راج پتھ پرہندوستان کی ثقافت اورفوجی طاقت کا شاندار مظاہرہ

0
11

نئی دہلی : 72ویں یوم جمہوریہ کی تقریبات منگل کو پورے ملک میں دھوم دھام سے منائی گئیں اور ہندوستان نے راج پتھ پر ایک مرتبہ پھر دنیا کے سامنے اپنی بہادری اور ثقافت کا مظاہرہ کیا۔یوم جمہوریہ کے موقع پر صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند، نائب صدرجمہوریہ وینکیا نائیڈو ، وزیر اعظم نریندر مودی ، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دیگر وزراء اور معززین نے یوم جمہوریہ کی مبارکباد پیش کی۔ یوم جمہوریہ پر ملک میں مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ اہم تقریب یہاں راج پتھ پر ہوئی، جس کی شروعات وزیراعظم نریندر مودی نے انڈیا گیٹ واقع قومی جنگی شہیدوں کی یادگار پر فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ یہاں شہیدوں کو گارڈ آف کمانڈر کے ذریعہ سلامی دی گئی اور ان کے احترام میں2 منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ خاموشی کے بعد ’راؤز‘ کی دھن بجائی گئی۔ اس دوران سروس اسکواڈ کی قیادت ہندوستانی فوج کے میجر وکاس سانگوان کررہے تھے۔ اس کے بعد وزیراعظم مودی اور دیگر معزز شخصیات نے سلامی کیلئے اسٹیج کا رخ کیا۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند 46سجے ہوئے گھڑسوار گارڈ کے ساتھ راج پتھ پر تشریف لائے، جہاں پر ان کا خیرمقدم وزیراعظم مودی نے کیا۔ صدر کے قافلے کی داہنی جانب رجمنٹ کے کمانڈنٹ کرنل انوپ تیواری اپنے گھوڑے ’وراٹ‘پر اور بائیں جانب اپنے گھوڑے ’وکرانت‘ پر رجمنٹ کے سیکنڈ ان کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل شاردل سبیکھی موجود تھے ۔ صدر کے آگے چلنے والی ٹکڑی کی قیادت رسالدار لکھویندر سنگھ نے کی، جبکہ پیچھے چل رہی ٹکڑی کی کمان رسالدار ہرپال سنگھ نے سنبھالی۔راج پتھ پر مسٹر کووند کو 223 فیلڈ رجمنٹ کی ٹکری نے سلامی دی۔ لیفٹیننٹ کرنل جتیندر سنگھ مہتا کی قیات میں صدر کو 21توپوں کی سلامی دی گئی۔ 72ویں یوم جمہوریہ کی پریڈ میں ہندوستانی فوج کے افسر میجر سوامی نندن نے پرچم لہرانے میں صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی مدد کی۔ اس کے بعد قومی ترانہ شروع ہوا۔
ہر سال یوم جمہوریہ کی تقریب میں کسی نہ کسی غیر ملکی قومی سربراہ کو مہمان خصوصی کے طور پر بلایا جاتا ہے، لیکن اس مرتبہ کووڈ وبا کے سبب تقریب میں کوئی غیر ملکی شخصیت مہمان خصوصی کے طور پر شامل نہیں ہوئی۔ حکومت نے برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کو اس بار چیف گیسٹ کے طور پر مدعو کیا تھا، لیکن برطانیہ میں کووڈ کے سبب پیدا ہوئی ابتر صورتحال کے پیش نظر انہوں نے آنے سے معذوری ظاہر کی۔قومی ترانے کے اختتام پر راشٹرپتی بھون کی جانب سے 155ہیلی کاپٹر یونٹ کے چار ایم-17وی-5ہیلی کاپٹر ’وائن گلاس‘ کی شکل میں پرواز کرتے ہوئے سلامی کے اسٹیج کی جانب آئے، جس کی قیادت ونگ کمانڈر نکھل مہروترا نے کی۔ ان کے پیچھے ایسٹرن پوزیشن میں ونگ کمانڈر مینک پالیوال بری فوج کا پرچم، ان کے بائیں جانب ونگ کمانڈر کنال بحریہ اور دائیں جانب اور سلامی کے اسٹیج کی جانب ونگ کمانڈر ڈبرال نے ہندوستانی فوج کا پرچم لہرارہے ہیلی کاپٹر سے پھولوں کی پنکھڑیاں برساتے ہوئے ناظرین کا خیرمقدم کیا۔یوم جمہوریہ کے موقع پر حفاظت کے پختہ انتظامات کئے گئے تھے ۔ قومی راجدھانی میں جگہ جگہ سلامتی اہلکار تعینات تھے ۔ اس کے ساتھ ہی پولیس سی سی ٹی وی کیمروں سے ہر سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ دہلی پولیس کے مطابق اس بار یوم جمہوریہ کے موقع پر سلامتی کا بندوبست کافی چیلنجنگ تھا، کیونکہ اس بار یوم جمہوریہ کی تقریب کے بعد کسانوں کی ٹریکٹر ریلی ہونے والی تھی۔ پولیس نے یوم جمہوریہ کے موقع پر کسی طرح کے ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کیلئے قومی راجدھانی میں کرایہ داروں اور نوکری پیشہ افراد کی تصدیق، سرحد پر جانچ، پرانی کاروں کی خرید و فروخت کرنے والے ڈیلروں اور سم کارڈ ڈیلروں کا ویری فکیشن کرنے جیسے انسداد دہشت گردی کے مسلسل کام کئے۔ پولیس کے مطابق ریلوے اسٹیشن، میٹرو اسٹیشن، ہوائی اڈوں اور بس ٹرمینل پر بھی حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے۔ اسی طرح تھانہ کی سطح پر میٹنگ کرکے علاقے کے ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤس اور دیگر اداروں کے گارڈ کو زیادہ چوکس رہنے کیلئے الرٹ جاری کیا۔
ہوٹلوں کے ملازمین کو ہدایت دی گئی کہ وہ احاطے میں کسی بھی مشتبہ شخص یا سرگرمی کی فوراً اطلاع دیں۔ سیکورٹی انتظامات کیلئے تیاریوں کو پوراکرنے کے واسطے مارکیٹ یونین کے ساتھ بھی میٹنگ کی گئی۔ سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے بھیڑ والے مقامات، بازاروں اور مال کی سخت نگرانی کی جارہی ہے ۔اس یوم جمہوریہ کی تقریب میں داخلہ صرف دعوت نامے کے کارڈ/ ٹکٹ سے ہی دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس بار 15برس سے کم عمر کے بچوں کو بھی تقریب کے مقام پر داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔راج پتھ پر پریڈ کی شروعات پرم ویر چکر اور اشوک چکر حاصل کرنے والوں نے کی۔ ان میں صوبیدار میجر یوگیندر سنگھ یادو، پی وی سی 18 گرینیڈیر، صوبیدار سنجے کمار، پی وی سی، 13جموں و کشمیر رائفلز اور اشوک چکر سے نوازے جانے والوں میں لیفٹیننٹ کرنل ڈی شری رام کمار شامل تھے۔ وہیں راج پتھ پر پہلی بار بنگلہ دیش کی مسلح فوج کے 122فوجیوں کے مارچنگ دستے نے بھی اپنی موجودگی درج کرائی۔ اس دستے کی قیادت لیفٹیننٹ کرنل ابو محمد شاہ نور، ڈپٹی لیفٹیننٹ فرحان اشراق اور فلائٹ لیفٹیننٹ سبط رحمان کررہے تھے۔ اس دستے میں بنگلہ دیش کی بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے جوان شامل تھے۔ اس سے قبل سال 2016میں فرانس کے فوجی دستے نے پریڈ کی شان میں اضافہ کیا تھا۔پریڈ میں 18مارچنگ دستوں نے حصہ لیا، جن میں 16 فوجی اور سلامتی نیز ایک گھڑسواروں کا اور ایک اونٹ پر سوار جوانوں کا دستہ تھا۔ پریڈ میں فوج اور سلامتی دستوں کے 36بینڈ نے بھی اپنی موسیقی سے ناظرین کو مسحور کیا۔ وہیں اس سال ریاستوں اور مختلف محکموں کی 32 جھانکیاں بھی راج پتھ پر نکالی گئیں۔ اس کے علاوہ 15برس سے زیادہ عمر کے اسکولی بچوں نے ثقافتی اور آرٹس کے پروگرام پیش کئے ۔
72ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر منگل کے روز راج پتھ پر منعقدہ تقریب میں مختلف لوک فنکاریوں اور ثقافتوں کا انوکھا سنگم نظر آیا۔ہرسال منائے جانے والے جشن یوم جمہوریہ میں راج پتھ پر اس بار مختلف ریاستوں، محکموں اور وزارتوں کی 32جھانکیاں نظر آئیں، جن میں ملک کے ثقافتی اور تاریخی ورثے اور لوک فنکاروں کا انوکھا سنگم دیکھنے کو ملا۔72ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر ریاست جموں وکشمیر کے بجائے نئی تشکیل شدہ مرکزکے زیر انتظام خطے کی جھانکی پہلی بار نکالی گئی تھی، جس میں لداخ کے مختلف تہواروں اور ثقافت کی نمائش کی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی گجرات کی جھانکی میں دنیا کے مشہور موڈھیرا کا سوریہ مندر دکھایا گیا تھا، جس کی تعمیر 1000سال قبل چانکیہ خاندان کے بادشاہ بھیم اول نے کروائی تھی، جس میں شاندار کاریگری، فن تعمیر اور موسیقی کی سجاوٹ کی گئی ہے۔ گجرات کی جھانکی کے بعد آسام کی جھانکی نکلی، جس میں چائے کی صنعت کو دکھایا گیا تھا، جسے ریاستی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔تمل ناڈو کی جھانکی میں پلوا شاہی خاندان کی یادگاریں پیش کی گئیں، جسے سامعین نے خوب سراہا،جبکہ مہاراشٹر کی جھانکی میں توہم پرستی، بنیاد پرستی اور خواتین کے تئیں امتیازی سلوک پر چوٹ کرنے والی انسانی خیالات کی تشہیر کرنے کی سنتوں کی روایت کو دکھایا گیا۔چھتیس گڑھ کی جھانکی میں قبائلی علاقوں میں استعمال ہونے والے لوک آلات کی نمائش ان کے اپنے ثقافتی ماحول کے ساتھ پیش کیا گیا ، جسے راج پتھ پر دیکھ کر سامعین نے تیز آواز کے ساتھ فنکاروں کا خیرمقدم کیا۔اس بار یوم جمہوریہ کے موقع پر راج پتھ پر نکالی گئی اتراکھنڈ کی جھانکی میں کیدارکھنڈ کو دکھایا گیا ہے ، جس میں کیدار ناتھ کے مندر اور چار دیگر نشانیوں کی تصویر کشی کی گئی ہے۔
پنجاب کی جھانکی میں سکھ پیشوا گرو تیغ بہادر جی کے 400ویں پرکاش پرب کو دکھایا گیا ہے۔ اس میں انسانیت، مذہبی بقائے باہمی کو برقرار رکھنے کیلئے ان کی عظیم قربانی کو دکھایا گیا ہے۔ 
تریپورہ کی جھانکی میں ماحول دوست بانس کے روایتی استعمال کو اجاگر کیا گیا تھا۔ تریپورہ کی جھانکی جیسے ہی راج پتھ پر پہنچی، بانس سے کی گئی فنکاریوں کو دیکھ کر ناظرین نے تالیاں بجا کر خیرمقدم کیا۔اس بار کی جھانکی تمام فنکاروں کو ماسک کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اس بار، راج پتھ پر نکالی گئی مغربی بنگال کی جھانکی میں نئی توانائی سے بھرپور نوجوانوں کے سبز دوست دکھایا گیا ہے ۔ اس میں ریاستی حکومت کی طرف سے طلبا کو دیے جانے والی بائی سائیکل دکھائی گئی تھی۔سکم کی جھانکی میں پانگ لیب سول فیسٹیول کو اجاگر کیا گیا تھا، جبکہ اترپردیش کی جھانکی میں اجودھیا کو دکھایا گیا تھا۔ اس میں اجودھیا کی ثقافتی وراثت، اقدار اور خوبصورتی کی ایک حیرت انگیز منظر دکھایا گیا ہے۔ اس بار کی جھانکی میں کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی گئی تھیں اور فنکاروں کی تعداد ہر سال کے مقابلہ میں بہت کم تھی۔اروناچل پردیش کی جھانکی ’ایسٹ میٹس ویسٹ‘پر مبنی تھی، جس میں ان دونوں خطے کے قبائلیوں کے طرز زندگی کو دکھایا گیا تھا۔اس بار راج پتھ پر اسکول کے بچوں کی جھانکی تھی، جس نے ثقافتی اور لوک رقص پیش کرکے حاضرین کا من موہ لیا اور حاضرین نے تالیاں بجا کر بچوں کی حوصلہ افزائی کی۔
ریاستوں کی جھانکیوں کے بعد وزارتوں کی جھانکیاں نکالی گئیں۔ وزارات کی جھانکیوں میں سب سے آگے وزارت الیکٹرانک اور اطلاعاتی ٹکنالوجی کی جھانکی راج پتھ پر گزری۔ خود انحصار ہندوستان کے تھیم پر مبنی وزارت اطلاعاتی ٹکنالوجی کی جھانکی میں A-1روبوٹ کے 3Gماڈل کو پیش کیا گیا۔ وزارت محنت و روزگار کی جھانکی نے لیبر اصلاحات کو اجاگر کیا گیا تھا۔اس بار وزارت آیوش کی جھانکی کا موضوع تھا ’اوجو بھارت، تیجو بھارت‘یعنی صحت مند اور متحرک ہندوستان ۔ اس میں لوگوں کو قوت مدافعت بڑھانے کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔وزارتوں کی جھانکیوں میں سب سے اہم جھانکی محکمہ بائیوٹیکنالوجی، وزارت سائنس وٹکنالوجی کی تھی، جس میں عالمی وبا کورونا وائرس کے حوالے سے ملک میں ویکسین کی تیاری اور طبی تجربے کے عمل کو اجاگر کیا گیا تھا۔وزارتوں کی جھانکیاں نکالنے کے بعد آسمان میں فضائیہ کے جوانوں کی حیرت انگیز کارکردگیوں کا مظاہرہ شروع ہوا، جسے دیکھ کر لوگ دنگ رہ گئے ۔ بہترواں یوم جمہوریہ کے موقع پر پہلی بار جدید ترین جنگی طیارے نے بھی پرواز کی اور لوگوں کو مسحور کردیا۔ فرانس سے خریدا گیا رافیل طیارہ نے حیران کن عمودی چارلی کارنامے سے سامعین کو حیرت زدہ کر دیا، جسے دیکھ کر ناظرین نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا۔آخر میں امن، خوشحالی اور سادگی کی علامت سفید، زعفرانی اور سبز غبارے آسمان میں چھوڑ کر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔