیں کرتے ہیں۔ لیکن فرانسس یا اٹلی کی طرح ہمارے یہاں نقلی پروڈکٹ کو خریدنے پر سزا کا کوئی عمل نہیں ہے اس
لئے صارف آسانی سے بچ جاتا ہے۔ "
یعنی ،’جیو گینہوں‘کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لوگوں نے دعوی کیا کہ ریلائنس اب زرعی فیلڈ میں بھی شامل ہوچکی ہے، یہ
دعوی غلط ہے۔ حال میں میں الٹ نیوز نے ایک ایسے ہی دعوی کے بارے میںسچائی بتائی تھی جب ٹرین انجن پر فارچیون فریش آٹے
کے اشتہارات شیئر کرتے ہوئے لوگوں نے کہا تھا کہ اڈانی نے ہندوستانی ریلوے کو بھی خرید لیا ہے۔