کووِڈ19-: وادیٔ کشمیر میں دوبارہ لاک ڈاون کے نفاذ کی تیاریاں، حتمی فیصلہ کسی بھی وقت متوقع

    0
    11

    سرینگر: صریرخالد،ایس این بی
    وادیٔ کشمیر میں کووِڈ19- کے معاملات اور اس مہلک بیماری کے بہانے مرنے والوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ نے یہاں دوبارہ خوف و حراس کی لہر دوڑا دی ہے جسے دیکھتے ہوئے سرکاری انتظامیہ دوبارہ تالہ بندی (لاک ڈاون) کرنے پر غور کر رہی ہے۔کشمیر کے ڈویژنل کمشنر پی کے پول نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوبارہ تالہ بندی کے نفاذ کا سرکار سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اس دوران یہاں کے تاجروں کی معتبر تنظیموں نے بھی دوبارہ تالہ بندی کرائے جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کووِڈ19- نے خوفناک رُخ اختیار کیا ہوا ہے۔
    ایک مقامی خبر رساں ادارے کے مطابق اسکے ساتھ ایک خصوصی بات چیت کے دوران ڈویژنل کمشنر پی کے پول نے انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر،نیم طبی عملہ،سماج کے کئی دیگر طبقہ جات اور یہاں تک کہ کچھ تاجر تک دوبارہ تالہ بندی کرائے جانے کی تجویز دے رہے ہیں بلکہ مطالبہ کر رہے ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ’’کامپیٹنٹ اتھارٹی‘‘ یعنی ایسے فیصلے لینے کے مجاذ حکام ہی کوئی فیصلہ لے سکتے ہیں۔ڈویژنل کمشنر نے مزید کہا ہے کہ ابھی تک سرکار کی جانب سے کوئی فیصؒہ تو نہیں لیا گیا ہے تاہم سماج کے مختلف طبقہ جات کی جانب سے آرہی تجاویز اور مطالبات پر سرکار غور کرے گی۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈویژنل کمشنر کے دفتر نے لیفٹننٹ گورنر جی سی مرموکو اس بارے میں آگاہ کیا ہے اور ان تک مذکورہ بالا تجاویز اور مطالبات پہنچائے گئے ہیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ جی سی مرمو جلد ہی اس بارے میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ بلا سکتے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ سرینگر میں کووِڈ19- کی صورتحال سے نپٹ رہے ڈاکٹروں نے سرکاری انتظامیہ کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ احتیاط نہ برتے جانے کی صورت میں چیزیں بے قابو ہو سکتی ہیں لہٰذا دوبارہ تالہ بندی کا نفاذ عمل میں لاکر لوگوں کو انکے گھروں تک محدود کردیا جانا چاہیئے۔
    ڈاکٹروں کی ایک تنظیم ڈاکٹرس ایسوسی ایشن آف کشمیر کے صدر اور سرکردہ معالج ڈاکٹر نسار الحسن کا کہنا ہے کہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور زندگیاں بچانے کیلئے سخت فیصلے لئے جانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جس رفتار کے ساتھ کووِڈ19- کی بیماری پھیل رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے مکمل تالہ بندی کا نفاذ ناگزیر بن گیا ہے۔
    قابلِ ذکر ہے کہ گذشتہ ماہ تالہ بندی ہٹالئے جانے کے بعد سے جموں کشمیر،باالخصوص وادیٔ کشمیر، میں کووِڈ19- کی مہلک بیماری کے پھیلاؤ کی رفتار تشویشناک حد تک تیز ہوگئی ہے جبکہ اس بیماری کے بہانے مرنے والوں کی تعداد میں بھی خوفناک اضافہ ہوتا جارہا ہے۔سنیچر کو سہ پہر تک کووِڈ19- کے بہانے ایک ہی دن میں مرنے والوں کی تعداد 10ہوگئی تھی جبکہ جموں کشمیر میں اس بیماری کے بہانے لقمۂ اجل بننے والوں کی مجموعی تعداد 170 تک پہنچ چکی ہے۔
    گو کووِڈ19- کے نمودار ہونے کی ابتداٗ میں انتہائی خوفزدہہونے کے بعد اب کشمیری عوام اس بیماری کے تئیں بڑے بے پرواہ ہوچکے تھے تاہم تالہ بندی ہٹالئے جانے کے بعد سے اس بیماری کے پھیلاؤ اور اس کے بہانے مرنے والوں کی تعداد بڑھنے سے لوگ دوبارہ خوفزدہ ہورہے ہیں۔ محمد عارف نامی ایک انجینئر نے بتایا ’’حالات انتہائی خراب ہیں،میرے خیال میں لاک ڈاون ختم کرنے کا فیصلہ غلط تھا اور سرکار کو اس غلطی کو جلد سدھارنا ہوگا۔اس بات میں شک نہیں ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں لیکن زندگی سب سے اوپر ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ہے‘‘۔ بشیر احمد نامی ایک اور شخص نے بھی تالہ بندی کے دوبارہ نفاذ کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی بحال کی جاچکیں سیاحتی سرگرمیوں کو فوری طور بند کردیا جانا چاہیئے اور لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنے کیلئے کوئی بھی سخت اقدام کرنے سے ہچکچایا نہیں جانا چاہیئے۔
    اس صورتحال میں کشمیری تاجروں کی مختلف انجمنوں کے پلیٹ فارم کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچرس فیڈریشن نے بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ انسانی زندگیوں کو بچانے کے اقدامات کئے جانے چاہیئں۔فیڈریشن کے صدر یٰسین خان نے کہا’’آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ تاجروں کی حالت کیا ہے لیکن اسکے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ لاک ڈاون کا دوبارہ نفاذ ضروری ہے اور اگر سرکار نے ایسا فیصلہ لیا تو ہم اسکی مکمل حمائت کرینگے‘‘۔