!وادیٔ کشمیر میں برفانی سونامی،زمینی و ہوائی ٹرانسپورٹ سروسز ٹھپ

    0
    8

    سرینگر(صریر خالد،ایس این بی): وادیٔ کشمیر میں آج لگاتار تیسرے دن بھی شدید برفباری جاری رہی یہاں تک کہ سرینگر میں قریب آٹھ انچ اور بعض علاقوں میں ایک فُٹ یا اس سے بھی زیادہ تازہ برف جمع ہوگئی ہے۔سرینگر سمیت پوری وادی عملاَ برف کی موٹی تہہ کے نیچے دب گئی ہے جسکے نتیجے میں زمینی اور ہوائی ٹراسنپورٹ کی سروسز مسدود ہوکے رہ گئی ہیں۔
    مختلف علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اگرچہ ذمہ دار سرکاری محکموں نے اہم سڑکوں پر سے برف ہٹانے کا کام درِ دست لیا ہوا ہے تاہم کئی اندرونی سڑکیں ہنوز برف تلے دبی ہوئی ہیں اور لوگوں کا آنا جانا تقریباَ نا ممکن ہو گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی اور شمالی کشمیر کے کئی علاقوں میں جن اہم سڑکوں پر سے برف ہٹائی گئی تھی وہاں دوبارہ برف جمع ہوگئی ہے اور گاڑیوں کا چلنا مشکل ہو گیا ہے۔
    ایک سرکاری حاکم نے بتایا کہ سرینگر کے ہوائی اڈے پر کسی بھی جہاز کا بیٹھنا یا اڑنا ممکن نہیں ہو پایا ہے۔انہوں نے کہا کہ فضا میں دھند چھائے رہنے کی وجہ سے جہاز رانوں کیلئے اڑان بھرنا یا اترنا ممکن نہیں ہو سکا اور یوں ہزاروں مسافر درماندہ ہوگئے ہیں۔
    وادیٔ کشمیر کو جموں کے راستے بقیہ دنیا کے ساتھ ملانے والی واحد زمینی شاہراہ بھی شدید برفباری کی وجہ سے بند مسلسل بند پڑی ہوئی ہے۔ہائے ویز اتھارٹی آف انڈیا کے ایک افسر نے بتایا کہ جواہر ٹنل کے علاقہ میں تین فُٹ یا اس سے بھی زیادہ برف جمع ہوگئی ہے جسکی وجہ سے شاہراہ نا قابلِ استعمال ہے۔انہوں نے کہا کہ جواہر ٹنل کے دونوں اطراف میں بھاری برفباری ہوئی ہے اور لگاتار ہورہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شاہراہ پر لگ بھگ پانچ ہزار گاڑیاں درماندہ ہوئی ہیں ۔محکمہ ٹریفک کے ایک ڈٰ ایس پی نے بتایا کہ درماندہ گاڑیوں میں ایسے سینکڑوں ٹرک شامل ہیں کہ جن میں وادی کے مختلف علاقوں کو لیجائے جانے والی اشیائے ضروریہ کی سپلائی موجود ہے لیکن وہ چاہتے ہوئے بھی گاڑیوں کو آگے بڑھنے کی اجازت دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں ایک طرح سے برفانی سونامی آئی ہوئی ہے اور موسم میں خوشگوار تبدیلی آںے تک شاہراہ کے بحال ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے۔
    محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر سونم لوٹس کے ایک اسسٹنٹ نے بتایا کہ گئے چوبیس گھنٹوں میں سرینگر میں آٹھ انچ تازہ برف جمع ہوگئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ میدانی علاقوں میں بعض مقامات پر تین فُٹ کے لگ بھگ برف جمع ہوئی ہے۔محکمہ کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح تک مزید برفباری ہوسکتی ہے جسکے بعد موسم میں بہتری آںے کی توقع ہے۔
    واضح رہے کہ وادیٔ کشمیر میں ابھی سردی کا شدید ترین دورانیہ ،جسے مقامی طور چلۂ کلان کہتے ہیں،جاری ہے جو چالیس دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔امسال چلۂ کلان کے بیچ میں شدید برفباری ہوئی ہے اور چلۂ کلان میں درجۂ حرارت کے منفی کئی ڈگریوں تک گرنے کی وجہ سے ابھی گرنے والی برف مقابلتاََ دیر پا ثابت ہوتی ہے۔