جوبائیڈن سے وابستہ امیدیں

0
8

 اب سے چند گھنٹوں بعدجوبائیڈن ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے 46ویں صدر کے عہدہ کا حلف اٹھائیں گے۔ان کے ساتھ ہند نژاد کملا ہیرس بھی نائب صدر کے عہدہ جلیلہ پر متمکن ہونے والی امریکہ کی پہلی خاتون کا اعزازحاصل کرلیں گی۔ امریکہ کی تاریخ میںپہلی بارکسی صدر کی تقریب حلف برداری سنگینوں کے سائے میں ہورہی ہے۔پورے شہر میں آئندہ24جنوری تک ایمرجنسی نافذ ہے اور سیکورٹی کے بے نظیر اقدامات کیے گئے ہیں۔ کہاجارہاہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں اس وقت جتنے فوجی اکٹھے ہیں اتنے تو افغانستان میں بھی نہیں ہیں اور ان فوجی دستوں کا کام امریکی عوام کو صدر سے تحفظ دلانا ہے۔ اس وقت امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں25ہزار نیشنل گارڈزشہر کے مختلف مقامات کی حفاظت کیلئے تعینات کیے گئے ہیں تاکہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ڈونالڈٹرمپ کے حامی 6جنوری کے واقعہ کا اعادہ نہ کرپائیں۔ امریکہ میں جوبائیڈن کی قیادت میں حکومت بنانے والی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے رکن سیتھ مولٹن نے ہی ٹوئٹ کرکے پوری دنیا کو اس صورتحال سے آگاہ کرایا ہے۔ سیتھ مولٹن نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ اس وقت واشنگٹن ڈی سی میں جتنے فوجی ہیں، اتنے تو افغانستان میں بھی نہیں ہیں اور یہ یہاں ہمیں صدر سے تحفظ دلانے کیلئے ہیں۔ ایک ایسی قوم جس نے خود ہی اپنے آپ کو زمینی خدا کے منصب پر فائز کر کے سارے عالم کا ناطقہ بند کررکھا ہو، وہاں ایک رخصت پذیر صدر کے خبث باطن سے حکمرانوں اور عوام کو محفوظ رہنے کیلئے فوج کا سہارا لینا پڑرہاہو تو صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔
ہرچند کہ ڈونالڈٹرمپ نے اپنے الوداعی خطاب میں کوئی ایسا عندیہ نہیں دیا ہے۔ اس کے برعکس انہوں نے نئی جوبائیڈن انتظامیہ کو تہنیتی پیغام دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔   اپنے19منٹ کے الوادعی خطاب میں ٹرمپ اپنے 4سالہ دور حکمرانی کو امریکہ کا کامیاب ترین دور بتاتے ہوئے طالب داد ہوئے اور ساتھ ہی اپنی قوم کی تہذیب، صلح جوئی، وفاداری اور امن دوستی کا بھی راگ الاپا۔کیپٹل ہل کی عمارت پر کمند زنی کرنے والوں سے پہلو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اس واقعہ پر ٹرمپ نے مذمتی کلمات بھی کہے۔
تاہم ٹرمپ کی متلون مزاجی سے امریکی قوم متحوش ہے اوراب تک وہ 6جنوری کے واقعہ کے ٹرانس سے باہر نہیں نکل پائی ہے۔ اسے خوف ہے کہ بغاوت کی کوئی دوسری لہر اس تقریب حلف برداری کی خوشی کو تہہ و بالا نہ کردے۔لیکن جس طرح پوری دنیا نے ڈونالڈٹرمپ کی گوش مالی کرتے ہوئے انہیں تنقید کانشانہ بنایا ہے، اس سے نہیں لگتا ہے کہ وہ ایسا کوئی قدم اٹھائیں گے جو ان کی روسیاہی میں مزید اضافہ کا باعث بنے۔
بہرحال امید ہے کہ کل کا سورج دنیا کی قدیم ترین جمہوریت میں نئے تاریخی دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ نئے صدر جوبائیڈن، ڈونالڈ ٹرمپ کی ’ امریکہ فرسٹ ‘ اور اس جیسی دیگر جارحانہ پالیسیوں اور امریکی قوم کیلئے دنیابھر میں بے توقیر ی کاسامان کرنے والی ’ٹرمپ پالیسی ‘پر نظرثانی کریں گے۔اگر بائیڈن نے ٹرمپ کی متنازع خارجہ پالیسی کو واپس لے کرنئی متوازن پالیسی پر عمل کیا تو اس سے عالمی برادری میں دنیا کی اس اکلوتی سپرپاورکااخلاقی وقار بھی بحال ہوگا۔ یہ درست ہے کہ امریکہ کی اقتصادی اور عسکری قوت کوکسی چیلنج کا سامنا نہیں ہے لیکن کورونا وبا اوراس سے بھی پہلے سے جاری معاشی سست روی نے آج سرمایہ دارانہ نظام کو دیمک زدہ بنادیا ہے۔ سماجی اور معاشرتی عدم استحکام بھی دنیا کی معیشت پر بوند بوند ٹپکنے والے زہر کی طرح اثر کررہا ہے۔ایسے میں امریکہ کو اپنی اقتصادی قوت برقراررکھنے کیلئے عالمی معیشت سے ہم آہنگ پالیسی بھی اختیار کرنی ہوگی اور اس کیلئے چین سے جاری اس کی تجارتی جنگ نظرثانی کی متقاضی ہے۔ہندوستان کے حوالے سے بھی امریکہ کو اپنی تجارتی پالیسی پر غور کرنا ہوگا۔درآمد کی جانے والی بعض اشیا پر لگائے جانے والے ناروامحصولات میں کمی ہند-امریکہ تجارتی تعلقات میں خوشگوارتبدیلی لاسکتی ہے۔ہند-چین سرحدی تنازع میںحقیقی کنٹرول لائن پر ہندوستان کی موجودہ صورتحال کی حمایت بھی ہند- امریکہ تعلقات کو فروغ دینے میں ممد بنے گی۔ جس طرح جوبائیڈن نے اپنی ٹیم میں20ہند نژاد افراد کوشامل کیا ہے، اس سے امید بندھتی ہے کہ بائیڈن دور میں بھی ہند-امریکہ دوستی میں کوئی سدراہ نہیں ہوگا۔
edit2sahara@gmail.com