کرونا وائرس کی وجہ سے کشمیر میں شادیوں کا سیزن شروع ہونے سے پہلے ہی ختم

    0
    8

    سرینگر: صریرخالد،ایس این بی
    کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے جاری صورتحال نے جہاں معمولاتِ زندگی کو پوری طرح تبدیل کیا ہوا ہے وہیں کشمیری سماج میں دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ شادیوں کا پورا سیزن تباہ ہوتے محسوس ہورہا ہے۔سینکڑوں بلکہ ہزاروں جوڑوں کی شادیاں یا تو منسوخ ہورہی ہیں یا پھر روایات کے برعکس انتہائی چُپ چاپ اور سادگی سے ہورہی ہیں … ایسے میں تاہم ان جوڑوں اور انکے والدین کے دیرینہ ارمان ہمیشہ کیلئے دب کے رہ جاتے ہیں۔
    نصیر احمد (یہ اصلی نام نہیں ہے) کی گذشتہ ہفتے شادی طے تھی ،یہ رشتہ انکی پسند کا تھا اور وہ اپنی معشوقہ کو دلہن بنکے انگے گھر آنے کیلئے اُتاولے ہورہے تھے لیکن کرونا وائرس اس فلم میں ویلن بن کے آیا اور نصیر کو نہ جانے کب تک تکلیف دہ انتظار کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ وہ کہتے ہیں ’’سچ پوچھیئے کہ میں واقعہ بڑا اُتاولا ہورہا تھا،ساری تیاریاں بہت پہلے ہوچکی تھیں لیکن حالات نے اجازت نہ دی‘‘۔انہوں نے کہا کہ شادی ملتوی ہوچکی ہے اور نئی تاریخ کرونا کے مکمل طور ختم ہونے کے بعد ہی طے ہوسکے گی۔ وہ کہتے ہیں ’’یہ سب بہت تکلیف دہ ہے لیکن کیا کیجئے گا، سب اللہ کے ہاتھ میں ہے‘‘۔ نصیر کے سپنوں کی شہزادی شازیہ (یہ بھی اصلی نام نہیں ہے) نے اس نامہ نگار کو فون پر بتایا کہ انہیں بڑا دھچکہ لگا ہے۔ انہوں نے کہا’’اللہ کو یہی منظور تھا لیکن ہاں یہ آپ کی زندگی کی سب سے اہم سرگرمی ہوتی ہے اور آپ بہت پُر جوش ہوتے ہیں،شادی منسوخ ہوجانے سے بہت بُرا لگا ہے لیکن شائد اللہ کو یہی منظور تھا‘‘۔
    غلام رسول ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں اور انکے دو بچے ہیں جن میں سے ایک کی کئی سال شادی ہوچکی ہے جبکہ دوسرے بچے کی شادی  25 اپریل کیلئے طے تھی لیکن اب غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی ہوچکی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں کشمیر کی شادی کافی ساری تیاریوں کا تقاضا کرتی ہے،ہم نے سبھی تیاری کی ہوئی تھیں یہاں تک کہ سبھی رشتہ داروں کو دعوت نامہ بھی پہنچایا گیا تھا لیکن اب ہم نے ان سبھی کو فون کرکے شادی ملتوی ہونے کی خبر دی ہے۔میں چاہتا تھا کہ بیٹے کی شادی کرکے فارغ ہوجاؤں لیکن اللہ کی مرضی کچھ اور تھی،کیا پتہ اب میں اسکی شادی ہوتے دیکھنے کیلئے زندہ بھی رہ پاؤں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں جب سبھی کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہ بدمزگی کے ماحول میں اپنے بیٹ؁ کی شادی نہیں رچاسکتے تھے۔ وہ کہتے ہیں ’’آخر دوست احباب کو جمع ہونا ہے ،دعوت کرنی ہے اور بہت ساری پارٹیاں ہونی ہے،جب سوشل ڈسٹنس کی ہدایات ہیں تو یہ سب کیسے ممکن ہوپاتا‘‘۔
    جنوبی کشمیر کے ایک دور دراز گاؤں لیور میں تاہم بشید احمد نامی ایک ریٹائرڈ بنکر نے اپنے بیٹے کی شادی انہی حالات کے بیچ کی۔انہوں نے کہا ’’دعوت سے زیادہ ضروری تھا نکاح کرنا سو ہم نے دعوت منسوخ کردی اور شادی رچائی،میں بیٹے کی دلہن کو لیکر آیا ہوں،یہ ایک مختصر تقریب تھی‘‘۔انہوں نے تاہم کہا کہ دوست احباب کی غیر موجودگی میں یہ سب بڑا بے مزہ تھا۔
    شمالی کشمیر کے بانڈٰی پورہ ضلع کے ایک دور افتادہ گاؤں کے فیاض احمد نے بتایا کہ انکی شادی طے تاریخ پر ہوئی لیکن انہیں اور انکے والدین کو ہمیشہ کیلئے یہ دکھ رہے گا کہ انہیں یہ شادی کسی دھوم دھام کے بغیر کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا ’’میری والدہ بیمار رہتی ہیں اور انکا ہاتھ بٹانے والا بھی کوئی نہیں تھا لہٰذا ہم نے گذشتہ سال ہی شادی کی تاریخ طے کردی تھی، ہم نے شادی کو مؤخر کرنے پر غور تو کیا تھا لیکن گھریلو حالات نے اجازت نہیں دی‘‘۔
    کشمیریوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ عمر بھر کی کمائی یا اپنے لئے شاندار مکان بنانے پر یا پھر اپنے بچوں کی دھوم دھام سے شادیاں کرانے پر صرف کرتے ہیں۔ یہاں کی شادیوں میں اس حد تک دھوم دھام ہوتا ہے کہ شادی والے گھر کئی دن پہلے رشتہ داروں کا جمع ہونا شروع ہوکر شادی کے کئی دن بعد تک جاری رہتا ہے جبکہ وازہ وان کے نام سے مشہور دعوت میں سینکڑوں لوگ شریک ہوتے ہیں اور یہ سب بہت تھکادینے والا شیڈول ہوتا ہے جس پر کئی کئی لاکھ خرچ ہوتے ہیں۔ چناچہ سرینگر اور اسکے آس پاس اپریل کے اواخر سے شادیوں کا سیزن شروع ہوتا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں سردی کے موسم کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ تب دیہی عوام کھیتی باڑی وغیرہ سے فارغ ہوگئے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ رشتہ جوڑنے کا کام کرنے والے ،جسے مقامی طور منزم یور کہتے ہیں، عبدالغنی کہتے ہیں ’’گذشتہ سال دفعہ 370 کی تنسیخ سے پیدا شدہ حالات نے اور اس سال کرونا وائرس نے سیزن ختم کردیا ہے۔ میری درمیانہ داری سے کئی شادیاں طے تھیں اور مجھے پارٹیز نے کہا ہے کہ تقریبات ملتوی کردی جائیں‘‘۔
    فاروق احمد نامی ایک قصائی کا کہنا ہے ’’ہمارا بہت زیادہ نقصان ہوا اپریل سے مئی تک نو شادیوں کیلئے  37 کوئیٹل گوشت فراہم کرنا تھا لیکن اب یہ ساری تقریبات ملتوی ہوچکی ہیں اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اب یہ تقریبات ہو بھی پائیں گی کہ یہ التوا لمبا ہوگا‘‘۔