این ڈی اے میں انتشار

0

 مرکزمیں حکمراں قومی جمہوری اتحاد( این ڈی اے)سے ایک اور پارٹی الگ ہوگئی اور مودی سرکار سے حمایت واپس لے لی۔ اگرچہ اس علیحدگی کا سرکار اوراتحاد پر کوئی اثر نہیں پڑالیکن کنبہ میں یہ انتشار اسی طرح جاری رہا اوراتحادی پارٹیاں این ڈی اے سے رشتہ توڑتی رہیں تو سیاست میں اس کا منفی پیغام جائے گا اورمستقبل میں بی جے پی کے لئے پریشانیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ یہ معمولی بات نہیں کہ پچھلے 4مہینوں میں 4پارٹیاں این ڈی اے سے علیحدگی اختیار کرچکی ہیں اورپچھلے 6سال میں 2014سے جب مودی سرکار پہلی بار بنی تھی، اب تک 19پارٹیاں این ڈی اے کو خیرباد کہہ چکی ہیں ۔ چونکہ لوک سبھا میں بی جے پی کو اپنے بل بوتے پر اکثریت حاصل ہے، اس لئے پارٹی اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے،لیکن اگر یہی حال رہا تو ہرپارٹی یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے گی کہ یا تو این ڈی اے کے اندرونی حالات صحیح نہیں ہیںیا اس میں اتحاد کا دھرم نہیں نبھایا جاتا ، کچھ نہیں تو پارٹیاں یہ سوچنے لگیں گی کہ بی جے پی علاقائی پارٹیوں سے اتحاد کرکے خود فائدہ اٹھاتی ہے اوران کو نقصان پہنچاتی ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو ’آیارام گیارام ‘ والی سیاست الیکشن میں تو چل سکتی ہے حکومت میں نہیں۔ سرکار میں شامل ہر پارٹی اپنا فائدہ دیکھتی ہے اورسب کے ساتھ تال میل کرکے اورسب کی مجبوریوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کئے جاتے ہیں ۔ اگر سرکار میں شامل کسی پارٹی کو کسی فیصلہ یا اقدام سے نقصان ہورہا ہے یا وہ اس میں اپنا نقصان دیکھ رہی ہے تو وہ ساتھ نہیں رہ سکتی ۔ بی جے پی اوراین ڈی اے کے ساتھ یہی ہورہا ہے ۔
ملک میں موضوع بحث زرعی قوانین پر 2پارٹیوں نے این ڈی اے سے علیحدگی اختیار کرلی۔ سب سے پہلے ستمبر میں پارلیمنٹ میں زرعی بلوں کی منظوری کے وقت بی جے پی کی سب سے پرانی اتحادی پارٹی شرومنی اکالی دل نے سرکار اوراین ڈی اے سے علیحدگی اختیار کی تھی اورمرکزی وزیرہرسمرت کور نے استعفیٰ دیا تھا۔ اب راجستھان سے بی جے پی کی دوسری حلیف پارٹی راشٹریہ لوک تانترک پارٹی کے کنوینر اور ممبر پارلیمنٹ ہنومان پرساد بینی وال نے کسان تحریک کی حمایت کرتے ہوئے 3 پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفیٰ کے ساتھ این ڈی اے سے بھی علیحدگی کا اعلان کردیا۔ یعنی صرف کسانوں کی حمایت میں 2پارٹیاںاین ڈی اے سے علیحدہ ہوگئیں ۔جبکہ اکتوبر میں وہ کیرالہ جہاں بی جے پی اپنے قدم جمانے کے لئے کوشاں ہے ، وہاں پی سی تھامس کی قیادت والی کیرالہ کانگریس نے این ڈی اے سے ناطہ توڑ لیا تھا۔ رواں ماہ دسمبر میں آسام میں جہاں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، بوڈولینڈ پیپلز فرنٹ نے این ڈی اے چھوڑدیا۔ان کے علاوہ امسال گورکھا مکتی مورچہ نے این ڈی اے چھوڑکر ترنمول کانگریس کے ساتھ اتحاد کرلیا۔ اگر این ڈی اے کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو 1998کے پارلیمانی انتخابات میں اٹل بہاری باجپئی کی قیادت میں بنے اس اتحاد میں پارٹیوں کی تعداد 14تھی جو 1999کے الیکشن میں 17،2004کے الیکشن میں 12،2009کے الیکشن میں 10،پھر 2014 کے الیکشن میں 24،اور2019کے الیکشن میں 21ہوگئی تھی لیکن اب گھٹ کر صرف 13 پارٹیاں رہ گئی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کنبہ بڑھنے کے بجائے اب سکڑرہا ہے ۔
وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں جتنی تیزی سے کنبہ بڑھا تھا اتنی ہی تیزی سے سکڑرہا ہے۔مودی سرکار میں مذکورہ پارٹیوں کے این ڈی اے چھوڑنے کے علاوہ تملناڈو کی ایم ڈی ایم کے ، ڈی ایم ڈی کے، کیرالہ کی ریوولیوشنری سوشلسٹ پارٹی، مہاراشٹر کی شیوسینااور سوامی بھان پکش، آندھرا پردیش کی تلگودیشم،بہار کی آرایل ایس پی اورلوک جن شکتی پارٹی، اترپردیش کی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی اورجموں وکشمیر کی پی ڈی پی نے این ڈی اے کو الوداع کہہ دیا ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ این ڈی اے کا کنبہ بڑھنے کی وجہ سے ہی بی جے پی مرکزی اقتدار میں آئی ، اب اگر کنبہ چھوٹا ہورہا ہے اور علاقائی پارٹیاں سرکار سے ناراض ہوکر الگ ہورہی ہیں تو اس کا نقصان بی جے پی کو پہنچ سکتا ہے۔ علاقائی پارٹیاں اگرچہ چھوٹی ہوتی ہیں لیکن وہ مخصوص علاقے اورریاست میں اثر رکھتی ہیں۔ ان کو کھونے کا مطلب عوام کی حمایت سے محروم ہونا۔ غرضیکہ این ڈی اے میں انتشاردیر سویر بی جے پی پر بھاری پڑسکتا ہے۔
[email protected]
 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS